اے پی ایم ایس او نے کراچی انٹر بورڈ میں نتائج کی مبینہ تبدیلی کی تحقیقات، اینٹی کرپشن کی آدھی رات کی کارروائی طلبہ دشمن پالیسی کا ثبوت قرار

اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ، شفاف تحقیقات یقینی بنانے پر زور، اے پی ایم ایس او

جمعرات 28 اگست 2025 21:45

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2025ء) آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) نے کراچی انٹر بورڈ کے سال 2022 کے نتائج میں مبینہ تبدیلی کی تحقیقات کے نام پر اینٹی کرپشن سندھ کی آدھی رات کی ناقابلِ فہم کارروائی کو طلبہ دشمن پالیسی اور قوم کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کی مذموم سازش قرار دیا ہے۔ گزشتہ شب طلبہ و طالبات کو رات ساڑھے بارہ بجے اینٹی کرپشن ویسٹ کے دفتر میں پیش ہونے کے نوٹس جاری کیے گئے جس سے نہ صرف طلبہ بلکہ والدین بھی شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے۔

والدین نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی بچیوں کو رات کے اس پہر کسی سرکاری دفتر میں پیش کرنے کے حق میں نہیں اور یہ عمل بنیادی انسانی حقوق، معاشرتی اقدار اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

(جاری ہے)

اے پی ایم ایس او نے سوال اٹھایا ہے کہ جب انٹر سال 2022 کے نتائج میں مبینہ تبدیلی کی تحقیقات گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری ہیں تو اچانک طلبہ کو آدھی رات کو ہراساں کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی یہ رویہ تحقیقات کی شفافیت اور نیت پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔

اے پی ایم ایس او کی مرکزی کمیٹی نے کہا ہے کہ یہ تمام عمل تعلیم دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے جو نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ کو ہراساں کرنے کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے، کسی بھی تفتیش کو والدین کی رضامندی اور دن کے اوقات سے مشروط کیا جائے اور ذمہ دار افسران کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اے پی ایم ایس او نے اعلان کیا ہے کہ قوم کے مستقبل یعنی طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، جمہوری اور عوامی جدوجہد کی جائے گی اور ایسے غیر ذمہ دارانہ، غیر انسانی اور تعلیم دشمن اقدامات کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔