Gاسلامی بینکاری سے متعلق آگاہی سیشن

ؒسر حد چیمبر کا ایس ایم ایز کی فنانسنگ میں 30 فیصد تک بڑھا نے، انڈسٹریل فنڈ اور یوتھ ایمپاورمنٹ فنڈ قائم کا مطا لبہ ؒ خیبرپختونخوا میں کمرشل بینکوں کی جانب سے قرضے کی شرح نہ ہو نے کے بر ا بر ہے، ا ضا فہ نا گر یز ہے ، صدر جنید الطاف ماہرین نے سیشن کے دور ان حلال اور شریعت کے مطابق بینکنگ کا فر وغ، معا شی تر قی میں کر دار کو اجاگرکیا ً اسلامی بینکاری پاکستان کے معاشی منظر نامے کی تشکیل میں ایک اہم قوت کے طور پر ابھر رہی ہے، شر کا ء

بدھ 11 فروری 2026 21:15

ّ پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 11 فروری2026ء) سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ای) کی فنانسنگ کے شیئر میں 20 فیصد تک بڑھا نے، ایگزم بینک کے ذریعے کریڈٹ گارنٹی اسکیموں کی توسیع کا مطا لبہ کیا ۔ سر حد چیمبر نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے تحت خیبر پختو نخوا انڈسٹریل اینڈ یوتھ ایمپاورمنٹ فنڈ کے قیام کے علاوہ پالیسی ریٹ کو 11.5 سے 6 فیصد تک بتدریج کم کرنے ، اوراسٹیٹ بنک ا یڈ و ا ئز ی کمیٹی کو فعال بنانے اور خیبر پختو نخوا میں چھوٹے اور بڑے پیمانے پر کاروبار اور صنعت کو فروغ دینے کیلئے قرض دینے کے تناسب کو بڑھانے کے لئے کمر شل ہدایت جاری کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

(جاری ہے)

یہ مطالبات سر حد چیمبر ا ٓف کا مرس ا ینڈا نڈسٹری کے صدر جنید الطاف نے گذشتہ روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان پشاور اور چیمبر کے با ہمی تعا ون سے منعقد ہ اسلامک بینکنگ سے متعلق آگاہی سیشن کے خطاب کر تے ہو ئے کئے۔ اسلامی بینکاری آگاہی سیشن کا مقصد شریعہ کے مطابق بینکاری اور مالیاتی حل کے بارے میں اراکین کی سمجھ کو بڑھانا ہے۔اس موقع پر سر حد چیمبر کے سینئر نائب صدر محمد ندیم کے علاوہ چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر، پا ک افغا ن جا ئنٹ چیمبر ز کے سینئر نا ئب صدر، سر حد چیمبر کی ڈر ائی پور ٹ کمیٹی کے چیر مین ضیاء الحق سرحدی، TDAPڈائریکٹر نعمان بشیر، وو یمن چیمبر کی صدر قر ا ة العین اور احسان اللہ، راشد اقبال صدیقی، حمود الرحمان، اشتیاق پراچہ، فیض رسول، سر حد چیمبر جنرل سیکرٹری مقتصد احسن، فضل و احدکے علاوہ مختلف کمرشل بینکوں کے نمائندوں، تاجر برادری کے افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔

سیشن میں قائم مقام چیف منیجرSBP پشاور شہریار، سٹیٹ بینک کے ڈپٹی منیجر پشاور نعمت اللہ خان اور سینئر حکام اور دیگر نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر مشتر کہ فوکس گرو پ کے قیا م کا بھی اعلا ن کیا گیا جس میں سر حد چیمبر کے نما ئندے، اسٹیٹ بنک اور مختلف کمر شل بنکو ں کے افسرا ن شا مل ہو نگے جو کہ مل کر مخصو ص مسا ئل کیلئے قا بل عمل حل تلا ش کر یں گے اوربزنس کمیو نٹی کو سہو لیات کی فر اہمی کیلئے مشتر کہ اقدا ما ت ا ٴْٹھا ئیں گے۔

سیشن نے بامعنی مکالمے کی حوصلہ افزائی کی، جس میں شرکاء نے زبردست جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور فکر انگیز سوالات پوچھے جس سے مجموعی طور پر سیکھنے کے تجربے کو تقویت ملی۔اسلامک اسکالر ڈاکٹر مفتی اسد نے حلال اور شریعت کے مطابق بینکنگ سلوشنز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ملک میں اسلامی بینکاری کی قدر کے بارے میں بصیرت فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکاری پاکستان کے معاشی منظر نامے کی تشکیل میں ایک اہم قوت کے طور پر ابھر رہی ہے۔

اسٹیٹ بنک کے سینئرافسر نعمت اللہ نے بھی سیشن سے خطاب کیا اور اسلامی بینکاری کو فروغ دینے کے لیے اسٹیٹ بینک کے اقدامات اور کوششوں سے آگاہ کیا اور کاروباری برادری کی سہولت کے لیے کمرشل بینکوں کے لیے ایک کلیدی ریگولیٹر ہونے کیلئے کمرشل بینکوں کو ہدایات دی گئیں۔ صدر جنید الطاف نے کہا کہ مختلف اندازوں کے مطابق اسلامی بینکنگ کے اثاثے 2029 تک 9.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج اسلامی بینکنگ 140 سے زائد ممالک میں موجود ہے جبکہ سکوک (اسلامی سرمایہ کاری کے سرٹیفکیٹس) بھی 1 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، اسلامک بینکنگ ڈپازٹس 9.5 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکے ہیں جو کہ کل ڈپازٹس کا 25 فیصد ہے جبکہ فنانسنگ کا حصہ 30 فیصد سے زیادہ ہے۔تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محض منتقلی کامیابی نہیں ہے بلکہ حقیقی پیش رفت میں شمولیت، خاص طور پر ایس ایم ایز اور علاقائی معیشت ہے۔

سر حد چیمبر کے صدر جنید الطاف نے کہا کہ آج میں ایک اہم مسئلہ کو اجاگر کرنا چاہتا ہوں کہ کاروباروں تک مالیات تک مجموعی رسائی محض 2.1 فیصد ہے، جب کہ خطے میں یہ اوسط 31 فیصد اور ایس ایم ایز تک رسائی صرف 7 فیصد اور علاقائی سطح پر تقریباً 25 فیصد ہے۔ انہوں نے خیبر پختو نخوا کے حو الے سے وضاحت کی جہا ں پر ڈپا زٹس کے مقابلہ میں قر ضو ں کی شر ح 0.9 فیصد کے کرنے کے تناسب کے مقابلے میں کل قومی ذخائر میں تقریباً 16 فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔

انہوں نیSMEs کی اقتصادی ترقی کے اہم کردار پر روشنی ڈالی اور آسان طریقہ کار کے تحت فنانس تک رسائی کا مطالبہ کیا۔ سر حد چیمبر کے صدر جنیدا لطاف نے آگاہی سیشن کے انعقاد پر اسٹیٹ بینک کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ کاروباری برادری کے لیے انتہائی سود مند ثابت ہوگا اور اسلامی بینکاری اور نئی اسکیموں اور مصنوعات پر مزید سیشن منعقد کرنے پر زور دیا تاکہ تاجر برادری ان سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔اس موقع پر سر حد چیمبر کے سینئر ایگز یکٹو ممبر ضیا ء الحق سر حد ی نے ا سٹیٹ بنک کی ا یڈ و ا ئزی کمیٹی کو فعا ل بنا نے کی تجو یز پیش کی