19 ویں آئینی ترمیم ، موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف سی کا نام تبدیل کیا گیا ، طلال چوہدری

پیر 14 جولائی 2025 22:29

19 ویں آئینی ترمیم ، موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 جولائی2025ء)وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کیتنظیمِ نو کرتے ہوئے اس کا نیا نام ’فیڈرل کانسٹیبلری‘ رکھا جا رہا ہے، جو قومی سطح پر بھرتی، تربیت اور آپریشنل استعداد کے نئے معیارات پر استوار ہو گی۔ ش فیصل آباد میں ایف سی کمانڈنٹ ریاض نذیر کے ہمراہ پریس بریفنگ کے دوران طلال چوہدری نے کہا کہ ایف سی کا قیام 1913 میں ہوا تھا اور قیامِ پاکستان کے بعد یہ فورس وفاقی حکومت کے ماتحت خدمات انجام دیتی رہی۔

انہوں نے کہا کہ ایف سی نے انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات، امن عامہ اور جرائم کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جس میں اس کے درجنوں اہلکار شہید بھی ہوئے۔

(جاری ہے)

طلال چوہدری نے بتایا کہ 18ویں آئینی ترمیم اور موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف سی کا نام تبدیل کیا گیا ہے اور اب اس میں پورے پاکستان سے افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔

ان کے مطابق ایف سی کے حوالے سے ایک نیا آرڈیننس بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت اس کی ساخت، تربیت اور تنخواہوں میں بہتری لائی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایف سی کے اہلکاروں کی تنخواہیں ماضی میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کم تھیں، جسے اب بہتر بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ قیامِ امن کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کا کردار مزید اہم ہوگا اور اسے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔

کمانڈنٹ ایف سی ریاض نذیر نے اس موقع پر بتایا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کو 6 ڈویڑنز اور 41 ونگز پر مشتمل ایک مؤثر اور مربوط فورس میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس کا ڈھانچہ مختلف شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں ایک نیا ‘‘سپیشل پروٹیکشن ونگ’’ بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ حساس شخصیات اور تنصیبات کی حفاظت کو مزید یقینی بنایا جا سکے۔ریاض نذیر نے کہا کہ ایف سی جس ایکٹ کے تحت کام کر رہی تھی، اسے 100 سال سے زائد عرصہ ہو چکا تھا، اور وقت کی ضرورت تھی کہ اس ادارے میں بنیادی اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کی آپریشنل ضروریات اب وفاقی حکومت براہِ راست پورا کرے گی، جس سے اس کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ فورس کی تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ یہ ادارہ مستقبل میں بھی ملک کی سیکیورٹی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کر سکے۔