اہل غزہ کی زندگی بچانے کیلئے مواخات کی سنت ادا کرنا چاہیے۔ محفوظ النبی

صہیونیت کا ایجنڈا مشرق وسطی میں گریٹر اسرائیل کا قیام ہے۔ ولی الرحمن سے گفتگو

ہفتہ 30 اگست 2025 16:37

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 اگست2025ء)مسلمانان عالم کو مقبوضہ فلسطین اور غزہ کے مظلوموں کے لئے مواخات کی سنت ادا کرنا چاہیے اور دریائے اردن کے مغربی کنارہ و غزہ کے متاثرین کو فلسطین کی آزادی تک اپنے ممالک میں آباد کرنا چاہیے ان تاثرات کا اظہار قائد ملت لیاقت علی خان میموریل کمیٹی کے جنرل سیکریٹری محفوظ النبی خان نے روٹریکٹ کلب کراچی گیم چینجرز کے عہدیداران ولی الرحمن، سید احمد مرتضی، نعمان خان اور کراچی یونیورسٹی کے طلبا کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا محفوظ النبی خان نے کہا کہ اسرائیل کی جنگی کابینہ کی جانب سے غزہ کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا مقصد مقبوضہ فلسطین سے باقی ماندہ مسلم آبادی کی جبری بے دخلی اور مکمل نسل کشی ہے بدقسمتی سے اقوام متحدہ، 57مسلم ممالک اور دنیا کی دیگر مقتدر ریاستوں کے حکمران غزہ میں اسرائیلی بربریت اور جنگی جرائم کو رکوانے میں یکسر ناکام رہے ہیں حتی کہ عالمی عدالت انصاف اور انٹرنیشنل کرمنل کورٹ بھی اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروانے میں کارگر ثابت نہ ہوسکیں چنانچہ ایسی صورت حال میں اسوہ حسنہ کی روشنی میں امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے بے گناہ، نہتے، مجبور اور مظلوم بھائیوں کے لئے اپنے دروازے کھولیں یاد رہے کہ اس سے قبل بھی افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کے وقت سے اسلامی جمہوریہ پاکستان لاکھوں افغان مہاجرین کی کئی دہائیوں سے میزبانی کرتا آیا ہے جبکہ ترکیہ بھی کافی عرصے سے شامی مہاجرین اور بنگلہ دیش روینگیائی مسلمان مہاجرین کی میزبانی کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

مغربی ممالک بھی دینا بھر سے جان کے خطرے سے دوچار افراد کو انسانی بنیادوں پر پولیٹیکل اسائیلم فراہم کرتے ہیں۔ غزہ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں فلسطینیوں کی زندگی بچانے کے لئے اب یہ فرض عین ہو چکا ہے کہ پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک خصوصا ترکی مصر ایران انڈونیشیا ملائشیا اور وسطی ایشیا کے دیگر مسلم ممالک غزہ سے زخمی و معزور بوڑھوں، خواتین، نوجوانوں اور بچوں کو فروری طور پر اپنی پناہ میں لے کر ان کی نگہداشت کریں۔

محفوظ النبی خان نے کہا کہ بعض تجزیہ نگاروں کی طرف سے صہیونی مقاصد کو نظر انداز کر کے محض وزیراعظم نیتن یاہو کے ذاتی اقتدار کو غزہ میں اسرائیلی جرائم کی وجہ بتانا ان کی کم علمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہمیں صہیونیت کے اصل ایجنڈے کو پہچاننا چاہیے جو واضح طور پر 'ایلڈر آف زیون تھرٹی تھری ڈگری' نامی منصوبے کے پروٹوکول میں وضاحت کے ساتھ درج ہے، جس کا مقصد مشرق وسطی میں گریٹر اسرائیل کا قیام ہے۔