خورشیدشاہ کے خلاف آمد سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت وکلا،ْ کی ہڑتال کے باعث 5اکتوبرتک ملتوی

مجھے ایک سال سے بلاجواز قید کرکے رکھا ہے ، میری گرفتاری کی آج سالگرہ ہے، ہمارے حکمرانوں کی کوئی پالیسیاں نہیں ہیں،خورشیدشاہ یہ لوگ قرضے لیکر ملک چلارہے ہیں،اپوزیشن کی تمام جماعتوں کومل کر چلنا چاہئے ورنہ ریاست کا نقصان ہوگا،، ہر چیز کا سامنا کرنے کیلئے موجود ہوں، میڈیا سے گفتگو

جمعہ ستمبر 16:47

خورشیدشاہ کے خلاف آمد سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت وکلا،ْ کی ہڑتال ..
سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 ستمبر2020ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما سیدخورشید احمدشاہ نے کہا ہے کہ مجھے ایک سال سے بلاجواز قید کرکے رکھا ہے ، میری گرفتاری کی آج سالگرہ ہے، ہمارے حکمرانوں کی کوئی پالیسیاں نہیں ہیں،یہ لوگ قرضے لیکر ملک چلارہے ہیں،اپوزیشن کی تمام جماعتوں کومل کر چلنا چاہئے ورنہ ریاست کا نقصان ہوگا،میں ہمیشہ جوڑ کرتا ہوں توڑ نہیں، ہر چیز کا سامنا کرنے کیلئے موجود ہوں، باہر نہیں جائوںگا۔

جمعہ کوپیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت سکھر کی احتساب عدالت میں ہوئی، جج فرید انور قاضی نے سماعت کی۔پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کو احتساب عدالت سکھر میں پیش کیا گیا اورخورشید شاہ کو این آئی سی وی ڈی اسپتال سے بذریعہ ایمبولینس لایا گیا،خورشید شاہ کی گرفتاری کو ایک سال مکمل ہوگیا اور نیب حراست میں ایک سال مکمل ہونے پر جیالوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیںتاہم وکلا کی ہڑتال کی وجہ سے کیس کی سماعت نہ ہو سکی اور عدالت نے سماعت 5اکتوبر تک ملتوی کردی۔

(جاری ہے)

بعد ازاں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہاکہ آج میری گرفتاری کی سالگرہ ہے، آج بار کونسل کی اسٹرائیک کی وجہ سے وکلا پیش نہ ہوئے، عدالت نے مجھے آزاد کرنے کا حکم دیا تو نیب والے ہائی کورٹ چلے گئے،میرے علاوہ سکھر کے باسی لاوارث ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرا حلقہ مسائل کاگڑھ بن چکا ہے،میں اپنے حلقے کی آواز بھی ایوان میں نہیں اٹھا پا رہا ہوں ۔

میں نے سکھر والوں کی32 سال خدمت کی ہے،میں ایسا سیاستدان ہوں کہ کبھی باہر ٹوئر پر نہیں گیا، ہر چیز کا سامنا کرنے کیلئے موجود ہوں، باہر نہیں جائوں گا۔انہوں نے کہاکہ جوائنٹ سیشن میں اپوزیشن کی تعداد 192 تھی، لیکن اتنے شریک نہ ہوئے، اپوزیشن کو ایک پیج پر آنا ہوگا، یہ وقت کی ضرورت ہے، حکومت کو بھی کرپشن کرپشن کا شور اب ختم کرنا ہوگا، حکومت میں بیٹھے زی شعور لوگوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ریاست پاکستان کیلئے اپنا کردار ادا کریں، آج ہماری لیڈر شپ کمزور ہونے کی وجہ سے ہندوستان ہر آئے روز پاکستان پر حملے کر رہا ہے، ہم روز ایک تھپڑ کھاکر کہتے ہیں کہ دوسرا تھپڑ مار کر دکھائے،پہلے حکمران جیسے بھی تھے لیکن ہندوستان کو ہمت نہ ہوئی کہ کشمیر پر قبضہ کرسکے،ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرلیا لیکن ہمارے حکمران کچھ نہیں کرسکے،شہید ذوالفقار علی بھٹو وہ لیڈر تھے جس نے اندرا کو کہا کہ 100 سالوں تک جنگ کروں گا۔

خورشید شاہ نے کہا کہ کورونا ایک وبا ہے، یہ شخص قرضوں اور پیسوں کی وجہ سے کورونا کو رحمت سمجھتا ہے، وزیراعظم کے قول فعل میں تضاد ہے، جو وعدے کیے پورے نہیں ہوئے، آرٹیکل 62 اور 63 سب سے پہلے وزیراعظم پر لگتا ہے،میری آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے،میرے کوشش ہے کہ میں ہمیشہ جوڑ کرتا ہوں توڑ نہیں۔واضح رہے کہ ایک سال قبل آج ہی کے دن آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں نیب نے خورشید شاہ کو گرفتار کیا تھا۔ نیب سکھر نے اسلام آباد میں خورشید شاہ کو بنی گالہ میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔