دہشتگردوں کے ماسٹرمائنڈ کا تعلق افغانستان کےعلاقے قندھار سے تھا

دہشت گرد حملے کے ماسٹرمائنڈ سے قندھار میں رابطے میں تھے، دہشتگردوں کے موبائل فون سے افغانستان کی کالز ٹریس ہوئیں: ذرائع

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ بدھ جولائی 00:06

دہشتگردوں کے ماسٹرمائنڈ کا تعلق افغانستان کےعلاقے قندھار سے تھا
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔30 جون 2020ء) دہشتگردوں کے ماسٹرمائنڈ کا تعلق افغانستان کےعلاقے قندھار سے تھا، دہشت گرد حملے کے ماسٹرمائنڈ سے قندھار میں رابطے میں تھے، ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کے موبائل فون سے افغانستان کی کالز ٹریس ہوئی ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پردہشتگردوں کے حملہ کی تحقیقات میں پیشرفت ہوئی ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق دہشتگردوں کے ماسٹرمائنڈ کا تعلق افغانستان کےعلاقے قندھار سے تھا، دہشت گرد حملے کے ماسٹرمائنڈ سے قندھار میں رابطے میں تھے جبکہ دہشتگردوں کی مزید کالز کا ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

کراچی پولیس نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) پر گزشتہ روز ہونے والے حملے کا مقدمہ درج کر لیا ہے‘ مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ایس ایچ او میٹھادر رضوان پٹیل کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا‘پولیس نے مقدمے میں 3/4/5 ایکسپلیوزیو ایکٹ، انسداد دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، سندھ آرمز ایکٹ سمیت دیگر دفعات شامل کی ہیں. مقدمے میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور دہشت گردوں سے مقابلے میں چار دہشت گرد مارے گئے جبکہ کورٹ پولیس کا سب انسپکٹر محمد شاہد کی لاش میں گیٹ کے پاس پڑی تھی اور چیک پوسٹ کے قریب ہی دو سیکیورٹی گارڈز کی لاشیں بھی تھیں. پولیس نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کچھ فاصلے پر ریپڈ رسپانس فورس (آر آر ایف) کے دو جوان امتیاز علی اور شہزاد زخمی پڑے تھے جبکہ اسٹاک ایکسچینج کے داخلی دروازے کے ساتھ ایک دہشت گرد کی لاش اور دوسرے دہشت گرد کی لاش درخت کے قریب پڑی تھی. مقدمے میں دہشت گردوں سے ملنے والے اسلحے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوع سے بڑی تعداد میں دستی بم، لانچر، رائفل، گرینیڈ، گولیاں، میگزین، کھانے پینے کا سامان، ایس ایم جیز، کٹ بیگ، پانی کی بوتلیں اور دیگر گولہ بارود ملا‘خیال رہے کہ کراچی میں گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی بڑی کارروائی کو ناکام بناتے ہوئے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کی عمارت پر حملے کی کوشش کرنے والے چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا‘دہشت گردوں کے حملے میں ایک پولیس اہلکار اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 2 سیکیورٹی گارڈ شہید ہوئے تھے.محکمہ انسداد دہشت گردی کراچی کے انچارج راجہ عمر خطاب نے بتایا ہے کہ 4 حملہ آوروں میں سے 3 کی شناخت فنگر پرنٹس کے ذریعے سلمان، تسلیم بلوچ اور سراج کے ناموں سے ہوگئی ہے. انہوں نے بتایا کہ تینوں کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ سے تھا‘ ایک دہشت گرد کو ان کی گاڑی سے 25 فٹ، دوسرے کو 26 فٹ، تیسرے کو 300 فٹ اور چوتھے کو 312 فٹ کی دوری پر ہلاک کیا گیا.