صدر زرداری سے صومالیہ کے وزیرِ داخلہ کی ملاقات، سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لئے ویزا ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط

ہفتہ 24 جنوری 2026 17:18

صدر زرداری سے صومالیہ کے وزیرِ داخلہ کی ملاقات، سفارتی پاسپورٹ رکھنے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جنوری2026ء) صومالیہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لئے ویزا ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیئے گئے ۔ ایوان صدر سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے صومالیہ کے وزیرِ داخلہ علی یوسف نے ایوان صدر میں ملاقات کی جس میں پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اس موقع پر پاکستان اور صومالیہ کے درمیان سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لئے ویزا کی شرط ختم کرنے کے معاہدے پربھی دستخط کیے گئے معاہدہ پر صومالیہ کی وزارتِ خارجہ اور بین الاقوامی تعاون کے مستقل سیکرٹری حمزہ عدن حادو اور وفاقی وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کے سپیشل سیکرٹری دائود محمد بڑیچ نے دستخط کئے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ افریقہ عالمی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم خطہ ہے اور پاکستان صومالیہ سمیت افریقی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان صومالیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں قریبی تعاون کا خواہاں ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کو آگاہ کیا گیا کہ صومالیہ کے وزیرِ داخلہ کا یہ دورہ گزشتہ 35 سال میں صومالیہ کی جانب سے پاکستان کا پہلا باضابطہ دوطرفہ سرکاری دورہ ہے۔ صدرِ مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بین الاقوامی جرائم اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کے لیے پرعزم ہے۔

ملاقات میں وسیع تر جغرافیائی سیاسی صورتحال اور دوطرفہ تعاون کے مواقع پر بھی بات چیت ہوئی۔ صومالیہ کے وزیرِ داخلہ نے حکومتِ پاکستان خصوصاً وزارتِ داخلہ کی جانب سے مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ کی دعوت پر پاکستان آئے ہیں۔ انہوں نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور پاکستانی عوام کا بھی شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر صومالیہ کے وزیرِ داخلہ علی یوسف نے صومالیہ کے صدرِ کی جانب سے صدر مملکت آصف علی زرداری کے نام ایک خط بھی پیش کیا جس میں نیک تمنائوں اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اعادہ کیا گیا۔ صومالی وزیر نے پاکستان کو صومالیہ کیلئے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار اور برادر ملک قرار دیا اور 1990 کی دہائی میں صومالیہ میں اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے دوران پاکستانی امن فوجیوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دیتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔

ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کرمنل جسٹس کے شعبہ میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ بات چیت میں دوطرفہ حوالگی معاہدے پر مذاکرات کے امکانات اور ہر ملک میں حوالگی کے قانونی فریم ورک کا جائزہ شامل ہے۔فوجداری معاملات میں باہمی قانونی معاونت اور سزا یافتہ افراد کی منتقلی پر بات چیت شروع کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

دونوں فریقین نے منشیات کے خلاف اقدامات میں تعاون، منشیات کی سمگلنگ اور منظم جرائم کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی، معلومات اور انٹیلی جنس کے تبادلے نیز استعداد کار بڑھانے اور اہلکاروں کی تربیت پر بھی اتفاقِ رائے کا اظہار کیا۔ صدرِ مملکت کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ذریعے جدید شناختی نظام، سول رجسٹریشن، محفوظ دستاویزی نظام اور صومالی پولیس کی تربیت کے شعبوں میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔

ملاقات میں وفاقی وزیرِ داخلہ و انسدادِ منشیات محسن رضا نقوی اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ و انسدادِ منشیات طلال چوہدری بھی موجود تھے۔ صومالی وفد میں پاکستان میں صومالیہ کے سفیر شیخ نور محمد حسن اور ڈپٹی پولیس چیف عثمان عبداللہی بھی شامل تھے۔