قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا اجلاس ، اے پی پی میں مالی کرپشن کو بے نقاب کرنے پر ایم ڈی اے پی پی کو خراج تحسین

، عوامی فنڈز کی ریکوری اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی

جمعہ 29 اگست 2025 20:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مینیجنگ ڈائریکٹر محمد عاصم کھچی کی جانب سے ادارے میں اربوں روپے کی کرپشن بے نقاب کرنے پر ان کی ایمانداری اور جرات کو سراہا ہے۔ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو رکن قومی اسمبلی پلّین بلوچ کی زیر صدارت ہوا۔

کمیٹی نے ایم ڈی اے پی پی کو بطور "وسل بلوور" خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ادارے کے اندر کرپشن کے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے پر ان کے کردار کو سراہا ۔ کمیٹی کے چیئرمین پلّین بلوچ نے احتساب کے عمل کو بلاوجہ طول نہ دینے پر زور دیتے ہوئے کمیٹی کی جانب سے لوٹے گئے عوامی فنڈز کی ریکوری اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

(جاری ہے)

وفاقی سیکرٹری اطلاعات عنبرین جان نے بھی ایم ڈی اے پی پی محمد عاصم کھچی کی دیانت داری کو سراہا اور شفافیت و ادارہ جاتی احتساب کے لیے اپنی وزارت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔رکن کمیٹی کرن دار نے ایم ڈی اے پی پی کے اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی شفافیت میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔ ایم کیو ایم کے سید امین الحق نے استفسار کیا کہ کیا ایم ڈی کو کرپٹ مافیا سے دھمکیاں ملی ہیں؟ انہوں نے اور دیگر اراکین نے ہر طرح کے دباؤ کے خلاف ایم ڈی اے پی پی کی جدوجہد میں غیر متزلزل تعاون کا عزم اظہار کیاا۔

اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ میڈیا سے متعلق تمام اداروں میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جائے گا اور ایم ڈی اے پی پی کو ہدایت کی گئی کہ لوٹے گئے فنڈز کی بازیابی کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔قبل ازیں کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ایم ڈی اے پی پی محمد عاصم کھچی نے بتایا کہ ادارے کی سطح پرانکوائری میں پی ایس ڈی پی فنڈڈ منصوبے میں 1.24 ارب روپے سے زائد کی خوردبرد سامنے آئی ہے۔

ملازمین سے متعلقہ اخراجات، جعلی بھرتیوں اور پروویڈنٹ فنڈ میں بھی بے ضابطگیاں پائی گئیں جس پر ایف آئی اے نے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، منیجرز اور کلریکل اسٹاف سمیت 16 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔انہوں نے اے پی پی کے مختلف شعبوں کے افعال کے بارے میں بتایا کہ اے پی پی کی ویب سائٹ سے سالانہ 24 لاکھ روپے کی آمدن حاصل ہورہی ہے جس سے ادارے کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل آمدنی کی صلاحیت کی عکاسی ہوتی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ اے پی پی کی ویب سائٹ کو لوکل سرورپر منتقل کردیا گیا ہے جس سے سالانہ نو ہزار ڈالر کی بچت ہوگی، ویب سائٹ کے امپریشنز 85 ملین ریکارڈ کئے گئے ، فیس بک پر فالورز کی تعداد 1 کروڑ 3 لاکھ ، ٹک ٹاک پر 1 کروڑ ، ایکس پر 15 لاکھ ، انسٹاگرام پر 3 لاکھ 19 ہزار اور یوٹیوب پر ایک لاکھ 37 ہزار ہوچکی ہے ۔ اے پی پی نے خبریں جاری کرنے اور انہیں ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کے اس تسلسل کو برقراررکھا ہے، روزانہ 350 سے 400 خبریں ویب پر شائع کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کمیٹی اراکین کو بتایا کہ 11 غیر ملکی نیوز ایجنسیوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کےلئے کابینہ کی منظور ی کا انتظار ہے ۔ایم ڈی اے پی پی نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈگری ویریفکیشن کمیٹی نے جانچ پڑتال کا عمل تقریباً مکمل کر لیا ہے اور جعلی ڈگری رکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ اسی طرح پنشنرز کے لیے ہر چھ ماہ بعد "لائف سرٹیفکیٹ" جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ گزشتہ تین وفاقی بجٹ میں اعلان کردہ پنشن اضافے کو شامل کرنے کے لیے فنانس ڈویژن کے سامنے 30 کروڑ روپے کا مطالبہ رکھا گیا ہے۔

ایم ڈی اے پی پی نے کہا کہ آمدنی بڑھانے کے لیے متعدد حکمت عملیاں تیار کی گئی ہیں اور سالانہ 20 کروڑ روپے تک کی آمدنی متوقع ہے۔سیکرٹری اطلاعات عنبرین جان نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی) میں آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔ پی ٹی وی ملازمین کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے 11 ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے اور مزید 4.5 ارب روپے کے مطالبے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مستقل، کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کی تنخواہیں 25 جون تک ادا کر دی گئی ہیں۔ پریس انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) کے نمائندے نے بتایا کہ گزشتہ آٹھ برس میں 6 ہزار 340 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 5 ہزار 435 نمٹا دی گئیں جبکہ 905 زیر التواء ہیں۔ 268 اپیلیں مختلف ہائی کورٹس میں سماعت کے مراحل میں ہیں۔ پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ 14 اگست کی تقریبات کو "معرکہ حق" کی یادگار کے ساتھ منسلک کیا گیا۔

یوم ازادی کے موقع پر سرکاری اشتہار میں قائد اعظم کی تصویر نہ ہونے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ او آئی سی کی اوور سائٹ امپلیمینٹیشن کمیٹی نے اپنی انکوائری مکمل کر لی ہے جس میں انکشاف ہوا کہ 14 اگست کے اشتہار کے منظور شدہ مواد میں قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر شامل نہیں تھی۔ ایڈورٹائزنگ ایجنسی نے اس کوتاہی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی غلطی مان لی، تاہم کمیٹی نے قائداعظم کی اہمیت کے پیش نظر اس معذرت کو ناکافی قرار دیا۔

پی آئی او نے مزید بتایا کہ 25-2024 کے اخبارات کے بقایا جات رواں سال ستمبر تک ادا کر دیے جائیں گے۔ اجلاس میں سینیٹر سحر کامران، امین الحق، عاصیہ ناز تنولی، رانا انصر، کرن ڈار، شاہین اور صلاح الدین جونیجو نے شرکت کی۔ مہتاب اکبر راشدی نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔