Nکراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 فروری2026ء) سندھ
اسمبلی 14 سال بعد ایک بار پھر بین الاقوامی پارلیمانی کانفرنس کی میزبانی کر رہی ہے۔سندھ
اسمبلی میں ساتویں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس اور دوسری مشترکہ سی پی اے ایشیا و جنوب مشرقی ایشیا ریجنل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع مستقبل کی پارلیمانیں: اعتماد، شمولیت، جدت اور امن کے ذریعے
جمہوریت کی نئی تعریف" تھا۔
کانفرنس میں ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے 4 ممالک کی پارلیمانوں اور 17 ریاستی اسمبلیوں کے 150 سے زائد اسپیکرز، ڈپٹی اسپیکرز، پارلیمنٹیرینز اور اعلی حکام نے شرکت کی۔کانفرنس کے افتتاحی اور پلینری سیشنز میں جمہوری اداروں کے استحکام، پارلیمانی مفاہمت، عوامی اعتماد کی بحالی، شفافیت، شمولیت، مصنوعی ذہانت، ماحولیاتی چیلنجز اور علاقائی امن پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا گیا۔
(جاری ہے)
سندھ اسیمبلی کے اسپیکر اویس قادر شاہ نے ساتویں سی پی اے ایشیا ریجنل اور دوسری مشترکہ ایشیا و جنوب مشرقی ایشیا کانفرنس کے افتتاح پر معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے
سندھ کی تاریخی، تہذیبی اور جمہوری شناخت کو اجاگر کیا اور عالمی سطح پر جاری جنگوں، ماحولیاتی تبدیلی، غربت، انتہا پسندی اور جدید
ٹیکنالوجی کے چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے مکالمے، پارلیمانی تعاون اور جمہوری اقدار کے فروغ کو امن اور ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا اور سی پی اے کو خطے میں مثر پارلیمانی پلیٹ فارم بتایا۔اسپیکر نے
سندھ کی تاریخ اور ثقافت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہاں کے دریائے
سندھ نے نہ صرف زرخیزی بلکہ دیگر ممالک سے روابط بھی قائم کیے۔ انہوں نے موہنجوداڑو اور مکلی کے آثار قدیمہ کا ذکر کرتے ہوئے
سندھ کی عظیم تہذیب، ثقافت اور امن کی روایت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ
سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے، یہ شہید
ذوالفقار علی بھٹو کی دھرتی ہے، یہ
دنیا کی کم عمر ترین خاتون وزیر اعظم اور مسلم
دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم،
شہید محترمہ
بینظیر بھٹو کی دھرتی ہے۔سی پی اے کے چیئرپرسن
ڈاکٹر کرسٹوفر کلیلا نے شمولیت، جدت، شفافیت اور اخلاقی قیادت کو مستقبل کی پارلیمانوں کے بنیادی ستون قرار دیا اور خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور معذور افراد کی موثر نمائندگی پر زور دیا۔
سندھ کے سینیئر وزیر
شرجیل انعام میمن نے سی پی اے کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم عالمی فورم سے خطاب ان کے لیے اعزاز ہے۔انہوں نے کہا کہ
دنیا اس وقت سیاسی عدم اعتماد، ماحولیاتی بحران، ڈیجیٹل چیلنجز اور جمہوری کمزوریوں جیسے سنگین مسائل سے گزر رہی ہے۔انہوں نے سی پی اے اور سندھ
اسمبلی کی جانب سے بروقت کانفرنس کے انعقاد کو سراہا اور اسپیکر سندھ
اسمبلی کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
شرجیل میمن کے مطابق مضبوط، شفاف، جامع اور جدید پارلیمانیں ہی مضبوط جمہوریتوں کی بنیاد ہوتی ہیں، جبکہ امن، مکالمہ اور علاقائی تعاون جمہوری استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔مہمان خصوصی،
قومی اسمبلی کے اسپیکر
سردار ایاز صادق نے کہا کہ سندھ
اسمبلی میں کامن ویلتھ پارلیمانی وفود کا اجتماع
جمہوریت، پارلیمانی اقدار اور عالمی تعاون سے وابستگی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ
اسمبلی کی عمارت قیامِ
پاکستان کے تاریخی لمحات کی شاہد و امین ہے اور
سندھ ہمیشہ جمہوری اقدار، ثقافت اور فکری ورثے کا مرکز رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ
اسمبلی نے خواتین کی سیاسی نمائندگی میں تاریخی کردار ادا کیا ہے اور
پاکستان نے مسلم
دنیا کو پہلی منتخب خاتون وزیرِاعظم دی۔ اسپیکر
قومی اسمبلی کے مطابق مستقبل کی پارلیمانوں کے لیے اعتماد، شمولیت، جدت اور امن ناگزیر عناصر ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں، خواتین، اقلیتوں اور محروم طبقات کی مثر نمائندگی، جدید
ٹیکنالوجی کے استعمال، احتساب، وفاقیت اور عالمی امن کے فروغ پر زور دیا۔دوپہر کے کھانے کے وقفے کے بعد پلینری سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان "امن اور جمہوری اعتماد میں
پارلیمنٹ کا ثالثی کردار" تھا۔مالدیپ کی پیپلز مجلس کے ڈپٹی اسپیکر احمد ناظم نے سی پی اے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن صرف
جنگ کی عدم موجودگی کا نام نہیں بلکہ اس کا انحصار شہریوں کے جمہوری اداروں پر اعتماد سے جڑا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شفاف، جامع اور جوابدہ ادارے ہی پائیدار امن کی بنیاد بنتے ہیں، جبکہ اداروں پر اعتماد کی کمی معاشرتی تقسیم، بے چینی اور آمریت کو جنم دے سکتی ہے، جو جنوبی ایشیا جیسے خطوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے مالدیپ کی جمہوری جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2008 میں ملک پرامن طور پر کثیر الجماعتی
جمہوریت میں داخل ہوا، جہاں نئی آئینی پارلیمان نے حکمرانی، نگرانی اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ان کے مطابق پارلیمانیں قانون سازی کے ساتھ ساتھ مکالمے، مفاہمت اور اتفاقِ رائے کے اہم مراکز ہیں، اور مضبوط پارلیمانیں ہی جمہوری استحکام اور دیرپا امن کو یقینی بناتی ہیں
۔سری لنکا کی
پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر
ڈاکٹر محمد رضوی صالح نے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے
پاکستان سے اپنی تعلیمی وابستگی کا ذکر کیا اور
پاکستان کی حکومت و عوام کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے بتایا کہ طویل عرصہ بطور
ڈاکٹر خدمات انجام دینے کے بعد وہ اس احساس کے ساتھ سیاست میں آئے کہ عوامی مسائل کا حل مثر حکمرانی کے بغیر ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ امن اور جمہوری اعتماد کے فروغ میں پارلیمانوں کا کردار بنیادی ہے۔
سری لنکا کو 2022 میں شدید
معاشی اور جمہوری بحران کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد
پارلیمنٹ نے مکالمے، مفاہمت، شفافیت اور نگرانی کے ذریعے عوامی اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے مطابق جمہوری اعتماد کوئی وقتی عمل نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔اسپیکر
پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان
جمہوریت کی بنیاد ہیں اور عوام کا اعتماد براہِ راست پارلیمانی طرزِ عمل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایوانوں میں تشدد، شور شرابہ اور غیر سنجیدہ رویے
جمہوریت کو
نقصان پہنچاتے ہیں، خصوصا ان طبقات کے لیے جو بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانوں کو مکالمے، مصالحت اور تنازعات کے حل کا مرکز ہونا چاہیے، مگر عملی کمزوریاں موجود ہیں۔ مصنوعی ذہانت کو ایک بڑا چیلنج اور موقع قرار دیتے ہوئے انہوں نے اس کی مثر قانون سازی اور نگرانی پر زور دیا۔ آخر میں انہوں نے خواتین کے تحفظ سے متعلق سندھ
اسمبلی کے قوانین کو سراہا اور علاقائی و عالمی پارلیمانی مکالمے کے تسلسل کی اہمیت اجاگر کی۔
ملائشیا کی کیلانٹن اسٹیٹ لیجسلیٹو
اسمبلی کے اسپیکر داتو سری امار دراجہ
ڈاکٹر حاجی محمد امار بن عبداللہ نے ساتویں سی پی اے ایشیا ریجنل اور دوسری مشترکہ ایشیا و جنوب مشرقی ایشیا کانفرنس میں شرکت کو اعزاز قرار دیا۔ انہوں نے
پاکستان کی پارلیمان، سندھ
اسمبلی اور سی پی اے ایشیا سیکریٹریٹ کی مہمان نوازی اور انتظامات کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس ایشیائی خطے کے اسپیکرز اور پارلیمنٹرینز کے لیے تجربات کے تبادلے اور پارلیمانی
جمہوریت کو مضبوط بنانے کا مثر پلیٹ فارم ہے۔
انہوں نے اسپیکر کے غیر جانبدار کردار، انصاف اور نظم و ضبط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کو حکومت اور اپوزیشن دونوں کے ساتھ یکساں رویہ رکھنا چاہیے تاکہ پارلیمانی مباحثے بامقصد اور عوامی مفاد میں ہوں۔ملائشیا کے پاھانگ اسٹیٹ لیجسلیٹو
اسمبلی کے اسپیکر داتو سری حاجی محمد شرکار بن حاجی شمس الدین نے ساتویں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس میں شرکت کو اعزاز قرار دیا اور
پاکستان کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے امن اور جمہوری اعتماد کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ پارلیمان صرف قانون سازی کے ادارے نہیں بلکہ قوم اور عوام کے درمیان اعتماد کے امین ہیں۔ انہوں نے اختلافات کو مکالمے اور
ووٹ کے ذریعے حل کرنے، شمولیت کو فروغ دینے، اور تعاون اور مفاہمت کو ترجیح دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن کو تجربات کے تبادلے اور مشترکہ اقدار کے لیے اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔
سیلانگور
اسمبلی کے اسپیکر لاو وینگ سان نے ساتویں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس میں شرکت پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے امن اور اعتماد کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اسپیکر کا کردار جج سے بڑھ کر ہے کیونکہ وہ فوری فیصلے کرتا ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کے تعاون، شفاف
انتخابات، اور عوامی شمولیت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ پارلیمانی شفافیت کے لیے سیلانگور
اسمبلی کی براہِ راست نشریات کی مثال دی اور معلومات کی غلط ترسیل سے نمٹنے کے لیے قوانین بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
آخر میں انہوں نے ملائشیا کی کثیر النسلی، کثیر ثقافتی سماج میں تعاون اور مفاہمت کی اہمیت بیان کی
۔برطانیہ کے ایوانِ بالا (ہائوس آف لارڈز)کے رکن پال یاو بوٹنگ نے کہا کہ اعتماد
جمہوریت کی بنیاد ہے اور پارلیمان عوامی نمائندگی، جمہوری جواز اور ترقی کے مرکزی ادارے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی چیلنجزماحولیاتی بحران، جیو پولیٹیکل کشیدگیاں، تجارتی جنگیں،
بجٹ کی پابندیاں اور عوامی بداعتمادیپارلیمان کی اہمیت کو بڑھا دیتے ہیں۔
پارلیمان کو محض تقاریر تک محدود نہ رہنے، بلکہ عملی نتائج، شفاف نگرانی اور عوامی اعتماد کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت اور بلاک
چین کے ذریعے شفافیت اور عوامی خدمات میں بہتری کو مثر ذریعہ قرار دیا۔ نوجوانوں کو پارلیمانی عمل میں شامل کرنے، SDGs پر توجہ دینے اور خواتین، بچیوں کی
تعلیم اور صنفی مساوات کے فروغ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اختتام پر انہوں نے اتحاد، عمل اور کامن ویلتھ کے تعاون کو فروغ دینے کی اپیل کی اور قائداعظم
محمد علی جناح کے قول کا حوالہ دیا کہ اتحاد کی شمع تاریک راستوں کو روشن کرتی ہے۔سینیٹر میاں
رضا ربانی نے 7ویں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس کے موضوع کو نہایت بروقت اور اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اور علاقائی سطح پر جمہوری ادارے سیاسی تقسیم، تیز رفتار
ٹیکنالوجی، ماحولیاتی دبا، پاپولزم اور عوامی عدم اعتماد جیسے پیچیدہ چیلنجز سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے پارلیمان کی اہمیت، مکالمے اور مفاہمت کے ذریعے امن و استحکام قائم رکھنے کے کردار پر زور دیا اور
پاکستان کے تجربات، جیسے 18ویں آئینی ترمیم، 7ویں این
ایف سی ایوارڈ، پارلیمانی کمیٹیاں، شفافیت اور عوامی شکایات کے نظام، کو خطے کے لیے قابلِ تقلید قرار دیا۔ خواتین، نوجوانوں اور محروم طبقات کی شمولیت کو جمہوری امن کے لیے بنیادی شرط بتایا اور مفاہمت کو ایک مسلسل جمہوری عمل قرار دیا۔
سیشن کو اسپیکر خیبر پختونخوا
اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بھی خطاب کیا۔ اس سے قبل سندھ
اسمبلی نے کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن (سی پی ای)ایشیا ریجن کے برانچ سیکریٹریز کے اعلی سطحی اجلاس کی میزبانی کی۔ اجلاس کا مرکزی مقصد ایشیا پارلیمانی ایکسچینج پروگرام کے لیے تیار کردہ "ڈرافٹ کانسیپٹ نوٹ" کو حتمی شکل دینا تھا، جس کا مقصد ممبر برانچز میں ادارتی
تعلیم اور جمہوری صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس میں پارلیمانی سیکریٹریز اور سینیئر قانون ساز اہلکار شریک ہوئے اور ایگزیکٹو، کمیٹی نگرانی،
حلقہ بندی اور مختلف قانون سازی کے ماڈلز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ پروگرام 5 سے 7 دن کے مختصر دوروں پر مشتمل ہوگا، تاکہ پارلیمانی ارکان کو عملی
تعلیم فراہم کی جا سکے اور مشترکہ جمہوری اقدار کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔شرکا نے پروگرام کے انتظام، نگرانی، اور اثر پذیری کے حوالے سے اتفاقِ رائے قائم کیا، جسے سی پی اے ایشیا ریجنل سیکریٹریٹ کے ذریعے ہم آہنگ کیا جائے گا۔
اجلاس کو ایشیا میں مضبوط اور
ٹیکنالوجی سے لیس پارلیمانی نیٹ ورک کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا۔جبکہ کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن(سی پی ای)ایشیا ریجن کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اہم اجلاس سندھ
اسمبلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس ساتویں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس اور دوسری مشترکہ ایشیا و ساتھ ایسٹ ایشیا ریجنل کانفرنس 2026 کے سلسلے میں بلایا گیا تھا۔واضح رہے کہ 3 سے 7 فروری تک سندھ
اسمبلی کی میزبانی میں 7ویں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس اور دوسری جوائنٹ سی پی اے ایشیا اینڈ ساتھ ایسٹ ایشیا ریجنل کانفرنس کا سلسلہ کل بھی جاری رہے گا جس کے دوران مختلف ممالک کے وفود سیشنز سے خطاب کریں گے۔