کراچی والوں کو صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے پہلے ہی کوئی امید نہیں ہے،مصطفی کمال

آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان کی کراچی آمد اور مسائل کے حل میں دلچسپی لینے سے جو امید جاگی ہے وہ مایوسی میں تبدیل نہیں ہونی چاہئے نئے واقعات کے رونما ہوتے ہی حکمران کراچی کو بھول گئے، وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ 1150 ارب روپے کے پیکیج کا کچھ پتہ نہیں،پریس کانفرنس سے خطاب

بدھ ستمبر 17:28

کراچی والوں کو صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے پہلے ہی کوئی امید نہیں ہے،مصطفی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 ستمبر2020ء) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کراچی والوں کو صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے پہلے ہی کوئی امید نہیں ہے، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف جسٹس آف پاکستان کی کراچی آمد اور مسائل کے حل میں دلچسپی لینے سے جو امید جاگی ہے وہ مایوسی میں تبدیل نہیں ہونی چاہئے، نئے واقعات کے رونما ہوتے ہی حکمران کراچی کو بھول گئے، وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ 1150 ارب روپے کے پیکج کا کچھ پتہ نہیں۔

کراچی کے مسائل حل کرنے کے بجائے دوبارہ نئے سانحے کا انتظار کیا جارہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے بدھ کو پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی صدر انیس قائم خانی اور اراکینِ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و نیشنل کونسل بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔

(جاری ہے)

مصطفی کمال نے کہا کہ کراچی کو پیکج دینا ایسا ہے کہ مزدور سے اس کی تنخواہ چھین کر بریانی کی تھیلی تھما دی جائے اور ساتھ ساتھ تصویر بھی کھنچوائی جائے کہ ہم نے مظلوم کی مدد کی۔

کراچی کو اسکی تنخواہ دے دو، وہ خود بھی کھانا کھالے گا اور سارے ملک کو پہلے بھی کھلا رہا ہے اور اب بھی کھلائے گا۔ کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے اور کراچی کی بربادی پاکستان کی بربادی ہے۔ پی ایس پی کے پیش کردہ 6 نکات میں ہی کراچی سمیت پورے پاکستان کے مسائل کا حل ہے، مقتدر حلقوں کو پاکستان کی ترقی کی خاطر آج نہیں تو 50 سال بعد بھی ہماری یہی بات ماننی پڑے گی کیونکہ اسکے علاہ کوئی حل نہیں ہے۔

انہوںنے کہا کہ کراچی میں مسائل حل نہیں ہوئے تو لوگ اداروں کو مورد الزام ٹھہرائیں گے۔ ہمارے ملک کی المناک حقیقت یہ ہے کہ جب بھی بلدیاتی حکومتوں کو اختیارات دیئے گئے وہ آمروں نے دیئے جبکہ نام نہاد جمہوریت کے دعویداروں نے ہمیشہ عوام کے حقوق غضب کر کے رکھے حتی کہ بلدیاتی انتخابات تک سپریم کورٹ کی مداخلت سے ہوتے ہیں، دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں بلدیاتی حکومتوں کو ایک دن کیلئے بھی غیر فعال نہیں کیا جاتا۔

اہم سے اہم مسائل کو لسانی سیاست کی نظر کر دیا گیا ہے، سندھی ہمارے بھائی اور انصار ہیں لیکن پیپلز پارٹی اپنی تعصب زدہ اور کرپٹ حکومت کو طول دینے کے لیے صوبے میں خونی سیاست کرتی ہے، جس کی وجہ سے نفرتوں میں اضافہ ہوتا ہے، دھرتی ماں کو بچانے کی باتیں کرنے والوں نے دھرتی ماں کے دل کراچی کو 7 حصوں میں کاٹ ڈالا ہے۔ انگریز یہاں سے چلے گئے لیکن اپنا بنایا ہوا غلامی کا نظام یہیں چھوڑ گئے، پیپلز پارٹی کمشنرز کے ذریعے اسی نظام کو چلا رہی ہے جبکہ مہاجروں کے نام نہاد نمائندے پیپلز پارٹی کی تعصب زدہ سیاست سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبے کا نعرہ لگا کر اپنی کرپشن کو چھپانے کی خاطر مہاجروں کو سندھیوں کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔

اندرون سندھ آباد لاکھوں مہاجروں کو نیا صوبہ نہیں چاہیے۔ نئے صوبے کا نعرہ لگانے والے نام نہاد مہاجر لیڈران صوبائی اسمبلی میں نئے صوبے کے لیے ایک تقریر کرنے کی ہمت نہیں رکھتے، صوبے کا چورن ہمیشہ اسمبلی کے باہر بیچتے ہیں کیونکہ صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں صوبہ بنانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے جو انکے پاس نہیں ہے۔

انہوںنے کہا کہ کراچی کو ٹھیک گنا جائے اور اس تناسب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستیں دی جائیں۔اٹھارویں ترمیم میں ملنے والے اختیارات وزیر اعلی ہاس سے نکال کر ڈسٹرکٹ اور یوسی کی سطح پر منتقل کیے جائیں۔این ایف سی ایوارڈ کی طرز پر پی ایف سی ایوارڈ کا اجرا یقینی بنایا جائے۔. کراچی کو 7 ڈسٹرکٹس کے بجائے 1 ڈسٹرکٹ کی صورت میں بحال کیا جائے۔

کراچی ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کو تمام اختیارات واپس کر کے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے علیحدہ کر کے بحال کیا جائے۔ کراچی سمیت ملک بھر میں تمام ایجنسیوں کے بلدیاتی امور منتخب میئرز کو دیئے جائیں جبکہ لینڈ کا اختیار انہی ایجنسیز کے پاس رہی.۔انہوںنے کہا کہ کراچی عمارتوں کا جنگل بن گیا ہے تمام گھروں کو فلیٹس میں تبدیل کر دیا گیا ہے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں رشوت کا بازار گرم ہے، جو سندھ حکومت کے لیے پیسے کمانے کی مشین بنا ہوا ہے، پاکستان اور خصوصا سندھ کی بااختیار شخصیت منظور کاکا کے ذریعے معاملات چلا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلدیہ فیکٹری کے فیصلہ سے پاک سرزمین پارٹی کے موقف کو تقویت پہنچی ہی. ایک چرسی جسے زبیر چریا بیک وقت تین جگہ نظر آرہا تھا، اسکی گواہی پر فیصلہ دینا ظلم ہے۔ بلدیہ فیکٹری کیس میں جنہیں قاتل قرار دیا گیا وہ قاتل نہیں ہیں۔ فیکٹری مالکان خود قصور وار ہیں، 6 ماہ بند بھی رہے۔ فیکٹری کے چاروں گارڈز گواہ تھے جو برسوں سے بھائلہ برادران کے ملازم تھے، انہیں سہولت کار بنا کر اصل مجرمان کو بچایا گیا۔ سانحہ بلدیہ کی عدالت میں کوئی ویڈیو نہیں دکھائی گئی جبکہ سارے کیمرے ٹھیک حالت میں کام کررہے تھے۔ پنجاب فارنسک لیبارٹری کے نمائندے پیش ہی نہیں ہوئے۔