ہرسانحے کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان نورا کشتی شروع ہو جاتی ہے، حافظ نعیم الرحمن

منگل 27 جنوری 2026 16:49

ہرسانحے کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان نورا کشتی شروع ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جنوری2026ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ہر سانحے کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان نورا کشتی شروع ہو جاتی ہے، جسے عوام منتخب کریں اس کا میئر ہونا چاہیے، قبضہ میئر نہیں ہونا چاہیے، گل پلازہ کے سانحہ کے بعد یہاں کے لوگوں میں بے بسی کی کیفیت ہے، کراچی میں ملک سے مایوسی کی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے، گل پلازہ میں لگی آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا، فائر فائٹرز کے پاس آگ سے بچنے کا لباس ہے اور نا ہی ماسک موجود ہیں،شہر میں بارش ہو جائے تو یہ پانی نکال نہیں سکتے، آگ لگ جائے توبجھا نہیں سکتے، نا اہل اور کرپٹ لوگ ہمارے اوپر مسلط ہیں۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جسے عوام منتخب کریں اس کا میئر ہونا چاہیے، قبضہ میئر نہیں ہونا چاہیے، گل پلازہ کے سانحہ کے بعد یہاں کے لوگوں میں بے بسی کی کیفیت ہے، کراچی میں ملک سے مایوسی کی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے، ہر سانحہ کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان نورا کشتی شروع ہوجاتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں لگی آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا، فائر فائٹرز کے پاس آگ سے بچنے کا لباس ہے اور نا ہی ماسک موجود ہیں، کسی بھی فائر فائٹر کے پاس وہ کٹ نہیں جس کو پہن کر وہ فائر فائٹنگ کریں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ شہر میں بارش ہو جائے تو یہ پانی نکال نہیں سکتے، آگ لگ جائے توبجھا نہیں سکتے، گرین لائن 10 سال بعد بھی مکمل نہیں ہوئی، نا اہل اور کرپٹ لوگ ہمارے اوپر مسلط ہیں، ان کی کک بیکس اور کرپشن بڑھتی رہتی ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گرین لائن پروجیکٹ 2016 میں شروع ہوا اور آج تک مکمل نہیں ہوا، ریڈ لائن کو 2024 میں پورا ہونا تھا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا، ریڈ لائن منصوبہ کے لیے بنی ہوئی سڑک کو توڑ دیا گیا۔

انہوںنے کہاکہ وفاق میں سب مل کر حکومت کر رہے ہیں، شہر کا بیڑا غرق کر رہے ہیں، شہرمیں پورشن کا دھندہ چل رہا ہے، یہ کون سے نعمت اللہ اور عبدالستار افغانی کے دور کا ہے، کراچی کے مسئلے کا حل نہ صوبائی کنٹرول ہے نہ ہی وفاقی کنٹرول، کراچی کے مسئلے کا حل کراچی سٹی گورنمنٹ ہے۔