پاکستان سنی تحریک کا خالد قادری پر حملے کے خلاف سندھ بھر میں احتجاج کا اعلان

دہشت گردوں کی گرفتاری نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا،بلال عباس قادری سی سی ٹی وی موجود ہونے کے باوجود ملزمان کی عدم گرفتاری لمحہ فکریہ ہے،پاکستان سنی تحریک ہمیشہ امن کی داعی رہی ہے،صدر پاکستان سنی تحریک

جمعرات 7 مئی 2026 00:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2026ء) پاکستان سنی تحریک کے مرکزی صدر صاحبزادہ علامہ بلال عباس قادری نے خالد قادری پر ہونے والے سفاکانہ قاتلانہ حملے کے خلاف کراچی،حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں بھرپور احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری طور پر حملہ آوروں کو گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کر کے ملک گیر سطح تک لے جایا جائے گا اور آئندہ کا سخت لائحہ عمل دیا جائے گا۔

ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ ملک میں قانون کی عملداری نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی،دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرمانہ غفلت اور بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہونے کے باوجود حملہ آوروں کی عدم گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو ادارے ناکام ہو چکے ہیں یا کسی دبا کا شکار ہیں۔

بلال عباس قادری نے کہا کہ پاکستان سنی تحریک نے ہمیشہ امن،بھائی چارے اور استحکام کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔سانحہ نشتر پارک اور سانحہ مستونگ جیسے دلخراش واقعات کے باوجود تنظیم نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور ملک میں امن کو سبوتاژ نہیں ہونے دیا،مگر اب مسلسل حملوں اور ناانصافیوں نے کارکنان میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے۔

انہوں نے حکومت اور انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کیا،مگر بدلے میں ہمیں تحفظ فراہم کرنے کے بجائے نظر انداز کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگر ریاست اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت نہیں کر سکتی تو یہ انتہائی تشویشناک اور ناقابل قبول صورتحال ہے۔ملک کے اندرونی امن کو خراب کرنے کے لیے منظم سازشیں کی جا رہی ہیں، شرپسند عناصر کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے اور مذہبی و فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دی جا رہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں،جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔مرکزی صدر نے واضح کیا کہ خالد قادری پر حملے کے فورا بعد پاکستان سنی تحریک کی قیادت نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایت کی اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی سے روکا،تاکہ ملک دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ خالد قادری پر حملے میں ملوث تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر شفاف تحقیقات کی جائیں۔متاثرین کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔سندھ بھر میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کا نوٹس لیا جائے۔انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پاکستان سنی تحریک سندھ بھر میں احتجاجی دھرنے،ریلیاں اور دیگر سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہوگی، اور اس تحریک کو ملک گیر سطح تک وسعت دی جائے گی۔

اس موقع پر مرکزی کوآرڈینیٹر محمد طیب حسین قادری،علامہ طلعت محمود اعوان،سردار بچل بلوچ،شفیق میو اور دیگر مرکزی و صوبائی رہنما بھی موجود تھے،جنہوں نے قیادت کے موقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور انصاف کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔