قطر سے سستی ایل این جی ملنے کی امید، کم ترین عالمی بولیاں مؤخر

جمعہ 8 مئی 2026 19:04

قطر سے سستی ایل این جی ملنے کی امید، کم ترین عالمی بولیاں مؤخر
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 08 مئی2026ء) پاکستان نے فی الحال اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کارگوز خریدنے کا فیصلہ مؤخر کرتے ہوئے قطر سے طویل المدتی معاہدے کے تحت سستی ایل این جی حاصل کرنے کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت توانائی لاگت میں کمی اور زرمبادلہ کے مؤثر استعمال کیلئے کم نرخوں پر درآمدی گیس کے حصول پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

ذرائع پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے مطابق عالمی سپلائرز کی جانب سے موصول ہونے والی کم ترین بولیوں کو ہولڈ کر دیا گیا ہے۔ پی ایل ایل نے بی پی سنگاپور اور ٹوٹل انرجیز کو بھی آگاہ کر دیا ہے کہ ان کی پیش کردہ کم ترین بولیاں اس وقت قبول نہیں کی جا رہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ قطر سے موجودہ طویل المدتی معاہدے کے تحت مزید دو ایل این جی کارگوز نسبتاً کم نرخوں پر حاصل ہو سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قطر سے ایل این جی برینٹ خام تیل کی قیمت کے 13.37 فیصد ریٹ پر دستیاب ہوگی، جو اسپاٹ مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ سستی تصور کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق قطر کی جانب سے اضافی ایل این جی کارگوز کی دستیابی کے مثبت اشارے موصول ہوئے ہیں، جبکہ یہ ممکنہ کارگوز آبنائے ہرمز کے راستے پاکستان پہنچائے جائیں گے۔توانائی ماہرین کے مطابق حکومت کی موجودہ حکمت عملی کا مقصد درآمدی ایندھن کی لاگت کم کرنا اور بجلی و گیس کے شعبے پر مالی دباؤ میں کمی لانا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت مستقبل میں اسپاٹ مارکیٹ کے بجائے طویل المدتی اور مستحکم معاہدوں کو ترجیح دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ توانائی کی ضروریات کم لاگت اور زیادہ استحکام کے ساتھ پوری کی جا سکیں۔