مسئلہ کشمیر کے معاملے پر پوری قوم متحد اور متفق ہے‘

کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے پر بھارت کے اندر سے بھی مودی حکومت کی مخالفت شروع ہو چکی ہے‘ حالیہ بھارتی اقدامات سے مسئلہ کشمیر دنیا کے سامنے مزید ابھر کر سامنے آیا ہے‘ دنیا بھر کی پارلیمنٹس میں مسئلہ کشمیر پر آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں‘ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو پوری قوت سے اٹھایا ہے ،ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی‘ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایوان کی تمام قابل عمل تجاویز کو من و عن تسلیم کریں گے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا قومی اسمبلی میں ارکان کے اٹھائے گئے نکات پر اظہارخیال

بدھ دسمبر 21:46

مسئلہ کشمیر کے معاملے پر پوری قوم متحد اور متفق ہے‘
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 دسمبر2019ء) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے معاملے پر پوری قوم متحد اور متفق ہے‘ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے پر بھارت کے اندر سے بھی مودی حکومت کی مخالفت شروع ہو چکی ہے‘ حالیہ بھارتی اقدامات سے مسئلہ کشمیر دنیا کے سامنے مزید ابھر کر سامنے آیا ہے‘ بھارتی طفل تسلیاں دم توڑ گئی ہیں‘ دنیا بھر کی پارلیمنٹس میں مسئلہ کشمیر پر آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں‘ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو پوری قوت سے اٹھایا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی‘ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایوان کی تمام قابل عمل تجاویز کو من و عن تسلیم کریں گے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں احسن اقبال راجہ پرویز اشرف اور عبدالاکبر چترالی اور دیگر کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر ایسا مسئلہ ہے جس پر پوری قوم ایک اور ایوان غیر منقسم ہے۔

(جاری ہے)

اس پر ایوان پانچ اگست کے بھارتی اقدام کی قرارداد کے ذریعے مذمت کر چکا ہے۔ ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ کشمیر کے مسئلے پر ہم میں کوئی ابہام اور کوئی کمزوری اور کسی قسم کی تقسیم نہیں ہے۔

گزشتہ 72 سالوںسے یہ مسئلہ کسی نہ کسی صورت میں زیر بحث رہا ہے۔ پانچ اگست کے بعد بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے بعد حکومت نے اپوزیشن کے تعاون سے اس کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ہے۔ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدامات نے دنیا کے سامنے اس مسئلہ کو مزید اجاگر کردیا ہے۔ بھارت نے نہرو اور گاندھی کے موقف سے انحراف کیا ہے۔

محبوبہ مفتی ‘ عمر عبداللہ سمیت بھارت کی ماضی میں دیگر ہمنوا طاقتوں نے بھی بھارت کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے۔ ہم نے دنیا پر باور کردیا ہے کہ کشمیر متنازعہ مسئلہ تھا اور ہے۔ 48 سال بعد اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا۔ بھارت کی بے پناہ کوششوں کے باوجود یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں زیر بحث لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس کی انسانی حقوق کی دو کمیٹیوں کے دو اجلاس ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کانگریس میں مسئلہ کشمیر اور وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو زیر بحث لانے کے لئے قرارداد جمع کرادی ہے۔ اس طرح برطانوی دارالعوام کے 54 ارکان نے مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی طفل تسلیاں دم توڑ گئی ہیں کیونکہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے دورے میں رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔ مسئلہ کشمیر ایران‘ فرانس‘ اقوام متحدہ سمیت دنیا کی پارلیمنٹس میں زیر بحث آرہا ہے۔

واشنگٹن ‘ نیویارک‘ لندن ‘ پیرس‘ کینیڈا‘ بارسلونا اور لندن نے ہمارے موقف کی تائید کی اور بھارتی موقف کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹیوں اور کشمیر کمیٹی کو ہر ممکن طریقے سے آگاہ رکھنے کی میں نے کوشش کی۔ میں نے دونوں کمیٹیوں کے چیئرمینوں فاروق نائیک‘ مشاہد حسین ‘ جنرل (ر) عبدالقیوم‘ آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کو پل پل کی خبر دی اور تمام امور اور اقدامات سے آگاہ رکھا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سائیڈ لائن ملاقاتوں کا بین الوزارتی اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جنیوا میں ہیومن رائٹس کونسل سے بھی رجوع کیا اور حقائق بتائے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں پورے شد و مد سے مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اٹھایا۔ ہم نے 70 سے زائد سربراہان مملکت‘ وزراء اعظم اور وزراء خارجہ سے اقوام متحدہ میں اس مسئلہ پر بات کی۔

کشمیر کے معاملے پر بھارت خود تقسیم کا شکار ہے۔بی جے پی کے اندر بھی تقسیم پائی جاتی ہے۔ ہندو توا کی سوچ مسلط کرنے پر بھارت کے اندر سے مخالفت آرہی ہے۔ انہوں نے پورے ایوان کو دعوت دی کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنی رائے دیں اس میں ہم سب ایک ہیں‘ ہم نے مل کر آگے بڑھنا ہے اور اس مسئلہ کو حل کرنا ہے۔ ایوان کی تمام قابل عمل تجاویز من و عن تسلیم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں کو کم تر نہ سمجھا جائے ورنہ اس کاز کو نقصان پہنچے گا۔ احسن اقبال کے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نہ اٹھانے پر بھارت کو عالمی سطح پر سبکی اٹھانا پڑ رہی ہے۔ بھارت نے کئی بار مختلف علاقوں سے کرفیو اٹھانے کی کوشش کی تاہم احتجاجی مظاہروں کے خوف سے کرفیو نہ اٹھایا جاسکا۔

مقبوضہ کشمیر میں کمیونیکیشن بلیک آئوٹ ہے۔ ٹی وی اور انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے۔ ہم ریڈیو کے ذریعے کشمیری عوام کے کانوں تک وہ آوازیں پہنچا رہے ہیں کہ پاکستان ان کے لئے کیا کر رہا ہے اور پاکستان کا موقف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بعض علاقوں میں کرفیو میں نرمی کی کوشش کی تو گیارہ سو احتجاج ریکارڈ ہوئے۔ شہادتیں ہوئیں۔

مقبوضہ کشمیر کے ہسپتالوں پر ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری نہ کرنے کی پابندی ہے۔ بھارتی میڈیا کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ بھارت کے اپوزیشن لیڈر کو دورے کی اجازت نہیں ملی۔ اسی طرح نو رکنی پارلیمانی وفد کو بھی سرینگر سے واپس کیا گیا۔ ہندوستان کو خوف ہے کہ اگر کرفیو اٹھایا گیا تو ان کا پورا لبادہ اتر جائے گا۔ نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں سرمایہ کاری کانفرنس کی کوشش کی لیکن انہیں منہ کی کھانی پڑی۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کو احسن اقبال نے مردہ گھوڑا قرار دیا جو درست نہیں ہے۔ ہمیں دوستوں کو دشمن بنانے کی ضرورت نہیں ہے‘ یہ پاکستان اور کشمیر کاز کے لئے اچھا نہیں ہے اور نہ ہی اس سے پاکستان اور کشمیر کاز کی خدمت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دارالخلافوں کے دوروں کی تجویز دی گئی ہے لیکن اس سے بھی اچھے طریقے موجود ہیں۔

دوحہ میں قیام کے دوران انہوں نے خود چھ وزراء خارجہ سے ایک ہی دن میں ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اراکین کو تقاریر کی بجائے تجاویز اور عملی اقدامات کے لئے آگے آنا چاہیے۔ خصوصی ایلچیوں کو ماضی میں بھی بھیجا گیا تھا لیکن ان کا اتنا فائدہ نہیں ہوا۔ ماضی کے تجربات کے بعد ہم نے تجویز کیا ہے کہ بے ہنگم وفود کی بجائے خصوصی توجہ کے ذریعے ایسے گروپ بنائے جائیں جس میں سینٹ اور قومی اسمبلی کے نمائندے ہوں‘ اس کے علاوہ کشمیر کے امور کے ماہر اور تھنک ٹینک کے نمائندے ہونے چاہئیں تاکہ پاکستان کا موقف احسن انداز میں پیش ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے عوام کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ ٹی ٹونٹی نہیں یہ ٹیسٹ میچ ہے اور انشاء اللہ اس میں پاکستان کو کامیابی ملے گی۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فاضل ارکان نے یہ درست نہیں کہا کہ کشمیر کے حوالے سے ہمارا موقف مسترد کردیا گیا ہے۔ کشمیر کو عالمی سطح کا تنازعہ تسلیم کرلیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی ثالثی بھارت نے قبول نہیں کی۔ اس لئے وہ ثالث نہیں ہیں۔ ہم نے انسانی حقوق اور حق خودارادیت دونوں پہلوئوں کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 15,16 ماہ کے دوران مسئلہ کشمیر بھرپور انداز میں اٹھایا ہے۔ ان لوگوں نے چالیس چالیس سال حکومتیں کی ہیں یہ موازنہ کرلیں انہیں آئینہ نظر آجائے گا۔