Live Updates

} تاجر برادری کا رات دس بجے سے پہلے دکانیں بند نہ کرنے کا اعلان

دکانیں رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے، اجمل بلوچ ڑ* حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو احتجاج کریں گے، آل پاکستان انجمن تاجران

منگل 7 اپریل 2026 20:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 اپریل2026ء) صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں تاجر برادری رات دس بجے سے پہلے دکانیں بند نہیں کرے گی۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ دکانیں رات آٹھ بجے بند کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔اجمل بلوچ نے کہا کہ سندھ اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں تاجروں کے مؤقف کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ وفاقی، پنجاب اور بلوچستان حکومتوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لیں۔

ان کے مطابق رات آٹھ بجے کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کسی صورت درست نہیں کیونکہ اس سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوگا بلکہ شہریوں کے لیے خریداری میں بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ تاجر برادری شام چھ بجے سے رات دس بجے تک سب سے مہنگی بجلی خریدتی ہے اور ملکی توانائی کے اخراجات پورے کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

(جاری ہے)

ان کے مطابق اگر دکانیں رات آٹھ بجے بند کر دی جائیں تو محدود وقت میں رش بڑھ جائے گا اور پیک آورز میں کاروبار بند کرانا مزید مسائل پیدا کرے گا۔

اجمل بلوچ نے کہا کہ کاروباری سرگرمیاں جاری رہنے سے ہی ملکی معیشت کا پہیہ چل سکتا ہے۔ انہوں نے سٹیل مل، پی آئی اے، ریلوے اور دیگر سرکاری اداروں کے خساروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کفایت شعاری کا بوجھ صرف تاجروں پر ڈالنا مناسب نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو تاجر برادری کے ساتھ سختی کے بجائے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر تجارت اور وزیر توانائی سے مطالبہ کیا کہ وہ تاجروں کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالیں۔اجمل بلوچ نے مزید کہا کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی بات ہو سکتی ہے تو تاجروں کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تاجروں کے خلاف سختی کی گئی تو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات