تخریب اور پیپلزپارٹی لازم و ملزوم ہیں، منعم ظفر خان کا ’’حق دو ملیرکو‘‘تحریک کا اعلان

ملیر ٹاؤن میں منشیات کے اڈے کھلے عام چل رہے ہیں اور یہ پولیس کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔ ضلع ملیر میں کیمپ کا دورہ و میڈیا سے گفتگو کراچی کی تعمیر، انفرااسٹرکچر کی بحالی اور پانی کے منصوبوں کے لیے مختص 3360 ارب روپے پیپلزپارٹی ہڑپ کرچکی ہے،کارکنان مسائل کے حل کے لیے کارنر میٹنگز اورعوامی رابطہ تیز کریں، مسائل حل نہ ہوئے تو ڈی سی آفس اور تھانوں کا گھیراؤ بھی کیا جائے گا، امیرجماعت اسلامی

ہفتہ 2 مئی 2026 20:55

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 مئی2026ء) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے امیر ضلع ملیر سید مفخر علی کے ہمراہ داؤد چورنگی لانڈھی، ضلع ملیر میں بلدیاتی مسائل کے حوالے سے قائم احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تخریب اور پیپلزپارٹی لازم و ملزوم ہیں، جہاں پیپلزپارٹی کی حکمرانی ہوتی ہے وہاں تباہ کاری لازمی ہوتی ہے۔

قابض میئر مرتضیٰ وہاب کے ڈپٹی میئر کا تعلق بھی ضلع ملیر سے ہے، مگر افسوس کہ ملیر سمیت پورا کراچی تباہی و بربادی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ ملیر ٹاؤن میں منشیات کے اڈے کھلے عام چل رہے ہیں اور یہ پولیس کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔ کراچی کی تعمیر، انفرااسٹرکچر کی بحالی اور پانی کے منصوبوں کے لیے مختص 3360 ارب روپے پیپلزپارٹی ہڑپ کرچکی ہے۔

(جاری ہے)

کراچی ملک کی 54 فیصد ایکسپورٹ اور 67 فیصد ریونیو فراہم کرتا ہے، مگر بدقسمتی سے شہر پر ایسے حکمران مسلط ہیں جو کراچی کے ساتھ دشمنی کررہے ہیں۔جماعت اسلامی نے ''حق دو ملیرکو'' تحریک کا آغاز کردیا ہے،کارکنان مسائل کے حل کے لیے کارنر میٹنگز کریں اور عوامی رابطہ مہم مزید تیز کریں،اگر مسائل حل نہ ہوئے تو ڈی سی آفس اور تھانوں کا گھیراؤ بھی کیا جائے گا۔

اہلِیان ملیر، خصوصاً نوجوان اور خواتین جماعت اسلامی کی جدوجہد میں شامل ہوں، جماعت کے ممبر بنیں اور کراچی کو اس کا حقیقی مقام دلانے کی تحریک کا حصہ بنیں۔جماعت اسلامی کی جدوجہد کراچی کو دوبارہ کراچی بنانے، شہر کو ازسرنو بحال کرنے اور شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کی جدوجہد ہے۔اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات کراچی زاہد عسکری، سیکریٹری ضلع ملیر کامران نواز ،ناظم علاقہ نواز خان، یوسی چیئرمین بشیر خان سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔

منعم ظفر خان نے مزیدکہاکہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد ملیر کے سنگین مسائل سے عوام کو آگاہ کرنا اور پیپلزپارٹی کے نااہل ٹاؤن چیئرمین اور قابض میئر کی ناقص کارکردگی کو بے نقاب کرنا ہے۔داؤد چورنگی کراچی کا اہم انڈسٹریل حب ہے، جہاں بڑی صنعتیں قائم ہیں، مگر داؤد چورنگی سے لانڈھی تک شاہراہ لانڈھی کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کراچی کے تمام انڈسٹریل ایریاز بدحالی کا شکار ہیں۔

پیپلزپارٹی گزشتہ 18 برس سے سندھ پر حکمرانی کررہی ہے، مگر وہ ایک بھی ایسا بڑا منصوبہ نہیں بتاسکتی جو بروقت مکمل کیا گیا ہو۔ کے فور منصوبے گزشتہ 22 برس سے التوا کا شکار ہے۔ اسے دسمبر 2024 میں مکمل ہونا تھا، اب جون 2027 کی نئی تاریخ دی گئی ہے۔ اگر یہ منصوبہ مکمل بھی ہوجائے تو موجودہ حکمرانوں میں اتنی اہلیت نہیں کہ شہریوں تک پانی پہنچاسکیں۔

14 ارب روپے قوم کے ٹیکسوں کے ضائع کیے جاچکے ہیں، جبکہ شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ آبادیوں میں پانی فراہم نہیں کیا جارہا، ٹینکر مافیا سرگرم ہے اور شہری مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ اربوں روپے کا پانی ہائیڈرینٹس کے ذریعے فروخت کیا جارہا ہے، مگر گھروں کے نل خشک ہیں۔منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی ایک زمانے میں ملک بھر کے لیے ترقی کی مثال تھا۔

2001 سے 2005 کے دور میں جب نعمت اللہ خان سٹی ناظم تھے تو پورے ملک سے لوگ کراچی کی ترقی دیکھنے آیا کرتے تھے، مگر آج یہی شہر بنیادی سہولیات سے محروم ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض میئر لاہور جا کر واسا حکام سے مدد مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کراچی کو کھڑا کرنے کے لیے مزید پیسے درکار ہیں، جبکہ سوال یہ ہے کہ کراچی کے نام پر ملنے والے اربوں روپے کہاں خرچ ہوئی انہوں نے کہا کہ پانی، بجلی اور انفرااسٹرکچر شہریوں کی بنیادی ضروریات ہیں، مگر وفاق اور صوبائی حکومت دونوں کراچی کی تباہی میں برابر کے شریک ہیں۔

نیپا سے حسن اسکوائر تک پائپ لائن منصوبے میں بھی غیرمعیاری کام کیا گیا، جس پر ورلڈ بینک نے اعتراضات اٹھائے اور کہاکہ اس پائپ لائن کو اکھاڑ کر دوبارہ لائنیں ڈالی جائیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری 18،18 گھنٹے لوڈشیڈنگ برداشت کررہے ہیں اور اب صرف بجلی آنے کا انتظار ہی ان کی زندگی کا معمول بن چکا ہے۔سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کچرا اٹھانے کے لیے مختص بجٹ کرپشن کی نذر ہورہا ہے، جس کے باعث پورا شہر کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہے۔کراچی کے شہری اکیسویں صدی میں بھی اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانے پر مجبور ہیں، اسٹریٹ کرمنلز آزادانہ کارروائیاں کررہے ہیں اور شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں جماعت اسلامی عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔