اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 مئی 2026ء) وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال میں اپنی پارٹی کی شاندار کامیابی کے بعد کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج عوام کے جمہوریت، کارکردگی پر مبنی سیاست اور استحکام پر اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں، اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت بحرانوں، مثلاﹰ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ، کے دوران بھی متحد ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ہیڈکوارٹرز میں خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ نتائج اس ریاست (مغربی بنگال) میں بی جے پی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتے ہیں جہاں اسے ماضی میں مشکلات کا سامنا رہا تھا۔ انہوں نے کہا، ''بنگال کی تقدیر میں ایک نیا باب شامل ہو گیا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''مغربی بنگال میں بی جے پی کی ریکارڈ کامیابی نسلوں سے کارکنوں کی محنت اور جدوجہد کے بغیر ممکن نہ تھی۔
(جاری ہے)
بی جے پی نے ایک ایسے ریاستی الیکشن میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے جو طویل عرصے سے ان کے بڑے سیاسی حریف کے قبضے میں تھی۔
الیکشن کمیشن
آف انڈیا کی ویب سائٹ کے مطابق بی جے پی کو 294 میں سے 207 اسمبلی نشستیں ملی ہیں۔یہ کامیابی مودی کو 2029 کے عام انتخابات سے قبل مضبوط پوزیشن فراہم کر سکتی ہے، خاص طور پر جب وہ بے روزگاری کی بلند شرح اور امریکہ کے ساتھ زیر التوا تجارتی معاہدے سمیت معاشی اور خارجہ پالیسی کے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق نریندر مودی کی شخصیت، منظم جماعتی ڈھانچہ، وسائل کی برتری اور معاشی ترقی کے ساتھ مضبوط ہندو بیانیہ بی جے پی کی کامیابی کے اہم عوامل ہیں۔
مودی کی پوزیشن مزید مضبوط
بی جے پی نے اس سے پہلے کبھی مغربی بنگال میں حکومت نہیں کی اور وہ برسوں سے آل انڈیا ترنمول کانگریس کی حکومت کو ہٹانے کی کوشش کرتی رہی تھی، جس کی قیادت وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کر رہی تھیں۔
وہ مودی کے نمایاں ناقدین میں شمار ہوتی ہیں اور 2011 سے اس سیاسی طور پر اہم ریاست پر حکمرانی کر رہی تھیں۔ انہوں نے ریاست میں 34 سال تک حکومت کرنے والی بائیں بازو کی حکومت کو ہرایا تھا۔اپوزیشن جماعتیں ابتدا سے ہی ان انتخابات پر سخت تنقید کرتی رہی تھیں۔ انہوں نے خاص طور پر الیکشن کمیشن کے ذریعے لاکھوں ووٹروں کے نام ووٹر لسٹوں سے نکال دینے پر سخت اعتراض کیے۔
لیکن وہ بی جے پی کے غلبے کے خلاف متحد اور مؤثر چیلنج دینے میں مشکلات کا شکار رہی تھیں۔ممتا بینرجی کو ایک اہم قومی رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو علاقائی جماعتوں کو بی جے پی کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان کی شکست سے اپوزیشن اتحاد مزید کمزور ہو سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار سوشیلا راماسوامی کے مطابق مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت مشرقی بھارت میں پارٹی کی گرفت کو مزید مضبوط کرے گی۔
انہوں نے کہا، ''یہ اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی کی انتخابی مشینری کتنی مؤثر ہے اور اس کی مہم میں کتنی باریک منصوبہ بندی شامل ہوتی ہے، اور اس سے بی جے پی ملک کی غالب جماعت کے طور پر مضبوط ہوتی ہے۔‘‘
بی جے کے متنازعہ منصوبے
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کے بعد اس ہندو قوم پسند جماعت کو اپنے بعض متنازعہ دیرینہ سیاسی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
بی جے پی طویل عرصے سے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی حامی رہی ہے تاکہ مختلف مذاہب کے لیے الگ الگ قوانین کے بجائے ایک مشترکہ قانون نافذ کیا جا سکے۔ بھارت کی مسلم اقلیت اس کے سخت خلاف ہے اور اسے اپنے مذہب اور بھارتی آئین کے تحت حاصل حق کے خلاف قرار دیتی ہے۔
پارلیمان میں دو تہائی اکثریت نہ ہونے کے باعث بی جے پی وفاقی سطح پر آئینی ترمیم نہیں کر سکتی، لیکن جن ریاستوں میں اس کی حکومت ہے وہاں یہ اقدام ممکن ہے۔
اسی طرح بنیادی ڈھانچے کے منصوبے بھی اپوزیشن کی کم مزاحمت کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔بی جے پی کے زیر حکومت کچھ ریاستیں پہلے ہی اپنے طور پر ایسے قوانین پر کام کر رہی ہیں۔ اب بی جی پی انتخابی حلقہ بندیوں میں تبدیلی اور قومی و ریاستی انتخابات ایک ساتھ کرانے جیسے متنازعہ اقدامات کو بھی آگے بڑھا سکتی ہے۔
بی جے پی کے رکن پارلیمان پروین کھنڈیلوال نے بھی اس کا عندیہ دیتے ہوئے کہا، ''اس(کامیابی) سے مذہب پر مبنی قوانین کے بجائے یکساں قوانین نافذ کرنے کی راہ بھی ہموار ہو گی۔‘‘
ادارت: مقبول ملک