پاکستان میں شہد کی سالانہ پیداوار 15750 ٹن، برآمدات میں 34 واں نمبر ہے،ڈاکٹر شاہد محمد

اتوار 11 ستمبر 2022 17:40

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2022ء) پاکستان دنیا میں شہد پیدا کرنے والا 20 واں بڑا ملک اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان(ٹڈیپ)کے مطابق برآمدات میں دنیا کا 34 واں حصہ ہے ،مکھیاں پالنے کے شعبے میں 40ہزار لوگ وابستہ جبکہ شہد کی سالانہ پیداوار 15ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ ہے ،جدید آلات اور نئے طریقوں سے شہد کی برآمد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے ،دنیا بھر میں نئی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کی ضرورت ہے ، پاکستان نے ابھی تک شہد کی بین الاقوامی منڈی میں بڑے پروڈیوسرز اور ایکسپورٹرز میں اپنی جگہ نہیں بنائی ہے حالانکہ ملک میں اچھے معیار کا شہد پیدا کرنے کے لیے سازگار ماحول اور متنوع نباتات موجود ہیں۔

اس وقت پاکستان میں شہد کی مکھیاں پالنے والے 4ہزار لوگ ہیں جو 15،750 میٹرک ٹن شہد پیدا کر رہے ہیں، جو پاکستان کو دنیا میں شہد پیدا کرنے والا 20 واں بڑا ملک بناتا ہے۔

(جاری ہے)

نیشنل ہنی بی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈریکٹر ڈاکٹر راشد محمود نے اتوار کے روز اے پی پی کو بتایا کہ نجی شعبہ کی چند درمیانے درجے کی کمپنیاں بڑے شہروں میں مختلف برانڈ کے ناموں سے شہد فروخت کررہی ہیں جبکہ معروف مقامی اور ملٹی نیشنل فوڈ پروسیسنگ فرمیں اب شہد کے حوالے سے پاکستانی مارکیٹ کی طرف متوجہ ہو رہی ہیں،پاکستان میں شہد کی جو قسمیں پیدا ہوتی ہیں ان میں بیری، پھلائی،کیکر،اسپرکائی ،شفتالو، اورنج بلاسم، سورج مکھی، زیتون، کلور، یوکلپٹس اور گارنڈا شامل ہیں۔

پاکستان میں مکھیوں کی پرورش کے اہم مسائل کے حوالے سے ڈاکٹر ارشد محمود نے بتایا کہ یہاں مکھیوں کے پودوں کی کمی،شہد کی مکھی کے کیڑے اور بیماریاں ،ایکٹوپراسیٹک مائٹس،شہد کوالٹی کنٹرول سسٹم کی خامی بالخصوص پروسیسنگ اور گریڈنگ ،سرٹیفیکیشن کے نظام کا فقدان ،ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی کمی ،اعلی معیار کی رانیوں کا فقدان،کم پیداوری ،ہنر مند شہد کی مکھیاں پالنے والوں کی کمی شامل ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شہد کی مکھیاں پالنا ایک منافع بخش کاروبار ہے، تقریباً 12ہزار شہد کی مکھیاں پالنے والے اب جدید مکھیوں میں Apis mellifera نامی غیر ملکی نسل کی پرورش کر رہے ہیں اور تقریباً 1.1 ملین کالونیاں 15750 میٹرک ٹن شہد سالانہ پیدا کرتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں سازگار آب و ہوا اور شہد کی مکھیوں کی نباتات شہد کی مکھیوں کے پالنے کی توسیع کے لیے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں، شہد کی مکھیوں کے نباتات تمام صوبوں بشمول شمالی علاقہ جات، فاٹا اور آزاد جموں و کشمیر کے وسیع رقبے پر موجود ہے ۔

شہد کی مکھیاں پالنے والے جدید طریقوں کے ذریعے شہد پیدا کر کے خود روزگار حاصل کر رہے ہیں، شہد کی پیداوار ان علاقوں میں کرنے کی تجویز ہے جہاں جنگلی پودے لگانے اور فصلوں کی کاشت عام ہے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں چکوال، گوجرخان، اٹک، سرگودھا، ڈسکہ شہد کی مکھیوں کی کاشت کے لیے مثالی مقامات ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں کرک، کوہاٹ، سوات اور بنوں سب سے زیادہ موزوں ہیں۔

اسی طرح بلوچستان میں کوئٹہ، وادی زیارت، نصیر آباد اور قلات جبکہ سندھ میں ٹھٹھہ، سجاول، میرپور خاص، حیدرآباد اور گلارچی کے علاقے شہد کی پیداوار کے لیے موزوں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان مصنوعات کی پروسیسنگ منافع بخش ہے کیونکہ شہد کی رائل جیلی 30,000 روپے فی کلوگرام، پولن 2000 روپے فی کلوگرام پروپلیس 1000 روپے کلوگرام اور بین الاقوامی مارکیٹ میں موم 1100 روپے فی کلوگرام ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں بین الاقوامی معیار کی لیب اور یونٹ دستیاب ہو تو ہم شہد کی مکھیاں پالنے والوں کے معیار زندگی میں فرق پیدا کر سکتے ہیں،شہد کے شعبے کو بہت سے مسائل کاسامنا ہے جن میں گلوبل وارمنگ اور جنگلات کی کٹائی، کسانوں کے لیے تربیت کا فقدان، شہد کی غیر مناسب ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹنگ کی قیمتوں و پیکیجنگ کے بارے میں بہت کم معلومات شامل ہیں، ان تمام عوامل نے مقامی لوگوں کو بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت سے روک دیا ہے،ان تمام مسائل کے باوجود یہ شعبہ اب بھی بین الاقوامی مارکیٹ میں اعلی مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ پیداواری طریقہ کار میں مناسب آلات اور جدید تکنیکوں کے استعمال سے شہد کی پیداوار اور معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر راشد محمود کے مطابق کوالٹی ٹیسٹنگ لیبز کو اپ گریڈ کرنے سے ملک کو بین الاقوامی معیار کا شہد تیار کرنے کا موقع ملے گا جس سے اس کی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں نئی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ \395