Live Updates

جنگ بندی معاہدہ آخری سانسیں لے رہا ہے

ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کیساتھ جنگ بندی ختم کرنے کا عندیہ

muhammad ali محمد علی پیر 11 مئی 2026 22:07

جنگ بندی معاہدہ آخری سانسیں لے رہا ہے
واشنگٹن (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ 11 مئی 2026ء ) ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کیساتھ جنگ بندی ختم کرنے کا عندیہ۔ امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی ختم کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ آخری سانسیں لے رہا ہے، ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، ایران نے اپنی نئی تجویز میں ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی بات واضح طور پر نہیں کی۔

اس لیے بھی ایران کے ساتھ جنگ بندی کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے فریڈم پراجیکٹ کی وسیع پیمانے پر بحالی پر غور کررہا ہوں، فریڈم پراجیکٹ صرف آبنائے ہرمز عبور کرنے والے بحری جہازوں کے ہمراہ چلنے تک محدود نہیں رہے گا، ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا، معاہدہ ہونے تک ایران پر دباؤ ڈالتے رہیں گے، ایران کے مذاکرات کاروں نے ایٹمی فضلے کو نکالنے کیلئے ہماری ضرورت کا اقرار کیا۔

(جاری ہے)

ایٹمی فضلے کو نکالنے کیلئے ایران کے پاس ٹیکنالوجی میسر نہیں۔ فریڈم پراجیکٹ کی بحالی کا فیصلہ نہیں کیا۔ مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی منصوبے پر ایران کا جواب ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کردیا۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ میں نے ایران کے نام نہاد نمائندوں کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے، مجھے یہ بالکل پسند نہیں آیا، یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔

اپنے ایک اور بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی سخت ترین رائے کا اظہار کرتے ہوئے باراک اوباما اور جو بائیڈن پر بھی کڑی تنقید کی، ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران دہائیوں سے امریکہ کے ساتھ گیمز کھیل رہا ہے اور اپنی تاخیری حربوں سے بیوقوف بنا رہا ہے اور سابقہ انتظامیہ کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے سابق صدر باراک اوباما کو ایران کے لیے "بہترین تحفہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اوباما نے اسرائیل اور دیگر اتحادیوں کو پسِ پشت ڈال کر ایران کا ساتھ دیا، ایران کو نئی زندگی دینے کے لیے اربوں ڈالر فراہم کیے گئے، جن میں جہازوں کے ذریعے تہران بھیجی گئی 1.7 بلین ڈالر کی نقد رقم بھی شامل تھی، واشنگٹن، ورجینیا اور میری لینڈ کے بینکوں سے اتنا پیسہ نکالا گیا کہ ایرانی حکام اسے دیکھ کر حیران رہ گئے اور انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اتنی بڑی رقم کا کیا کریں۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات