غیرملی سفراء ، سفارتکاروں، دفاعی اتاشیوں، عالمی تنظیموں کے نمائندگان کا ایل او سی کا دورہ کرانے پر وزارت خارجہ اور پاک فوج سے اظہار تشکر

جمعرات ستمبر 22:27

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 ستمبر2020ء) پاکستان میں متعین سفراء ، سفارتکاروں، دفاعی اتاشیوں، عالمی تنظیموں کے نمائندگان نے لائن آف کنٹرو پر زمینی حقائق سے آگہی کیلئے جورا سیکٹر کا دورہ کرانے پر وزارت خارجہ اور پاک فوج سے اظہار تشکر کیا ہے ۔ پاکستان میں متعین ترک سفیر احسان مصطفی یردکل نے دورے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا ترک صدر نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں دو روز قبل جو کہا اسے دہراؤں گا، تنازعہ جموں و کشمیر انتہائی گھمبیر مسئلہ ہے، مسئلہ کشمیر بذریعہ مذاکرات اقوام متحدہ سلامتی کونسل قراردادوں کے تحت حل ہونا چاہیے۔

م ترک سفیر نے کہا مسئلہ کشمیر پاکستان، بھارت مذاکرات، کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ یورپین یونین کی پاکستان میں سفیر اندرولا کمینارا کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہناتھاکہ سفرائ کیلئے لائن آف کنٹرول کے دورے پر تمام صورتحال کا جائزہ لیا۔

(جاری ہے)

تمام تر صورتحال نہ صرف خود دیکھی بلکہ متاثرین کو بھی سنا۔جنوبی افریقن ہائی کمشنر ایم مڈیکیزا نے کہا دورہ کرانے پر آئی ایس پی آر کا شکر گزار ہوں۔

ہمیشہ سے لائن آف کنٹرول پر صورتحال کا جائزہ لینا چاہتا تھا۔لائن آف کنٹرول پر (فائر بندی کی) خلاف ورزیوں کے علاقے پر اثرات کا معائنہ کرنا چاہتا تھا، ایم مڈیکیزا نے کہا شکر گزار ہوں کہ متاثرین سے ملا، بات کی، متاثرہ بنیادی ڈھانچہ بھی دیکھا۔امید ہے مستقبل قریب میں (مسئلہ کشمیر کا کوئی نہ کوئی) حل نکلے گا۔ایرانی نائب سفیر علی محمد سرخابی کا کہناتھاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہر روز بہت کچھ ہو رہا ہے۔انشائ اللہ، مسئلہ کشمیر جلد حل ہو گا۔ہم ہر لحاظ سے کشمیری عوام کیساتھ ہیں۔