�راچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 مئی2026ء) میئر
کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے سوبھراج میٹرنٹی اسپتال میں جدید پوسٹ ڈیلیوری وارڈ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا، افتتاحی تقریب میں میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر، کے ایم سی سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان، سینئر ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز مہوش مٹھانی، یوسی چیئرمینز، منتخب نمائندے اور دیگر معززین بھی موجود تھے،افتتاح کے بعد میئر
کراچی نے اسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا، اس موقع پر انہوں نے مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے بھی ملاقات کی اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئرکراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پوسٹ ڈیلیوری وارڈ میں جدید بیڈز، جدید طبی آلات اور آرام دہ ماحول فراہم کیا گیا ہے تاکہ زچہ و بچہ کو بہترین نگہداشت میسر آسکے، خواتین کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی بلدیہ عظمیٰ
کراچی کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے ہرممکن اقدامات کیے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پوسٹ ڈیلیوری وارڈ کے قیام سے نہ صرف مریضوں کے رش میں کمی آئے گی بلکہ
علاج معالجے کی سہولیات میں بھی نمایاں بہتری ہوگی، ان کا کہنا تھا کہ بلدیہ عظمیٰ
کراچی شہر کے اسپتالوں کی اپ گریڈیشن پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور خواتین و نومولود بچوں کے لیے محفوظ اور بہتر ماحول کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ شہر میں صحت عامہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں اور بلدیہ عظمیٰ
کراچی اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے ادا کررہی ہے،میئر
کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سوبھراج میٹرنٹی اسپتال کی پرانی عمارت تاریخی اعتبار سے نہایت اہمیت کی حامل ہے اور بلدیہ عظمیٰ
کراچی نے اس میں بہتری کے کاموں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، ادارے کی بحالی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں،میئر
کراچی نے بتایا کہ اس وقت اسپتال میں 140 بستروں کی سہولیات میسر ہیں جبکہ او پی ڈی کے لیے صرف 20 روپے کی پرچی مقرر کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ روزانہ تقریباً 450 افراد او پی ڈی کی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں جو عوام کا اس ادارے پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے،انہوں نے کہا کہ سوبھراج میٹرنٹی اسپتال میں روزانہ متعدد بچوں کی پیدائش ہوتی ہے اور اوسطاً 25 سے 26 ڈیلیوریز یومیہ انجام پاتی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ڈیلیوری کے بعد بعض بچوں کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پیش آتی تھی مگر یہ سہولت دستیاب نہیں تھی تاہم اب اس کمی کو دور کر دیا گیا ہے،میئر
کراچی نے کہا کہ
وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر صحت کی جانب سے 25 وینٹی لیٹرز فراہم کیے گئے ہیں جن میں سے 10 وینٹی لیٹرز اس اسپتال کے لیے مختص ہیں جبکہ 15 وینٹی لیٹرز دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کے لیے رکھے گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ دیگر نجی اسپتالوں میں ڈیلیوری کروانے پر لاکھوں روپے کے اخراجات آتے ہیں جبکہ سوبھراج میٹرنٹی اسپتال میں یہ سہولت صرف ایک ہزار روپے میں فراہم کی جا رہی ہے جو عوام کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے،میئر
کراچی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ وہی کے ایم سی ہے جس کے بارے میں ماضی میں کہا جاتا تھا کہ کام نہیں کرتی، تاہم اب ادارہ فعال انداز میں شہریوں کو سہولیات فراہم کر رہا ہے اور صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری لا رہا ہے،میئر
کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پاکستان
پیپلز پارٹی کا ایک ایک نمائندہ شہر کی خدمت کے لیے پرعزم ہے اور عوام سے کیے گئے تمام وعدے ہر صورت پورے کیے جائیں گے،شہر میں جاری ترقیاتی کام تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں،انہوں نے بتایا کہ متعلقہ علاقے میں سیوریج کے نظام کی بہتری کے لیے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے اور منصوبہ مکمل ہونے کے بعد اطراف کی سڑکوں کی تعمیر و بحالی بھی کی جائے گی۔
(جاری ہے)
میئر
کراچی نے میڈیا نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ ان عناصر پر نظر رکھیں جو مین ہولز میں رضائیاں اور پتھر ڈال کر نکاسی آب کے نظام کو متاثر کرتے ہیں، میئرکراچی نے کہا کہ شہر میں ترقیاتی کاموں پر 68 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ شاہراہِ بھٹو کو جلد عوام کے لیے کھول دیا جائے گا، جس سے کاٹھور سے قیوم آباد تک کا سفر آسان ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی علاقوں کی بہتری کے لیے
وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے سوا نو ارب روپے کا
بجٹ مختص کیا گیا تھا جو صنعتی ایسوسی ایشن کے اکاؤنٹس میں منتقل کر دیا گیا ہے،انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی روڈ پر بھی تیزی سے کام جاری ہے جبکہ کریم آباد انڈر پاس کو عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
اسی طرح منور چورنگی انڈر پاس پر کام 30 جون تک مکمل کر لیا جائے گا، جس سے
ٹریفک کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی،میئر
کراچی نے کہا کہ
کراچی اور
لاہور کے حالات اور مسائل کا تقابل درست نہیں، دونوں شہروں کی ضروریات اور چیلنجز مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ
لاہور میں
پانی مقامی سطح پر دستیاب ہے جبکہ
کراچی میں
پانی کی فراہمی دور دراز علاقوں سے کی جاتی ہے، اس لیے یہاں مسائل کی نوعیت بھی مختلف ہے،انہوں نے کہا کہ
لاہور میں بعض منصوبوں کو آؤٹ سورس کیا گیا ہے جبکہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس پر بھی خاطر خواہ کام نہیں ہو رہا، تاہم وہ
لاہور میں ہونے والے اچھے کاموں کو سراہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ
کراچی میں ہونے والی مثبت پیشرفت کو بھی تسلیم کیا جائے۔
میئر
کراچی نے بتایا کہ شہر میں
پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے R-1، R-2 اور R-3 منصوبوں پر 77 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جن کی تکمیل سے
کراچی کو 26 ملین گیلن
پانی کی اضافی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ
جماعت اسلامی کے اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ دن میں کچھ اور رات میں کچھ بیانات دیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ نیو
کراچی میں ہزار گلیوں کے منصوبے کے بعد اب ماڈل ٹاؤن میں بھی ہزار گلیوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے تاہم اس حوالے سے اپوزیشن سے سوال ہے کہ اس منصوبے کا
بجٹ، پی سی ون اور ٹینڈر کی تفصیلات کہاں ہیں،انہوں نے کہا کہ او زیڈ ٹی کی مد میں 88 ارب روپے میں سے سب سے زیادہ فنڈز نیو
کراچی ٹاؤن کو دیے گئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ
وزیراعلیٰ سندھ پورے صوبے کے ساتھ ساتھ
کراچی کے بھی
وزیراعلیٰ ہیں اور شہر کی ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، میئر
کراچی نے کہا کہ گزشتہ ہفتے انہوں نے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے پر جاری کام کا معائنہ کیا جہاں کام تیزی سے جاری ہے، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں گے اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔