Live Updates

ارشاد رانجھانی کے قتل کے واقعہ نے مجھے ہلاکر رکھ دیا ،کیسی بے حسی ہے اسے کھلے عام مارا گیا ویڈیو بھی بنائی گئی مگر کسی نے اسے اسپتال نہیں پہنچایا، وزیراعلیٰ سندھ

سندھ کو پولیس اسٹیٹ نہیں بننے دوں گا، ذمہ دار پولیس والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی ،آئی جی کو سخت ہدایات دیدی ہیں،سندھ میں پی ٹی آئی کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی اسی صورت میں دی جاسکتی ہے کہ پہلے عمران خان میثاق جمہوریت پر دستخط کریں،سیدمرادعلی شاہ

پیر فروری 22:39

ارشاد رانجھانی کے قتل کے واقعہ نے مجھے ہلاکر رکھ دیا ،کیسی بے حسی ہے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 فروری2019ء) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ارشاد رانجھانی کے قتل کے واقعہ نے مجھے ہلاکر رکھ دیا ہے،کیسی بے حسی ہے کہ اسے کھلے عام مارا گیا وڈیو بھی بنائی گئی مگر کسی نے اسے اسپتال نہیں پہنچایا، میں سندھ کو پولیس اسٹیٹ نہیں بننے دوں گا، ذمہ دار پولیس والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی ،آئی جی کو سخت ہدایات دیدی ہیں اگر انہوں نے کچھ نہ کیا تو ان کے خلاف بھی ایکشن لوں گا، سندھ میں پی ٹی آئی کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی اسی صورت میں دی جاسکتی ہے کہ پہلے عمران خان میثاق جمہوریت پر دستخط کریں ۔

انہوں نے یہ بات پیر کو سندھ اسمبلی میںایم ایم اے کے عبدالرشید کا ایک نکتہ اعتراض کے موقع ایوان میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہی۔

(جاری ہے)

ایم ایم اے کے رکن عبدالرشید کا کہنا تھا کہ ارشاد رانجھانی نامی شخص کے بیہمانہ نداز میں قتل کیا گیا اور اسے اسپتال نہیں لے جایا گیا،اس قتل کا زمہ دار کون ہی ملیر پولیس پہلے ہی شوٹر کے طور پر مشہور ہے ،اس پر فوری کارروائی اور قانون کے مطابق ملوث عناصر سزا ہونی چاہیے۔

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ پولیس آرڈر پربات کروں گا تو توہین عدالت ہوجائیگی،میںنے 24گھنٹے کے اندرجوڈیشل کمیشن بنانے کی بات کی ،چیف سیکریٹری کو کمیشن بنانے کے لئے کہا۔انہوں نے کہا کہ اس قتل میں پولیس بھی شامل ہے اور واقعہ میں پولیس کی سفاکیت سامنے آئی ہے۔وزیر اعلی سندھ کا کہنا تھا کہ واقعہ4.45 پر پیش آیا5بجے پولیس پہنچی45منٹ میں اس کو تھانے لے جایا گیا6.30پراسے جناح اسپتال لے جایا گیا،کہا گیا کہ اس کے اوپر ایف آئی آرہے توکیا جس کسی پر ایف آئی آرہو اس کو ماردیا جائی انہوں نے کہا کہ انسانیت ختم ہوگئی ہے،اللہ کا خوف ختم ہوگیا ہے ،آئی جی سمیت سب کو کہہ دیا ہے یہ پولیس اسٹیٹ نہیں ہے نہ ہم پولیس اسٹیٹ بننے دیں گے۔

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ پنجاب میں آئی جی پانچ چھ مرتبہ تبدیل ہوجاتا ہے ،اسلام آباد میں بھی تبدیل ہوجاتا ہے لیکن ہمارے ہاں نہیں ہوتا کیونکہ سندھ کے لئے الگ قانون ہے ،ہم پولیس لا بنارہے ہیں ،پولیس اپنے لوگوں کے تحفظ کے لئے ہوتی ہے ،مجھے اس واقعے نے ہلادیا ہے ،پولیس انسان بنے۔ پولیس کا مائینڈ سیٹ تبدیل کرنا پڑیگا۔انہوں نے کہا کہ اگرضرورت پڑی تو خود ایف آئی آرداخل کروانگاپانچ گولیاں لگنے والے کو اسپتال نہیں تھانے لے جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑی باتیں کی جاتی ہیںعمران خان آئیں ہمارے اورمیاں نوازشریف کے ساتھ نیا چارٹرآف ڈیموکریسی سائن کریں پھر سندھ اسمبلی میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کی بات کریں۔انہوں نے کہا کہارشاد رانجھانی کا واقعہ بہت دردناک ہے جیسے ہی پتہ چلا فورا اس پر تحقیقات کا حکم دیا۔انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات کے بعد پولیس میں نام نہاد خود مختاری آگئی ہے ،کہا جاتا ہے سیاسی پریشر آتا ہے مگر پولیس نے کوئی اثر نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ بندہ چاہے چور ہے یا کچھ بھی ہے مگر سمجھتا ہوں خود پولیس قتل میں ملوث ہے۔ وہ بندہ تڑپ رہا ہے پانچ گولیاں لگی ہیں مگر پولیس یہ ضروری نہیںسمجھتی کہ گولیاں مارنے والا گرفتار کیا جائے ،اسے پانچ گولیاں آرپار ہوئیں پانچ گولیاں لگے شخص کو تھانے لے جایا جاتا ہے اور اس کے بعد ساڑھے چھ بجے جب مرجاتا ہے اسے اسپتال لے جاتے ہیں۔

وزیر اعلی نے کہا کہ ان میں اللہ کا خوف ختم ہوگیا ہے ان کی وجہ سے ساہیوال والا واقعہ ہوا پھر بھی احساس نہیں ہوا۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سارے پولیس والے اچھے یا خراب نہیں لیکن ہم صوبہ کوپولیس اسٹیٹ نہیں بننے دیں گے یہاں صرف عوام کی حکمرانی ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ کورٹ کی عزت ہے مگر ہمارے ہاں ایک۔قانوں پنجاب میں دو مرتبہ آئی جی تبدیل ہوتا ہے ایک فون پر بھی آئی جی ہٹ رہے ہیں سندھ کے لیئے اور قانون ہیں۔

ہم سپریم کورٹ گئے مگر نظرثانی کی درخواست نہیں لی گئی ۔انہوں نے کہا کہ یہ پولیس اسٹیٹ نہیں آرمی دشمنوں سے لڑتی ہے پولیس عوام کی محافظ ہے فرق دیکھنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاںقانون میں ایسی کوئی بات نہیںکہ اپوزیشن کو پبلک اکانٹس کمیٹی دیدی جائے، شہباز شریف نے بلاول بھٹو کے ساتھ میثاق جمہوریت کیا ہے ۔ جب قومی اسمبلی میں ایسا نہیں چلتا بلکہ افہام و تفہیم سے معاملات چلتے ہیں تو پھرعمران خان بھی آئیں سی او ڈی پر دستخط کریں ہم پی اے سی دے دیں گے لیکن ہم کسی کی ڈکٹیشن نہیں قبول کریں گے۔ ایم کیو ایم ہماری اتحادی رہی ہے لیکن چارٹرآف ڈیموکریسی میں شامل نہیں تھی۔وزیر اعلی کے خطاب کے بعد اسپیکر نے سندھ اسمبلی کا اجلاس بدھ 27فروری تک ملتوی کردیا۔
بلاول بھٹو کی شعلہ بیانی سے متعلق تازہ ترین معلومات