عالمی یومِ سورج(آج)منایا جائے گا: شمسی توانائی مستقبل کی ناگزیر ضرورت، ماحولیاتی بحران کا موثر حل قرار

ہفتہ 2 مئی 2026 16:40

پنگریو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 مئی2026ء) دنیا بھر میں آج 3 مئی کو عالمی یومِ سورج منایاجارہاہے جس کا مقصد شمسی توانائی کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے قابلِ تجدید ذرائع کو فروغ دینا ہے۔ ماہرین کے مطابق سورج زمین پر دستیاب توانائی کا سب سے بڑا اور پائیدار ذریعہ ہے جو ہر گھنٹے میں اتنی توانائی فراہم کرتا ہے جو دنیا کی سالانہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے تاہم اس کے باوجود عالمی سطح پر اس کے استعمال کی شرح ابھی بھی مکمل صلاحیت کے مقابلے میں کم ہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ دہائی میں سولر انرجی دنیا کا تیزی سے بڑھتا ہوا توانائی کا شعبہ بن چکا ہے اور 2024 تک عالمی بجلی پیداوار میں شمسی توانائی کا حصہ تقریبا 5 سے 6 فیصد تک پہنچ گیا ہے جبکہ 2030 تک اس میں کئی گنا اضافے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ فوسل فیول یعنی کوئلہ، تیل اور گیس کے بے دریغ استعمال سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، گلیشیئرز کے پگھلا اور موسمی شدت جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں، ایسے میں شمسی توانائی ایک صاف، سستی اور ماحول دوست متبادل کے طور پر ابھر رہی ہے۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سولر ٹیکنالوجی کی لاگت میں گزشتہ دس سالوں کے دوران تقریبا 80 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے جس سے یہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک کے لیے قابلِ رسائی بن گئی ہے، چین، امریکہ، بھارت اور یورپی یونین اس شعبے میں سب سے آگے ہیں جہاں بڑے پیمانے پر سولر فارمز قائم کیے جا رہے ہیں جبکہ گھریلو سطح پر بھی سولر پینلز کی تنصیب میں تیزی آئی ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے ممالک جہاں سال کے 300 سے زائد دن دھوپ دستیاب ہوتی ہے وہاں شمسی توانائی نہ صرف لوڈشیڈنگ کے خاتمے بلکہ معاشی استحکام کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، اندازوں کے مطابق پاکستان میں سولر پاور کی صلاحیت ہزاروں میگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے مگر پالیسی، سرمایہ کاری اور آگاہی کی کمی اس کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

عالمی یومِ سورج کے موقع پر ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتیں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھائیں، سبسڈی فراہم کریں اور عوام میں شعور اجاگر کریں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے صاف، محفوظ اور پائیدار ماحول یقینی بنایا جا سکے کیونکہ توانائی کا مستقبل اب روایتی ذرائع نہیں بلکہ سورج کی روشنی سے جڑا ہوا ہے۔