شہباز شریف حدیبیہ پیپر مل کیس کھلنے سے پہلے ملک سے بھاگنا چاہتے تھے، شہباز شریف واپس نہ آنے کے لئے ملک سے باہر جا رہے تھے، احتساب پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد

بدھ مئی 22:17

شہباز شریف حدیبیہ پیپر مل کیس کھلنے سے پہلے ملک سے بھاگنا چاہتے تھے، ..
اسلام آباد۔12مئی  (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔12مئی 2021ء ) :وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ شہباز شریف حدیبیہ پیپر مل کیس کھلنے سے پہلے ملک سے بھاگنا چاہتے تھے، شہباز شریف واپس نہ آنے کے لئے ملک سے باہر جا رہے تھے، نواز شریف کو ملک سے باہر بھیج کر پچھتاوا ہے، اب غلطی نہیں دہرائیں گے، حدیبیہ پیپر مل کیس پر حکومت کا موقف آئندہ چند روز میں سامنے آ جائے گا، احتساب پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، وزیراعظم عمران خان سرنڈر کرنے والے آدمی نہیں ہیں، وہ ہر قسم کی صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کر یں گے، وزیراعظم عمران خان کرپٹ سیاستدانوں کی جانب سے لوٹی گئی قومی دولت کو ملک واپس لانے کے لئے پرعزم ہیں، جہانگیر ترین موجودہ حکومت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حدیبیہ پیپر مل کیس دوبارہ کھولنے کی بات کی جا رہی ہے اور شہباز شریف حدیبیہ پیپر مل کیس دوبارہ کھلنے سے پہلے ملک سے فرار ہونا چاہتے تھے، اسی لئے شہباز شریف کے جلدی میں سب انتظامات کئے اور وہ سحری کے وقت ملک سے باہر جانا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آج میرے اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے دستخط کے ساتھ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے اور اس حوالے سے ہم نے معاملہ کابینہ میں بھیج دیا ہے، اب کابینہ اس پر حتمی فیصلہ کرے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے واضح کہا ہے کہ وہ شریف خاندان کی چوری کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور وہ سب کے کڑے احتساب کے لئے پرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو عوام نے ووٹ ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے نعرے پر دیئے ہیں، حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، میں سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم عمران خان وزارت عظمیٰ سے استعفی یا اسمبلیاں توڑنے کا کوئی فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم عمران خان آئندہ الیکشن کی تیاری میں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ملک میں مہنگائی کے مسئلے سے آگاہ ہیں، وہ ملک کی بہتری کے لئے کوئی بھی لمحہ ضائع نہیں کرتے، حکومت مہنگائی کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے کوشاں ہے، نظام کو بہتر انداز سے چلانے کے لئے وزارتوں کے قلمدان میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں، اب شوکت ترین کو وزیر خزانہ کا منصب دیا گیا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ شوکت ترین مہنگائی پر قابو پانے اور معیشت کو بہتر کرنے میں کلیدی کردار ادا  کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے حکومت کو کوئی بھی نقصان پہنچ سکتا ہو، چیزیں بہتری کی جانب جا رہی ہیں، رمضان کا مہینہ ختم ہونے والا ہے اور عید کے بعد مہنگائی کی شرح میں بھی کافی حد تک کمی آ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ آرٹیکل 370 کی واپسی تک بھارت کے ساتھ مذاکرات ہو سکتے ہیں اور نہ ہی تجارت ہو سکتی ہے، وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کے بعد پاکستان کے کشمیر کے حوالے سے موقف کے بارے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہ جاتا۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے وہ لوگ جو 16 ایم پی اوز کے تحت گرفتار کئے گئے تھے ان کو رہا کر دیا گیا ہے، اس کے علاوہ وہ لوگ جن کے خلاف ایف آئی آرز درج ہیں ان کو عدالت کے ذریعے ہی رہائی مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں ہے، یہ وزیراعظم عمران خان اور موجودہ حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں نالائق اپوزیشن ملی ہے، اپوزیشن جماعتیں حکومت کے لئے کیا خطرہ بن سکتی ہیں بلکہ اپوزیشن جماعتیں تو آپس کے جھگڑے نمٹانے میں مصروف ہیں۔