اب صوبوں کی لڑائی نہیں ہوگی۔۔۔

چیف جسٹس نے کالا باغ ڈیم کا شاندار حل پیش کردیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات جون 12:06

اب صوبوں کی لڑائی نہیں ہوگی۔۔۔
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 جون 2018ء) : سپریم کورٹ میں اسلام آباد میں پانی کی قلت پر چیف جسٹس کے از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ ووٹ کی عزت کا مطلب عوام کو بنیادی حقوق دینا ہے۔ صاف پانی اور صاف ہوا کا ہونا لازمی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کالا باغ ڈیم پر لا اینڈ جسٹس کمیشن ایک سیمینار کروائے گا۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران سابق حکو متوں کی جانب سے پانی کے سنگین مسئلہ کو نظر انداز کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے ۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے کالا باغ ڈیم سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم کالا باغ ڈیم پر مکمل بحث کروائیں گے۔

(جاری ہے)

اس معاملے کو جذبات سے نہیں بلکہ تدبر سے دیکھیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پانی سے ہی زندگی کی بقا ہے۔ کالا باغ ڈیم پر صوبوں کو لڑوانا نہیں چاہتے۔ ایڈشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ دارالحکومت کو 58.7 ملین گیلن پانی سپلائی کیا جارہا ہے۔

پانی کی طلب 120 ملین گیلن سے بھی زائد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں پانی سپلائی نہیں کیا جا رہا ۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد میں بھی کراچی کے بعد ٹینکرز بکنے لگ گئے ہیں۔ دارالحکومت میں 1500 روپے کا ٹینکر فروخت ہوتا ہے۔ ناقص پالیسیوں کی وجہ سے سملی ڈیم میں پانی نہیں جا رہا ۔درخت لگانے کا کام بھی صرف کاغذوں میں ہی ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ پانی کا مسئلہ واٹر بم بنتا جا رہا ہے۔

پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ نہیں کیا گیا۔روز بیٹھ کر حکومت کا آڈٹ نہیں کر سکتے۔ مون سون بارشوں کا پانی ضائع ہو جاتا ہے، شہباز شریف نے تسلیم کیا کہ 4ارب روپے لگا کر بھی ایک قطرہ پانی نہیں نکالا‘ آنے والے دنوں میں قوم کیلئے عذاب بن جائے گا، آصف زرداری اور نواز شریف بتائیں انہوں نے پانی کے لیے کیا کیا ‘کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے کی مہم کراچی رجسٹری سے شروع کریں گے، کاش میں پنجابی نہ ہوتا سندھی یا بلوچ ہوتا، ہمیں کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے، معاملے کو جذبات نہیں تدبر سے دیکھیں گے‘دل کرتا ہے ڈیم بنانے اور ملک کا قرضہ اتارنے کیلئے چولہ پہن کر خود جائوں اور چندہ مانگوں۔

سماعت کے دوران بیرسٹر اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ کالا باغ ڈیم کا نام سن کر سندھ اور کے پی کے میں احتجاج شروع ہو جاتا ہے، اتفاق رائے کے بغیر کالا باغ ڈیم نہیں بن سکتا، پیپلز پارٹی دور میں صوبوں کو آئینی ضمانت دینے کی بات کی گئی تو صوبوں نے کہا کہ آئین کی اپنی ضمانت کون دے گا۔۔چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں ہم آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں، ڈیم بنانے سے آخر کس نے روکا ہے، جن ڈیموں پر اختلاف نہیں وہ کیوں نہیں بن رہے، عید کے بعد سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک عدالت کو بریفنگ دیں گے، کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے کی مہم کراچی رجسٹری سے شروع کریں گے، کاش میں پنجابی نہ ہوتا سندھی یا بلوچ ہوتا۔

یاد رہے کہ 4 جون کو چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کالا باغ ڈیم اور پانی سے متعلق دیگر کیسز کی سماعت سپریم کورٹ میں مقرر کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ملک میں پانی کی قلت ہے۔ڈیموں سے متعلق تمام مقدمات آئندہ ہفتے سنیں گے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پانی اور کالا باغ ڈیم سے متعلق تمام کیسز سپریم کورٹ کی رجسٹریوں میں سنیں گے، انہوں نے کہا کہ میں نے 32،32 سال پُرانے کیسز نکالے ہیں۔

پانی کی کمی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کشن گنگا ڈیم سے دریائے نیلم خشک ہو جائے گا، کئی بار کہہ چکا ہوں کہ پانی کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے، ہم نے اپنے بچوں کو پانی نہ دیا تو کیا دیا؟ لہٰذا تمام متعلقہ افراد تیار ہو جائیں۔ کیونکہ ہم پانی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں درخواست گزار نے استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر سیاسی جماعت کے لیے انتخابات سے قبل ڈیمز کی تعمیر کا وعدہ لازمی قرار دیا جائے، انتخابات میں ووٹ کے ساتھ کالا باغ ڈیم پر ریفرنڈم کی پرچی بھی شامل کی جائے جس پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ الیکشن کو کنفیوژ نہ کریں، پاکستان کی بقا پانی پرمنحصر ہے لہذا پانی کے مسئلے پر جو بھی ہو سکا کروں گا، 48 سال سے ملک میں کوئی ڈیم نہیں بنا،جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیے کہ کسی پارٹی کی ترجیحات میں پانی کے مسئلے کاحل نہیں۔

۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ذہن نشین کر لیں آج سے ہماری ترجیحات میں سب سے اہم پانی ہے، اسلام آباد،،، پشاور اور کوئٹہ میں پانی سے متعلق تمام مقدمات سنیں گے۔ سپریم کورٹ کی اولین ترجیح پانی کے مسئلے کا حل ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پانی ہمارے بچوں کا بنیادی حق ہے، کسی پارٹی کے منشور میں بھی پانی کا ذکر نہیں۔۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پانی کی قلت اور ڈیم کی تعمیر سے متعلق تمام مقدمات سنیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ واٹر بم کا معاملہ ہے، بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، پچھلے دنوں بھارت نے کشن گنگا ڈیم بنایا جس سے نیلم جہلم خشک ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے سے زیادہ کوئی ایشو اہم نہیں، تمام مقدمات ہفتے کو سپریم کورٹ رجسٹری کراچی،،، اتوار کو لاہور میں سنیں گے۔قبل ازیں سوشل میڈیا پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔

ایک رپورٹ کے مطابق 2025ء تک پاکستان کی آبادی 25 کروڑ سے بھی تجاوز کر جائے گی اور اتنی آبادی کے لیے پاکستان میں موجود پانی ناکافی ہوگا۔ لہٰذا پانی کی قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کسی مؤثر آبی پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان میں گرمی کے موسم کی شدت اور دورانیہ بھی بڑھتا جا رہا ہے اور پاکستان میں ڈیموں کی کمی کے باعث دریاؤں کا 90 فیصد پانی بھی ضائع ہو جاتا ہے۔

پاکستان نے اب تک جو ڈیم تعمیر کیے ، ان کی مدد سے صرف 10 فیصد پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے، پانی کی یہ مقدار 22 کروڑآبادی رکھنے والے ملک کے لیے ناکافی ہے۔ اس صورتحال میں حکمران تو اب بھی خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوئے، تاہم اب عوام نے اس مسئلے کو حل کروانے کی ذمہ داری خود سنبھالی اور سوشل میڈیا پر ایک بھرپور مہم کا آغاز کیا گیا۔