والد، چچا اور دادا کے قاتل کی گرفتاری کی خبر پر ام رباب کا ردعمل

سندھ پولیس کی جانب سے گرفتار کیے جانے والا شخص مرکزی ملزم نہیں، مرتضیٰ چانڈیو مرکزی ملزم ہے جو تاحال گرفتار نہ کیا جا سکا

muhammad ali محمد علی جمعرات نومبر 23:16

والد، چچا اور دادا کے قاتل کی گرفتاری کی خبر پر ام رباب کا ردعمل
سکھر (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 26 نومبر2020ء) والد، چچا اور دادا کے قاتل کی گرفتاری کی خبر پر ام رباب کا ردعمل، سندھ پولیس کی جانب سے گرفتار کیے جانے والا شخص مرکزی ملزم نہیں، مرتضیٰ چانڈیو مرکزی ملزم ہے جو تاحال گرفتار نہ کیا جا سکا۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز خبر سامنے آئی تھی کہ سندھ کی بیٹی ام رباب کے اپنے والد، دادا اور چچا کے قاتل کو گرفتار کروانے میں کامیاب ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق سندھ کے شہر دادو سے تعلق رکھنے والی ام رباب کے والد، دادا اور چچا کو 3 سال قبل قتل کر دیا گیا تھا۔ اب سپریم کورٹ کے دباو پر سندھ پولیس نے مرکزی ملزم ذوالفقار چانڈیو کو گرفتار کر لیا ہے۔ سندھ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم ذوالفقار چانڈیو کو بلوچستان سے کشمور منتقل ہوتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔

(جاری ہے)

ملزم نے دادو کی تحصیل میہڑ میں 2018 میں فائرنگ کرکے ام رباب کے والد، دادا اور چچا کو قتل کردیا تھا، جس کے بعد سے وہ مفرور تھا۔

ملزم کی گرفتاری پر 10 لاکھ روپے کا انعام بھی رکھا گیا تھا۔ تاہم اس خبر پر ردعمل دیتے ہوئے ام رباب نے بتایا ہے کہ گرفتار ہونے والا شخص مرکزی نہیں بلکہ شریک ملزم ہے۔ مرتضیٰ چانڈیو نامی شخص مرکزی ملزم ہے جو تاحال مفرور ہے۔ واضح رہے کہ ام رباب اپنے والد، دادا اور چچا کو انصاف دلوانے کیلئے ننگے پاوں عدالتوں کے چکر لگاتی رہی، جس کے بعد یہ معاملہ اعلیٰ حکام کی نظر میں آیا۔

ام رباب ننگے پاوں سندھ ہائیکورٹ جاتی رہی، جبکہ ایک مرتبہ اس کی جانب سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی گاڑی روکنے کی بھی کوشش کی گئی تھی جس کے سپریم کورٹ نے معاملے کا نوٹس لیا۔ گزشتہ ماہ 12اکتوبر کو سپریم کورٹ اسلام آباد میں ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے مفرور ملزمان کی عدم گرفتاری پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کی جلد سے جلد گرفتاری کا حکم دیا تھا۔