وزیراعظم قومی سلامتی کے اجلاسوں میں نہیں آسکتے تو استعفیٰ دیں ، بلاول بھٹو زرداری

نیشنل سیکیورٹی کے تمام معاملات میں وزیراعظم ناکام رہے ، عمران خان اپوزیشن کے ساتھ مل کر بیٹھنا پسند نہیں کرتے ، چیئرمین پیپلزپارٹی کا نیوز کانفرنس سے خطاب

Sajid Ali ساجد علی بدھ ستمبر 17:42

وزیراعظم قومی سلامتی کے اجلاسوں میں نہیں آسکتے تو استعفیٰ دیں ، بلاول ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 ستمبر2020ء) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے بغیر نیشنل سیکیورٹی میٹنگز ہورہی ہیں ، پلوامہ سے لے کر نیشنل سیکیورٹی کے تمام معاملات میں وزیراعظم عمران خان ناکام رہے، نیشنل سیکیورٹی کے مسئلے پر ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے امور پر بریفنگ کی دعوت دی گئی ، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کو گلگت بلتستان میں سیکیورٹی سے متعلق بریفنگ دی گئی، آرمی چیف کی طرف سے کسی خاص ترمیم پر کوئی بات نہیں کی گئی ، ملکی سیکیورٹی معاملات پر ہمیشہ ہم سب ایک ہے، نیشنل سیکیورٹی اور دہشتگردی کی بات پر ہم نے ہمیشہ ساتھ دیا ہے، لیکن وزیراعظم اپوزیشن کے ساتھ مل کر بیٹھنا پسند نہیں کرتے، نیشنل سیکیورٹی کی بریفنگ لینی پڑیں گی، اس لیے قومی سلامتی کے اجلاسوں میں وزیراعظم کی موجودگی بہت ضروری ہے، مذکورہ اجلاس میں پیپلزپارٹی نے کہا وزیراعظم کو ہونا چاہیے تھا، اگر وزیراعظم قومی سلامتی کے اجلاسوں میں نہیں آسکتے تو استعفیٰ دیں، اجلاس میں ایک لفظ نہ بولنے والے ٹی وی چینلزپرباتیں کرتے ہیں ،یہ جس کا بھی ترجمان ہے ان کو اسے بولنے سے روکنا چاہیے تھا،بند کمروں کے اجلاس کی تفصیلات باہرنہیں لائی جاتیں ۔

(جاری ہے)

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کے نام سے اتحاد بن چکا ہے،اے پی سی میں اتفاق رائے سے فیصلے کیے گئے،ہم پاکستان میں جمہوری آزادی اورجمہوریت چاہتے ہیں، گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کرائے جائیں،گلگت بلتستان میں شفاف الیکشن نہ ہواتوسیکیورٹی تھریٹ ہوگا،گلگت بلتستان کےعوام کاحق ہےوہ اپنےفیصلے خود کریں ، حکومت اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف اپوزیشن اتحاد بن چکا ہے، اتحا دحکومت اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہے ، جس کیلئے پاکستان کی ایک تاریخی اے پی سی کا انعقاد کیا گیا ، کیونکہ ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں ، ہم جمہوری آزادی اور بولنے کی آزادی چاہتے ہیں ، ۔

انہوں نے کہا کہ سندھ، سوات، گلگت بلتستان ، بلوچستان میں سیلاب سے نقصان ہوا، ورے پاکستان میں سیلاب متاثرین ہیں، سیلاب کے باعث فصلیں تباہ ہوگئیں ہیں،وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرین کو پاکستان کارڈ دیں، وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے، نیشنل ڈیزاسٹر میں فعال ہونا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے،2010اور 11میں سیلاب کےد وران پی پی حکومت نے متاثرین کو وطن کارڈ جاری کیا۔