نگران حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابات پر چھائی بے یقینی کی گرد کو صاف کریں، سراج الحق

اگر یہی صورتحال رہی تو لوگ 24جولائی کو بھی پوچھ رہے ہونگے کہ کیا الیکشن ہونگی الیکشن کمیشن صاف و شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے لیے اپنے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرے اور ایسے لوگوں کو انتخابات سے دور رکھے جو 62/63پر پورے نہیں اترتے ،اگر الیکشن کمیشن نے اسی طرح خاموشی سادھے رکھی تو پہلے کی طرح ایک بار پھر چور لیٹرے ایوانوں پر قابض ہوجائیں گے ،عوام ملک میں نظام مصطفیﷺ کے لیے متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دیں ،حق و باطل کے معرکہ میں غیر جانبدار رہنا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے،امیر جماعت اسلامی پاکستان کا منصورہ میں عید کے بڑے اجتماع سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو

پیر جون 21:20

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ الیکشن کے حوالے سے بے یقینی کی صورتحال ابھی تک برقرار ہے ،،نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ انتخابات پر چھائی بے یقینی کی گرد کو صاف کریں اگر یہی صورتحال رہی تو لوگ 24جولائی کو بھی پوچھ رہے ہونگے کہ کیا الیکشن ہونگی الیکشن کمیشن صاف و شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے لیے اپنے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرے اور ایسے لوگوں کو انتخابات سے دور رکھے جو 62/63پر پورے نہیں اترتے۔

اگر الیکشن کمیشن نے اسی طرح خاموشی سادھے رکھی تو پہلے کی طرح ایک بار پھر چور لیٹرے ایوانوں پر قابض ہوجائیں گے۔عوام ملک میں نظام مصطفیﷺ کے لیے متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دیں۔

(جاری ہے)

حق و باطل کے معرکہ میں غیر جانبدار رہنا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں عید کے بڑے اجتماع سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ الیکشن پر ابھی تک بے یقینی کے گہرے باد ل چھائے ہوئے ہیں اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہونے کے باوجود عوام ابھی تک گومگوں کی صورتحال سے دوچار ہیں ایسے لگتا ہے کہ اگر نگران حکومت اور الیکشن کمیشن نے فوری طور پر عوام کو اعتماد میں نہ لیا تو لوگ 24جولائی کو بھی الیکشن کے متعلق پوچھ رہے ہونگے۔سینیٹر سراج الحق نے امت مسلمہ کی حالت زار پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام اس وقت غلامی سے دوچار ہے۔

امریکہ ابلیسی قوتوں کی سرپرستی کررہا ہے اور اس نے عالم اسلام کے حکمرانوں کو بھی اپنی مٹھی میں بند کررکھا ہے۔عالم اسلام اور پاکستان کے فیصلے مدینہ منورہ یا اسلام آباد میں نہیں واشنگٹن اور نیویارک میں ہوتے ہیں۔۔امریکہ نے افغانستان ،،عراق،،شام میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیااور مسلم ممالک کے وسائل پر قبضہ کیا۔ اب امریکہ نے اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کرکے دنیا کو تباہ کن جنگ کے دھانے پر لاکھڑا کیا ہے۔

انہوںنے کہا کہ امریکہ بھارت اور اسرائیل کی سرپرستی کررہا ہے جس کی وجہ سے اقوام متحدہ بھی اب تک فلسطین اور کشمیر کے مسائل حل نہیں کرسکی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں یہود اور کشمیر میں ہندو مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیںجبکہ برما کے لاکھوں مسلمانوں کو ان کے علاقوں سے نکال دیاگیا ہے اور وہ بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحدوں پر مارے مارے پھررہے ہیں۔

امت کے مسائل کے لیے اتحاد عالم اسلامی ناگزیر ہے،خاص طورپر پاکستان میں ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو عالم اسلام کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھے اور ان کے حل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپٹ اور نااہل حکمرانوں نے ملک کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔۔عید کے دن بھی کراچی میں پانی نہیں اور خیبر پختونخواہ میں خوف کے سائے منڈلارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدل و انصاف اور خیر و برکت صرف اسلامی نظام میں ہے۔اس لیے عوام ملک میں شریعت کے نظام اور آئین کی بالادستی کے لیے متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دیں۔انہوں نے کہا کہ اللہ کے دین کے غلبہ کی جدوجہد سے بڑھ کر کوئی افضل کام نہیں۔عوام حق و باطل کے اس معرکہ میں حق کی قوتوں کے ہاتھ مضبوط کریں ۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں حق و باطل کی کشمکش روز اول سے ہے اور قیامت تک جاری رہے گی اور ہمارا امتحان یہ ہے کہ ہم حق کا ساتھ دیتے ہیں یا باطل کا۔

انہوں نے کہا کہ نمرود کے مقابلہ میں ابراہیم اور فرعون کے مقابلہ میں موسیٰ ؑ کھڑے ہوئے اور آج کے فرعونوں کے خلاف عوام کو متحد ہوکر حق کے ساتھ کھڑاہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام ایم ایم اے کے امیدواروں کو کامیاب کرائیں،ہم وعدہ کرتے ہیں کہ پاکستان کو ایک اسلامی ویلفیئر پاکستان بنائیں گے اور عوام کی 70سالہ محرومیوں کا ازالہ کریں گے۔