مولانا سمیع الحق کے قتل میں ملوث تمام قوتوں کو بے نقاب کیاجائے،مولانا حامد الحق حقانی

ملک کی سالمیت اور مسائل کے حل کے لئے اسلامی نظام قائم کیا جائے ،خطاب

جمعرات دسمبر 21:15

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ اور دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا حامد الحق حقانی نے کہاکہ پردہ باغ پشاور کا یہ عظیم الشان اجتماع شہید ناموسِ رسالت مولانا سمیع الحق کو ان کی علمی دینی ملکی ملی اور قومی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہے ریاست اور اس کے تمام اداروں کی ذمہ داری ہے کہ شہید ناموس رسالت مولانا سمیع الحق کے قتل کی سازش کو بے نقاب کریں ان کے قتل میں ملوث تمام قوتوں کو قوم کے سامنے بے نقاب کریں اور قاتلوں کو گرفتار کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پردہ باغ میں شہید ناموس رسالت مولانا سمیع الحق شہید کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،جس کی صدارت صوبائی امیر مولانا سید محمد یوسف شاہ نے کی، مولانا حامد الحق نے کہاکہ مولانا سمیع الحق نے پاکستان ، اسلام اور نبوی تہذیب کے دفاع پر اپنی پوری زندگی گزاری، حکومت پاکستان ان کے لئے شہید پاکستان کا اعزاز دینے کا اعلان کرے ،انہوں نے کہاکہ پاکستان میں قائم سیاسی عدالتیں اور معاشرتی نظام ناکام ہوچکے ہیں ملک کی سالمیت اور مسائل کے حل کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ یہاں اسلام کا عادلانہ نظام قائم کیا جائے یہ ہماری جدوجہد کی منزل ہے ،موجودہ نظام کے محافظ اپنے نظام کی شکست کو تسلیم کرے اور اسلامی نظام کے راستے سے ہٹ جائیں،جمعیت کے کارکن ناموس رسالت ،عقیدہ ختم نبوت اور آئین پاکستان کی اسلامی دفعات کی ہر قیمت پر حفاظت کریں، قادیانی اسلام پاکستان اور آئین پاکستان کے باغی ہیں ان کے ساتھ باغیوں کے قانونی سلوک کیا جائے، اسلامی تحریک کو دینی جماعتوں اور محب وطن سیاسی کارکنوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مولانا سمیع الحق کے مشن کو جاری رکھیں اور پاکستان کی سالمیت اس کے جغرافیہ اور نظریہ کی حفاظت کے لئے مشترکہ جدوجہد کریں،کانفرنس سے جمعیت کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالروف فاروقی، مرکزی نائب امیر مولانا عبدالخالق، صوبائی امیر مولانا سید یوسف شاہ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری شاہ عبدالعزیز مجاہد، عظیم سکالر مولانا عبدالقیوم حقانی،مولانا عرفان الحق ، جبکہ اسٹیج پر مولانا راشد الحق حقانی ، فاٹا کے امیر مولانا عبدالحئی حقانی، مولانا سعید الرحمن دیروی، بابائے جمعیت مولانا عبدالحلیم مجاہد، مولانا عرفان الحق حقانی، مولانا عبدالحسیب حقانی، صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا محمد اسرائیل، جمعیت کے سرپرست مولانا عبدالواحد، مفتی ظفرزمان حقانی، مولانا محمد طیب قریشی، مولانا ارشد علی قریشی، مولانا اسامہ ،مولانا صاحب حسین ، دارالعلوم کے بزرگ ہستی خیرالبشر حقانی، مولانا امام محمد،بنوں کے مفتی عبدالغنی،شیخ الحدیث مولانا عبدالحمید، اور دیگر موجود تھے ،مولانا حامد الحق حقانی نے کہاکہ کہ ائمہ مساجد اسلام اورپاکستان کے دشمنوں کو واضح پیغام دیں کہ اسلام کے نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں پر کسی کو حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ، مولانا حقانی نے کہاکہ امریکہ اپنے گرتے ہوئے نظام کو سنبھالے، پاکستان اور مسلمانوں کو اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کا لیکچر نہ دے، اسلام سب سے بڑا محافظ ہے اقلیتوں کے حقوق کا او رامریکہ سب سے بڑا مجرم ہے دنیا میں امن و سلامتی کے نظام کا ،انہوں نے کہاکہ مہنگائی ،قتل و غارت گری ،قومی خزانے کی لوٹ مار،پاکستان کو قرضوں کے بوجھ سے آزاد کرانے کے لئے ضروری ہے اسلامی شرعی نظام کے ذریعہ،پولیس ،عدلیہ اوردیگر تمام حکومتی اداروں کی اصلاح کی جائے ۔

(جاری ہے)

مولانا حقانی نے کہا قانون تحفظ ناموس رسالت میں کوئی تبدیلی کی گئی یا اسے غیر موثر بنانے کی کوشش کی گئی تو جمعیت کے کارکن مزاحمت کریں گے،توہین رسالت کے مرتکب افراد کو سزائے موت دی جائے، خصوصاً مسیحی خاتون آسیہ معلونہ کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور سپریم کورٹ کی طرف سے اسے بری کئے جانے کے فیصلے کو واپس لیا جائے،کانفرنس جمعیت کے صوبائی سرپرست مولانا عبدالواحد کی دعا پر اختتام پذیر ہوا ۔