سرینگر میں شہید نوجوان کے جنازے پر طاقت کا وحشیانہ استعمال ، درجنوں زخمی

مقبوضہ کشمیرمیں ہفتہ کو مکمل ہڑتال کی گئی ، گیلانی ،میرواعظ اوریاسین ملک نظربند بھارتی حکومت کے جنگ بندی اعلان کے باوجود بھارتی فورسز نے کشمیریوں کی نسل کشی جاری رکھی ہوئی ہے، حریت رہنماء

ہفتہ جون 17:47

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروں نے آج سرینگر میں ایک شہید نوجوان کے جنازے پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کرکے درجنوں افراد کو زخمی کردیا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق شہید نوجوان قیصربٹ کو بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی ایک گاڑی نے گزشتہ روز سرینگرکے علاقے نوہٹہ میںایک احتجاجی مظاہرے کے دوران نسل کشی کے نئے بھارتی ہتھکنڈے کے تحت جان بوجھ کر کچل دیا تھا۔

اس کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے شہید نوجوان کی نمازجنازہ میں لوگوں کی شرکت اور قتل کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے سرینگر میں کرفیو اور سخت پابندیاں نافذ کردیں۔

(جاری ہے)

تاہم ہزاروں لوگوں نے کرفیو اور پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے قیصر بٹ کی نماز جنازہ پہلے فتح کدل چوک میں اور بعد میں عید گاہ سرینگر میں ادا کی ۔

شرکاء نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے دونوں مقامات پر شرکاء جنازہ پر پیلٹ فائرنگ کی اور آنسو گیس کے گولے داغے جس کے نتیجے میںدرجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ بھارتی فوجیوں نے ایک صحافی محیط احمد کو اپنے پیشہ ورانہ فرض کی انجام دہی کے لیے فتح کدل جاتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا۔

سید علی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے ایک بیان میں قیصر بٹ کو قتل کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ مزاحمتی رہنمائوں نے کہاکہ بھارتی حکومت کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود بھارتی فورسز نے گولیوں، پیلٹز یاگاڑیوںسے کچل دینے کے ذریعے کشمیریوں کی نسل کشی جاری رکھی ہوئی ہے۔ دریں اثناء مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر آج مقبوضہ کشمیر میں معصوم شہریوں کے قتل،، مذہبی مقامات اور شہداء کی قبروں کی بے حرمتی اور بھارتی فوجیوں کی طرف سے علاقے میں بالخصوص جنوبی کشمیرمیں بڑھتے ہوئے مظالم کے خلا ف مکمل ہڑتال کی گئی۔

بھارتی پولیس نے آج سرینگر کے علاقے مائسمہ میں محمد یاسین ملک کے گھر پر چھاپہ مارکر ان کو گرفتار کرلیا۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے میرواعظ عمرفاروق کو آج ان کے گھر میں نظربند رکھا جبکہ سید علی گیلانی پہلے ہی گزشتہ آٹھ سال سے اپنے گھر میں نظربند ہیں۔ حریت رہنمامختار احمد وازہ اسلام آباد قصبے کے شیر باغ تھانے میں مسلسل نظربند ہیں۔

کٹھ پتلی انتظامیہ نے سرینگر اور بڈگام اضلاع میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز معطل کردیں جبکہ کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطے کے بانہال قصبوں کے درمیان ریل سروس بھی معطل کردی گئی۔۔بھارتی پولیس نے گزشتہ روز نئی دہلی میں جموں وکشمیر سالویشن مومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبر بٹ کو اپنی والدہ کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے سے روک دیا۔ امریکہ میں مقیم کشمیری نوجوانوں نے مقبوضہ کشمیر میںپرامن مظاہروں کے دوران بھارتی فورسز کی پیلٹ فائرنگ سے اپنی آنکھوں کی بینائی سے محروم ہونے والے کشمیری نوجوانوں کے لیے فنڈ جمع کرنے کی غرض سے نیویارک میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔