Live Updates

متحدہ عرب امارات مستقبل میں خلیج تعاون تنظیم(جی سی سی )اور عرب لیگ کی رکنیت بھی چھوڑسکتا ہے.ماہرین

امارات کے نزدیک خطے کے عرب ممالک نے ایران کے یواے ای پر حملوں کے خلاف کردارادانہیں کیا‘ ابوظہبی سمجھتا ہے کہ عرب ممالک کو ایران کے خلاف متحدہوکر تہران کے خلاف کاروائی کرنا چاہیے تھی.مشرق وسطی امورکے ماہرین کا اظہار خیال

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل 5 مئی 2026 17:44

متحدہ عرب امارات مستقبل میں خلیج تعاون تنظیم(جی سی سی )اور عرب لیگ کی ..
لندن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 مئی ۔2026 ) متحدہ عرب امارات مستقبل قریب میں خلیج تعاون تنظیم(جی سی سی )اور عرب لیگ کی رکنیت بھی چھوڑسکتا ہے‘مشرق وسطی امو رکے عالمی ماہرین کے نزدیک متحدہ عرب امارات کے نزدیک خطے کے عرب ممالک نے ایران کے یواے ای پر حملوں کے خلاف کردارادانہیں کیا‘ان کے نزدیک ابوظہبی سمجھتا ہے کہ عرب ممالک کو ایران کے خلاف متحدہوکر تہران کے خلاف کاروائی کرنا چاہیے تھی.

(جاری ہے)

برطانیہ میں مشرق وسطی کے امورپر کام کرنے والے ادارے”مڈایسٹ آئی“سے منسلک کنگزکالج لندن کے ڈیفنس اسڈیزڈیپارٹمنٹ میں استاد ڈاکٹراینڈریاس کریگ نے کہاکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں تناﺅ رہا ہے تاہم ماضی میں عرب ملکوں کے حکمران سعودی عرب کو اپنا بڑا مان کر اس کی طے کردہ پالیسیوں کے مطابق معاملات کو چلاتے رہے ہیں تاہم نئی نسل کے پاس اقتدار آنے اور ملکوں کی ترجیحات تبدیل ہونے کے بعد سے تعلقات میں تیزی سے اتارچڑھاﺅ آتا رہا ہے.

متحدہ عرب امارات نے نائن الیون کے بعد رضاکارانہ طور پر خود کو ”دہشت گردی“کے خلاف ایک سخت ترین اتحادی کے طور پر پیش کیا تھا اور اسلامی دنیا میں واحد ریاست تھی جس نے ”اسلامی انتہا پسندی“کے خلاف شدید ترین کاروائیوں میں حصہ لیا اور اس کے خلاف کام کرنے والے مغربی اداروں کو اربوں ڈالر کے فنڈزفراہم کیئے ‘مضمون میں لکھا ہے کہ عراق کے خلاف امریکی جنگ ہو یا لیبیا میں قذافی حکومت کے خلاف بغاوت یواے ای نے پیسے اور پراکسیزکے ذریعے امریکا اور مغرب کا بھرپور ساتھ دیاجنہیں امریکی تجزیہ نگار پروفیسرجیفری سیکس ‘پروفیسر جان مئیرشیمر‘صحافی ٹکرکارلسن اور صحافی ومصنف کرس ہیجزسمیت بیشتر امریکی دانشور اسرائیل کی جنگیں قراردیتے ہیں.

مضمون نگار کا کہنا ہے کہ ابھی بھی امارات صومالیہ اور سوڈان سمیت متعدد افریقی ممالک میں جاری” خانہ جنگیوں“میں پس پردہ اہم کردارادا کررہا ہے جس کا مقصد افریقہ سے سونے اور دیگر قیمتی دھاتو ں کا حصول ہے جبکہ عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی یواے ای چھوٹا ملک ہونے کے باوجود چاہتا ہے کہ اسے خطے کی طاقت کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ سازحیثیت دی جائے جوکہ روایتی طورپر سعودی عرب کے پاس چلی آرہی ہے.

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تقرری کے بعد انہوں نے پالسیوں میں انقلابی تبدیلیاں کیں اور سعودی عرب میں اصلاحات کا عمل شروع کیا جس کے بعد اماراتی شاہی خاندان کے اہم افراد نے انہیں اپنا مدمقابل سمجھنا شروع کیا تاہم ”عرب سپرنگ“نے حریفوں کو حلیف بننے میں مدد دی اور یمن کے خلاف سعودی کاروائی میں متحدہ عرب امارات اتحادی بن کر شامل ہوا تاہم یمن جنگ کے دوران بھی دونوں عرب طاقتوں کی ترجیحات مختلف رہیں اور یمن جنگ کے دوران ہی دونوں ملکوں کے درمیان دوبارہ اختلافات شروع ہوئے کیونکہ یواے ای ایسے گروپوں کو مددفراہم کررہا تھا جنہیں سعودی عرب اپنا مخالف سمجھتا ہے اسی طرح غیرملکی ملیشاﺅں کے ذریعے یمن میں متعددسعودی حامی سیاسی ومذہبی راہنماﺅں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد سعودی عرب نے زیادہ سختی دکھائی اوردسمبر2025میں بحیرہ عرب میں واقع اہم یمنی بندگارہ ”مالکا“پر لنگراندازیواے ای کے ایک بحری جہازکو نشانہ بنایا تھا .

سعودی عرب کا الزا م تھا کہ یواے ای کا بحری جہازسعودی مخالف یمنی گروپوں کو جنگی سازوسامان فراہم کررہا تھا‘دوسری جانب یواے ای نے 2017میں سعودی عرب کو آمادہ کیا تھا کہ وہ قطرکے زمینی راستے بند کردے کیونکہ قطرنے یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر یمن میں جاری فوجی تنازعے کا حصہ بننے سے انکار کیا تھا جس کے بعد سعودی عرب اور قطرکے دمیان بھی تعلقات کشیدہ رہے اور 2022کے” فیفا“فٹبال ورلڈ کپ کے قطر میں انعقاد سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ سعودی عرب کی خواہش تھی کہ ”فیفا“ورلڈکپ کی میزبانی سعودی عرب کو ملے .

ماہرین کے نزدیک خطے کے ملکوں کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں تناﺅ میں یواے ای کی دو اہم ترین شخصیات نے نمایاں کردار اداکیاجہاں تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا معاملہ ہے تو یواے ای اور اسرائیل کے درمیان رابطے امریکا کی ”دہشت گردی“کے خلاف عالمی جنگ سے بھی پہلے شروع ہوچکے تھے تاہم انہیں باضابط شکل 2017میں ”ابراہیمی معاہدے“کے ذریعے دی گئی‘عرب ممالک فلسطین اور اسرائیل کے بارے میں ایک روایتی موقف رکھتے ہیں جبکہ امارات نے اس سے ہٹ کر موقف اختیار کیا اور اسرائیل کے ساتھ سیکورٹی اور انٹیلی جنس شیئرنگ جیسے دیرینہ تعلقات کا باضابط سفارتی تعلقات کا کورفراہم کیا.

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں طاقت اور مفادات پر جاری سردجنگ ایران تنازع کے بعد ”ایکٹووار“کی صورت میں کھل کرسامنے آگئی ہے اور اگر مستقبل میں اگر متحدہ عرب امارات جی سی سی او رعرب لیگ سے علحیدگی اختیار کرتا ہے تو یہ کوئی اچنبے والی بات نہیں ہوگی‘ان کا کہنا ہے کہ مسقتبل میں افریقہ میں بھی عرب حریف ممالک کے مفادات کا ٹکراﺅ کھل کرنظرآئے گا ‘ان کے نزدیک افریقہ کی قیمتی معدنیات کے حصول کے لیے دنیا کی کئی طاقتوں کے درمیان طویل عرصے سے خاموشی کے ساتھ ایک لڑائی جاری ہے جس میں طاقتور عرب ملک بھی فریق ہیں ‘دنیا کی دیگر طاقتیں خاموش معاہدے کی تحت براعظم افریقہ کے مختلف حصوں میں وسائل پر قبضے جمائے ہوئے ہیں جبکہ عرب طاقتیں چند مخصوص ملکوں تک محدود ہیں اور انہی ملکوں میں متحارب گروپوں کو مدد فراہم کرتی ہیں اس لیے ان کے درمیان مفادات کی لڑائی کسی نہ کسی صورت جاری رہتی ہے. 
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات