ٹ* پاکستان بار کونسل اجلاس: وکلاء تحفظ ایکٹ کے فوری نفاذ کا مطالبہ

ی* عدلیہ اور وکلاء کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی اور عملدرآمد ناگزیر، بار کونسل ڑ* معرکہ حق کی کامیابی پر پاک فوج اور قوم کو مبارکباد، بار کونسل کا اظہار

جمعرات 7 مئی 2026 20:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 مئی2026ء) پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام بار کونسلز کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت وائس چیئرمین پیر محمد مسعود چشتی نے کی۔ اجلاس میں تمام صوبوں کی بار کونسلز کے وائس چیئرمینز اور نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں وکلائ برادری کو نظامِ انصاف کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وکلائ کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران دھمکیوں، تشدد اور ہراسانی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جن کا فوری تدارک ناگزیر ہے۔

بار کونسل نے مؤقف اختیار کیا کہ صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ اس کے مؤثر نفاذ کو بھی یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ حملہ آوروں کے خلاف فوری ایف آئی آر درج ہو، عدالتوں میں خصوصی سیکیورٹی پروٹوکول قائم کیے جائیں اور متاثرہ وکلائ کو فوری پولیس تحفظ فراہم کیا جائے۔

(جاری ہے)

اجلاس میں وکلائ تحفظ ایکٹ کے نفاذ پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے وکلائ بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دے سکیں گے اور قانون کی حکمرانی کو تقویت ملے گی۔

پاکستان بار کونسل نے آئینی و قانونی امور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا کہ بار ایسوسی ایشنیں ہمیشہ عدلیہ کی آزادی، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے کوشاں رہی ہیں۔ اجلاس میں 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی حمایت اور توثیق کی گئی جبکہ 27 ویں ترمیم کے تحت آئینی عدالت کے قیام کی بھی حمایت کی گئی۔اجلاس میں کہا گیا کہ آئینی عدالت کے قیام سے آئینی و سیاسی مقدمات کے فیصلے بہتر انداز میں ممکن ہوں گے اور سپریم کورٹ پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا، جس سے وفاقی نظام مزید مضبوط ہوگا۔

بار کونسل نے اعلیٰ عدلیہ میں تمام خالی اسامیوں کو ایک ماہ میں پٴْر کرنے، ججز کے تبادلوں سے پیدا ہونے والی اسامیوں پر متعلقہ ہائی کورٹس سے تقرریاں کرنے اور ریٹائرمنٹ کے بعد ججز کی دوبارہ تعیناتی نہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔اجلاس میں بعض سیاسی عناصر کی جانب سے عدلیہ اور اداروں کے خلاف نامناسب زبان اور انتشار پھیلانے کی کوششوں کی مذمت کی گئی اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

مزید برآں لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973 میں ترمیم، وکلائ لائسنس معطلی کے اختیارات بار کونسلز کو دینے اور گرانٹ ان ایڈ کے بروقت اجرا کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔اجلاس میں سوشل میڈیا پر وکلائ اور ججز کی کردار کشی کرنے والوں کے خلاف فوری مقدمات درج کرنے اور سائبر کرائم قوانین کے تحت تیز ٹرائل کی سفارش بھی کی گئی۔

بار کونسل نے وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ان کے باعث خطے میں کشیدگی میں کمی آئی ہے۔اجلاس میں معرکہ حق (آپریشن بنیان مرصوص) کی کامیابی پر پاک فوج اور قوم کو مبارکباد بھی دی گئی اور وکلائ کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔