حکومت ماحول دوست مالیات کے حصول کیلئے اقدامات کر رہی ہے،وزیرخزانہ

آئی ایم ایف بورڈ اجلاس میں موسمیاتی لچک کیلئے پاکستان کومزید 200ملین ڈالرملنے کاامکان ہے،سینیٹر اورنگزیب کا بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس سے خطاب

بدھ 6 مئی 2026 19:40

حکومت ماحول دوست مالیات کے حصول کیلئے اقدامات کر رہی ہے،وزیرخزانہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 مئی2026ء) وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ موسمیاتی اورماحول دوست مالیات کے حصول کیلئے اقدامات کے ساتھ ساتھ پہلے سے دستیاب فنڈز کاشفاف،فعال اورموثراستعمال ضروری ہے، آئی ایم ایف بورڈ اجلاس میں موسمیاتی لچک کیلئے پاکستان کومزید 200ملین ڈالرملنے کاامکان ہے، مشرق وسطی کی صورتحال کے تناظرمیں کمرشل کے ساتھ ساتھ سٹریٹجک ذخائرکی تعمیر پرتوجہ دینا ضروری ہوگیاہے۔

بدھ کویہاں بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ نیشنل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم ای) سینٹرمیں قدرتی آفات اورموسمیاتی صورتحال کے حوالہ سے مصنوعی ذہانت پرمبنی جدیدترین پیشگی آگاہی کانظام نصب کیاگیاہے،اس نظام کے تحت ہیٹ ویوز،بارشوں، خشک سالی اوردیگرموسمیاتی عوامل کے حوالہ سے پیشگی آگاہی کے حوالہ سے بہترین معلومات مل رہی ہے،حفاظتی اورپیشگی اقدامات کے حوالہ سے پاکستان اب ماضی کے مقابلے میں بہترپوزیشن پرہے اوراب ہمارے پاس سائنسی ڈیٹادستیاب ہے،اس اقدام سے موسمیاتی ایونٹس کے حوالہ سے پیشگی اقدامات اورپالیسی سازی میں مددمل رہی ہے۔

(جاری ہے)

وزیرخزانہ نے کہاکہ مالیاتی بفرز کا قیام پہلا مرحلہ ہوتا ہے اوراس کاانحصارکلی معیشت کے استحکام سے ہے،کلی معیشت کامستحکم ہونا کسی بھی ملک کی اقتصادیات کیلئے بنیادی ہائی جین ہے،2022 کے سیلاب میں پاکستان کے دوصوبے متاثرہوئے، پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے امدادکی اپیل کی تھی، گزشتہ سال پاکستان کوپھرسیلاب کے نقصانات کاسامنا کرنا پڑا،اس سیلاب کی شدت بھی زیادہ تھی اوراس سے تقریبا پوراپاکستان متاثرہواتھا، اس وقت بارہا کہا گیا کہ بین الاقوامی امدادکی اپیل کی جائے تاہم وزیراعظم اورکابینہ نے فیصلہ کیاکہ بین الاقوامی امدادکی اپیل نہیں کی جائیگی کیونکہ پاکستان کے پاس وسائل دستیاب ہیں،یہ اس لئے ممکن ہو سکا کیونکہ ہمارے پاس مالیاتی بفرز اورمالی گنجائش موجودتھی۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ موسمیاتی مالیات کے حوالہ سے عالمی بینک اوردیگرکثیرالجہتی شراکت دارپاکستان کے ساتھ تعاون کررہے ہیں،ہم عالمی بینک کے صدراجے بنگا اوران کی ٹیم کی پاکستان کیلئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک میں تعاون پران کاشکریہ اداکرتے ہیں،کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تین بنیادی ستون ہیں جن سے پہلے دویعنی موسمیاتی تبدیلیاں اوربڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کیلئے وجودی خطرات کی حیثیت رکھتے ہیں، تیسرا ستون مالی امورسے متعلق ہے،کلائمیٹ فنانس میں 200 ملین ڈالر سالانہ کی معاونت سے ہمارے پاس 600سے لیکر700ملین ڈالرتک کی مالیاتی معاونت دستیاب ہے، اسی طرح بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ پاکستان کے جومعاملات جاری ہیں ان میں سے ایک حصہ توسیعی فنڈ سہولت اوردوسرا موسمیاتی لچک ہے،آئی ایم ایف بورڈ کااجلاس جمعہ کو ہو رہا ہے اور منظوری کی صورت میں موسمیاتی لچک کیلئے پاکستان کومزید 200ملین ڈالرملنے کاامکان ہے،اسی طرح کی معاونت ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے بھی فراہم کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان پانڈابانڈ جاری کرنے کیلئے تیاریاں کررہاہے، ابتدائی طورپر250ملین آرایم بی مالیت کے بانڈز جاری کئے جارہے ہیں،حکومت ماحول دوست مالیات کیلئے مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانے کیلئے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ نئے مالیاتی ذرائع کے حصول کیلئے اقدامات کے ساتھ ساتھ پہلے سے دستیاب فنڈز کاشفاف،فعال اورموثراستعمال ضروری ہے،اس کیلئے سرمایہ کاری اوربینکنگ کے اہل منصوبوں کوترتیب دینا ہوگا،موسمیاتی مالیات اورگرین مالیات کیلئے پاکستان چین کے تجربات سے استفادہ کررہاہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ مشرق وسطی میں قیام امن کیلئے پاکستان کی قیادت کی جانب سے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں اوران کے مثبت نتائج بھی سامنے آرہے ہیں،مشرق وسطی کی صورتحال کے تناظرمیں ہمیں کمرشل کے ساتھ ساتھ سٹریٹجک ذخائر کے قیام پرتوجہ دینا ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ متبادل توانائی کے حصول کی طرف سفرمیں تیزی لانا ہوگی،حکومت متبادل توانائی کے حصول کیلئے منصوبوں میں معاونت فراہم کررہی ہے،توانائی کی بچت کیلئے اقدامات کاسلسلہ جاری رہے گا۔