Live Updates

ایران کی جوہری حکمتِ عملی کے مرکزی معمار لاریجانی جینوا مذاکرات کے کلیدی کردار

DW ڈی ڈبلیو بدھ 25 فروری 2026 20:40

ایران کی جوہری حکمتِ عملی کے مرکزی معمار لاریجانی جینوا مذاکرات کے ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 25 فروری 2026ء) نظریاتی وفاداری اور عملی حکمتِ عملی کے درمیان توازن قائم رکھنے میں ماہر لاریجانی مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے، مگر وہ تہران کی جوہری پالیسی اور اسٹریٹجک سفارت کاری کے مرکزی کردار ہیں۔

جنیوا میں جمعرات کو ہونے والی امریکی اورایرانی مذاکرات کاروں کی ملاقات عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

اُدھر تہران کی پالیسی سازی کے بند کمروں میں ایک شخصیت نمایاں طور پر فعال ہے، علی لاریجانی، جو ایران کی اعلیٰ سکیورٹی قیادت میں نہایت اہم مقام رکھتے ہیں۔

غیر معمولی سفارتکار

لاریجانی گرچہ براہِ راست مذاکرات کا حصہ نہیں ہوں گے، لیکن عملی سیاست اور نظریاتی وابستگی کے امتزاج میں مہارت رکھنے والے یہ 68 سالہ سینئر رہنما تہران کی جوہری پالیسی اور اسٹریٹیجک سفارت کاری کے بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

گزشتہ ماہ کے اختتام پر لاریجانی ہی وہ شخصیت تھے جنہیں تہران نے ماسکو بھیجا، جہاں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کی۔ رواں ماہ وہ خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے بھی ملے، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعطل دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اپنے محتاط اور نپے تلے لہجے کی وجہ سے پہچانے جانے والے لاریجانی ایران کی فوج، میڈیا اور مقننہ میں طویل خدمات انجام دے چکے ہیں، اور وسیع حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ انہیں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا اعتماد حاصل ہے۔

2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے چند ہفتوں بعد لاریجانی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا، وہی عہدہ جو وہ تقریباً دو دہائیاں قبل بھی سنبھال چکے تھے۔ اس منصب پر انہیں دفاعی حکمت عملیوں کی ہم آہنگی اور جوہری پالیسی کی براہ راست نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی۔

اس تقرری کے بعد لاریجانی سفارتی محاذ پر تیزی سے متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔

وہ عمان اور قطر سمیت متعدد خلیجی ریاستوں کا دورہ کر چکے ہیں، ایک ایسے وقت میں جب واشنگٹن کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع ہو رہے ہیں اور خطے میں امریکی افواج کی بڑی تعیناتی دیکھی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ لاریجانی مذاکرات کی میز پر موجود نہیں ہوں گے، لیکن جنیوا کے مباحثوں کا رخ کسی بھی سمت مڑنے سے پہلے تہران میں ان کے اثر و رسوخ سے ضرور گزرے گا۔

لاریجانی کا پس منظر

بین الاقوامی کرائسس گروپ سے منسلک ایک ایرانی ماہرعلی واعظ نے کہا ہے کہ علی لاریجانی اس وقت اپنے کئی پیش روؤں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے بقول لاریجانی نظام کے اندر سے اُٹھنے والے، معاملہ فہم اور بااختیار سیاسی کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں، جو سپریم لیڈر کے رجحانات سے بھی بخوبی واقف ہیں۔

1957 میں عراق کے شہر نجف میں ایک معروف شیعہ مذہبی گھرانے میں پیدا ہونے والے لاریجانی کا خاندان گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران کی سیاست میں اثرورسوخ رکھتا ہے۔ اگرچہ ان کے بعض رشتہ دار بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرتے رہے، جن کی انہوں نے تردید کی۔

لاریجانی نے تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفے میں پی ایچ ڈی کی اور ایران عراق جنگ میں پاسدارانِ انقلاب کا حصہ رہے۔

بعدازاں 1994 سے ایک دہائی تک سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے سربراہ رہے اور 2008 سے 2020 تک پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے۔

وہ 1996 میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل (SNSC) میں آیت اللہ خامنہ ای کے نمائندے مقرر ہوئے اور بعد میں انہی کے سیکرٹری اور ایٹمی مذاکرات کار کے طور پر برطانیہ، فرانس، جرمنی اور روس کے ساتھ بات چیت کی قیادت کرتے رہے۔

لاریجانی نے 2005 کا صدارتی انتخاب لڑا لیکن محمود احمدی نژاد سے شکست کھائی۔ انہیں 2021 اور 2024 کے صدارتی انتخابات میں نااہل بھی قرار دیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ SNSC کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی واپسی ایران کی سکیورٹی پالیسی میں ایک زیادہ عملی اور لچک دار رجحان کی علامت ہے۔ وہ 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے کے حامی رہے، تاہم یہ سمجھوتہ اس وقت بکھر گیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ کو اس سے یکطرفہ فیصلے کے ساتھ الگ کر لیا۔

'پرتشدد جبر‘

علی واعظ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ واشنگٹن سمجھتا ہے کہ ایسے کسی تصادم سے اسے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہو گا۔

امریکہ نے رواں سال جنوری میں علی لاریجانی سمیت متعدد ایرانی حکام پر پابندیاں عائد کی تھیں، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے مہنگائی کے خلاف پھوٹنے والے ملک گیر احتجاجات کو ''تشدد کے ذریعے دبایا‘‘۔

لاریجانی نے حالیہ بیان میں تسلیم کیا کہ ایران میں پائے جانے والے معاشی دباؤ نے عوامی احتجاجات کو جنم دیا، تاہم انہوں نے اس کے بعد پیدا ہونے والی تشدد کی فضا کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہرایا۔

واعظ کا کہنا ہے کہ لاریجانی کی سیاسی حکمت عملی ان کی طویل مدتی خواہشات سے جڑی ہوئی ہے۔

علی واعظ کے بقول، ’’وہ ایک بااثر اور بلند عزائم رکھنے والے سیاست دان ہیں جن کی نظریں اعلیٰ ترین منصب پر ہیں۔ لاریجانی یقینی طور پر صدر بننا چاہتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یہی خواہش دو طرح کے محرکات پیدا کرتی ہے۔ ایک نظام کا تحفظ، اور دوسرا یہ کہ وہ اپنے سیاسی امکانات کو ضائع ہونے سے بچائیں۔

ادارت: جاوید اختر

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات