اگر پیس بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ عمران خان کرتے تو طوفان آجاتا، حامد میر کا دعویٰ

کہتے ہیں اگر اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں تو بورڈ آف پیس میں کیوں نہیں، کیا جب وہاں نیتن یاہو تقریر کیلئے آتا ہے تو پاکستانی وفد واک آؤٹ نہیں کرتا؟ ایسے جب پیس بورڈ میں وہ بات کرنے آئے گا کیا واک آؤٹ کی اجازے ملے گی؟ سینئر صحافی کے سوالات

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 24 جنوری 2026 12:29

اگر پیس بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ عمران خان کرتے تو طوفان آجاتا، حامد ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جنوری2026ء) سینئر صحافی حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر پیس بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ عمران خان کرتے تو طوفان آجاتا۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمالیت کا دفاع کرنا حکومت کیلئے مشکل ہورہا ہے، آپ اس کو مانیں یا نہ مانیں لیکن اس معاملے پر لوگوں میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے، لوگ ایک سوال پوچھ رہے ہیں جو مجھ سے بھی پچھا گیا، مجھ سے پارلیمنٹ کے ایک ملازم نے سوال کیا کہ غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ اگر عمران خان کرتے تو کیا ہوتا؟ میں نے کہا طوفان آجاتا، تو انہوں نے کہا کہ پھر اسرائیل کا ایجنٹ کون ہوا؟۔

اس معاملے پر حامد میر کا مزید کہنا ہے کہ حکومتی اراکین کہتے ہیں کہ ہم اگر اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں تو غزہ بورڈ آف پیس میں کیوں نہیں، تو کیا جب وہاں نیتن یاہو تقریر کے لیے آتا ہے تو پاکستانی وفد واک آؤٹ نہیں کرتا؟ ایسے جب پیس بورڈ میں وہ بات کرنے آئے گا کیا پاکستان کے نمائندے کو واک آؤٹ کی اجازے ملے گی؟ ایک اور دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ہمیں انٹرنیشنل فورم مل گیا ہم وہاں کشمیر کی بات بھی کرسکتے ہیں، غزہ کے پیس آف بورڈ میں اگر آپ نے کشمیر کا قصہ شروع کیا تو کوئی آپ کو اجازت دے گا؟ تو اس لیے یہ جو انٹرنیشنل فراڈ ہے اس کا دفاع کرنا حکومت کیلئے کافی مشکل ہورہا ہے۔

(جاری ہے)

بتایا جارہا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کردیئے گئے، اس سلسلے میں ہونے والی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف کی بورڈ آف پیس پر دستخط سے پہلے امریکی صدر سے مختصر گفتگو بھی ہوئی، شہباز شریف نے امریکی صدر سے مصافحہ کیا، اس دوران انہوں نے سٹیج کے سامنے بیٹھی کسی شخصیت کی طرف اشارہ بھی کیا جس پر ٹرمپ بھی اس جانب اشارہ کر کے مسکرا دیئے۔