موجودہ حکمرانوں کی نااہلی کے باعث 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ، سہیل آفریدی
جمعہ 8 مئی 2026 20:33
(جاری ہے)
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ملک میں امن، خوشحالی اور معاشی استحکام کی فضا قائم ہوئی، معیشت مضبوط ہوئی اور جی ڈی پی شرح نمو 6.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی، تاہم 2022 میں رجیم چینج کے ذریعے ایک حقیقی جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا گیا جس کے بعد ملکی حالات تیزی سے خراب ہوتے چلے گئے۔
انہوں نے کہا کہ آج شرح نمو کم ہو کر 3 فیصد رہ گئی ہے، مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے، معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اور نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کی نااہلی کے باعث 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ مسلط شدہ ٹولے کے پاس عوامی فلاح کے لیے کوئی واضح پالیسی موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران صرف پاکستان تحریک انصاف کو توڑنے اور عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں جبکہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک ہی مہینے میں بار بار اضافہ کر کے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2022 میں شدت پسندوں کی دوبارہ آبادکاری کے فیصلے پرہم مسلسل خبردار کرتے رہے کہ اس کے نتائج خطرناک ہوں گے اور صوبے کا امن متاثر ہوگا، مگر کسی نے ہماری بات نہیں سنی۔ انہوں نے کہا کہ آج غریب عوام اس فیصلے کی قیمت چکا رہے ہیں، کولیٹرل ڈیمیجز کی صورت میں آئے روزبے گناہ لوگ جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور ہر روز جنازے اٹھائے جا رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ قوم کا درد رکھنے والی قابل شخصیات کو بھی نشانہ بنا یا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا محمد ادریس جیسی پٴْرامن اور علمی شخصیت کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، جو پوری قوم کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب تک قوم متحد ہو کر ان پالیسیوں کے خلاف آواز بلند نہیں کرے گی، اس وقت تک حالات بہتر نہیں ہوں گے اور معصوم جانوں کا ضیاع جاری رہے گا۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی سطح پر عوام کو درپیش مسائل کم کرنے، نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی تعلیم، صحت اور سماجی خدمات کے دیگر شعبوں کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2400 ڈاکٹرز میرٹ پر بھرتی کئے جارہے ہیں جبکہ مزید بھرتیاں بھی کی جائیں گی تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ تمام تر اقدامات اسی صورت میں دیرپا نتائج دے سکتے ہیں جب امن ہو گا اور عوام کو تحفظ حاصل ہو گا۔ انہوں نے فارغ التحصیل طالبات پر زور دیا کہ وہ عملی میدان میں جا کر محنت، خدمت اور پیشہ ورانہ دیانت داری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں کیونکہ صوبے کو خصوصاً خواتین ڈاکٹرز کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں اور خصوصاً خواتین کو اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا، صوبائی حکومت اٴْن کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں کسی صورت مایوس نہیں ہونے دے گی۔بعدازاں وزیراعلیٰ نے فارغ التحصیل طالبات میں اسنا دتقسیم کیں اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی طالبات کو گولڈ میڈل پہنائے۔ اس موقع پر کالج کی سالانہ کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی اور قومی و صوبائی سطح پر کالج کی اہم کامیابیوں کو اُجاگر کیا گیا۔ صوبائی وزیر برائے صحت خلیق الرحمن اور دیگر اعلیٰ حکا م بھی کانووکیشن میں شریک تھے۔مزید اہم خبریں
-
آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالرز قرض کی منظوری دے دی
-
ایران کی طرف سے آج ہمیں جواب موصول ہوجانا چاہئے، امید ہے سنجیدہ تجاویز سامنے آئیں گی
-
2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ہے، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے
-
موجودہ حکمرانوں کی نااہلی کے باعث 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ، سہیل آفریدی
-
سلامتی کونسل: آبنائے ہرمز پر امریکہ اور بحرین کی مشترکہ قرارداد
-
تحفظ ماحول: تیل کی بڑھتی قیمتیں پلاسٹک سے دوری کا سبب ہو سکتی ہیں
-
جو بھی ہماری امن پسندی کو کمزوری سمجھے گا اس کا حشربھارت جیسا ہوگا‘ عظمیٰ بخاری
-
مذاکرات کے دوران ایران کا بڑا اقدام،‘خلیج فارس اسٹریٹ اتھارٹی’’ کے قیام کا اعلان کر دیا
-
آسٹریلیا کا کالعدم بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا اعلان
-
عوام کو مہنگائی کا تگڑا جھٹکا، مہنگائی کی شرح 15 فیصد سے بھی اوپر چلی گئی
-
برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر کی لیبر پارٹی کو بلدیاتی انتخابات میں بھاری نقصان
-
ایران کے تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے ‘ ایران کے نئے سمندری قوانین کا احترام کیا جائے.ایرانی ترجمان
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.