جن کشمیریوں کو بھارت گاجر مولی کی طرح کاٹ رہا ہے وہ پاکستانی ملت کے جسم و جان کا حصہ ہیں، سر دار مسعود خان

ہمیں کشمیر کے حوالے سے اپنی ترجیحات کا مسلسل جائزہ لینا چاہیے اور طے کرنا چاہیے کشمیر کی تحریک مزاحمت کو پوری دنیا میں پھیلایا جائے ، خطاب

ہفتہ جنوری 16:26

جن کشمیریوں کو بھارت گاجر مولی کی طرح کاٹ رہا ہے وہ پاکستانی ملت کے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 جنوری2021ء) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ جن کشمیریوں کو بھارت گاجر مولی کی طرح کاٹ رہا ہے وہ پاکستانی ملت کے جسم و جان کا حصہ ہیں اور انہیں ظلم سے نجات دلانا اور اٴْن کی زندگیوں کو بچانا اہل پاکستان کی قومی ذمہ داری ہے۔ کشمیریوں نے جولائی 1947سے پاکستان کے ساتھ وابستگی کا جو عہد کیا تھا اٴْس عہد کو پورا کرنے کے لئے وہ آج بھی کٹ کر گر رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان کے مختلف قومی اداروں کے زیر اہتمام کشمیر کی تحریک آزادی اور ہماری قومی ذمہ داریوں کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ آج کشمیری جس قیامت سے گزر رہے ہیں اٴْس کا ذمہ دار بھارت ضرور ہے لیکن ہمیں شیخ عبداللہ جیسے کرداروں کو بھی نہیں بھولنا چاہیے جنہوں نے کشمیر کے ایک بڑے حصے کو بھارت کی جھولی میں ڈالنے کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا لیکن بھارت نے اٴْن پر بھی اعتبار نہیں کیا۔

(جاری ہے)

صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کا قبضہ اور اس کے بعد بھارتی ریاست میں اس کا ادغام اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا بھارتی منصوبے کا ایک فیز ہے اگلے مرحلے میں بھارت آزادکشمیر اور گلگت بلتستان پر حملہ کر کے ان علاقوں کو اپنے تسلط میں لانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لئے اس نے باقاعدہ نقشے تیار کر کے اپنے مذموم ارادوں کو واضح کر دیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ ریاست کی آٹھ ملین سے زیادہ آبادی گزشتہ سولہ ماہ بھارتی فوج کے محاصرے میں ہے جہاں نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں دہشت گرد قرار دے کر قتل کیا جا رہا ہے۔ نو، دس اور گیارہ سال کے بچوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کردیا گیا ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اٴْن پر تشدد اورمختلف نفسیاتی حربے استعمال کر کے اٴْن کے ذہنوں کو تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ وہ آزادی اور حق خودارادیت کی بات کرنا چھوڑ دیں جبکہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے گزشتہ نو ماہ میں دو ملین ہندو شہریوں کو بھارت کے مختلف علاقوں سے لا کر کشمیر میں آباد کیا گیا اور یہ عمل اب بھی تیزی سے جاری ہے۔

شرکاء کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ کشمیر کی تحریک مزاحمت صرف بارڈر ایریا ز تک محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کے اعدادو شمار کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ شہداء کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے تمام حصوں سے ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ تحریک مزاحمت کے قائدین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، مسرت عالم بٹ اور دیگر میں سے کسی کا بھی تعلق سرحدی علاقوں سے نہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر کی تحریک ہمہ گیر، مزاحمتی تحریک ہے جس میں ہر علاقے اور مکتب فکر کے لوگ شامل ہیں۔

کشمیریوں کی تحریک مزاحمت کے حوالے سے بین الاقوامی حمایت کے بارے میں پوچھے گے سوالات کا جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اگر 2019کے بعد عالمی سول سوسائٹی، دنیا کی مختلف پارلیمانز، انسانی حقوق کے اداروں اور ذرائع ابلاغ کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے لیکن حکومتوں کی طرف سے ابھی بھی بڑی حد تک خاموشی ہے۔ ہمیں کشمیر کے حوالے سے اپنی ترجیحات کا مسلسل جائزہ لینا چاہیے اور طے کرنا چاہیے کہ کشمیر کی تحریک مزاحمت کو پوری دنیا میں پھیلایا جائے تاکہ دنیا کے طاقتور ممالک اور فیصلہ ساز اداروں کو بولنے پر مجبور کیا جائے۔