پاکستان کی معاشی صلاحیت کو عالمی مسابقت میں بدلنا ناگزیر ہے، سفیر خلیل ہاشمی

منگل 12 مئی 2026 19:52

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 مئی2026ء) عوامی جمہوریہ چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کو چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اقتصادی سفارتکاری، جدت، صنعتی ترقی اور علاقائی روابط کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔وہ منگل کو دفتر خارجہ لائژن آفس کراچی کی جانب سے کراچی کی کاروباری برادری کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے سے خطاب کر رہے تھے، جس میں صنعتکاروں، برآمد کنندگان، تاجروں، زرعی، فشریز، لاجسٹکس، ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

سفیر خلیل ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے جہاں معاشی طاقت، جدت، روابط، سپلائی چینز اور ٹیکنالوجی عالمی اثر و رسوخ کے نئے ذرائع بن چکے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ چین نے اسٹریٹجک منصوبہ بندی، ادارہ جاتی نظم و ضبط، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے خود کو دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں شامل کر لیا ہے۔

انہوں نے چین کو مواقع کی سرزمین بھی قرار دیا۔چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا ذکر کرتے ہوئے سفیر خلیل ہاشمی نے اسے’’تقدیر، مواقع اور علاقائی تبدیلی‘‘ کا منصوبہ قرار دیا اور کہا کہ اب اس منصوبے کو سڑکوں اور توانائی کے منصوبوں سے آگے بڑھاتے ہوئے صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدت، زرعی جدیدکاری اور کاروباری روابط پر توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چین کے ترقیاتی ماڈل سے سیکھتے ہوئے صنعتی کلسٹرز، برآمدی مسابقت، اسمارٹ انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل ادائیگیوں، زرعی جدیدکاری اور جدت پر مبنی معاشی ترقی پر توجہ دینا چاہیے۔سفیر نے کہا کہ پاکستان کو خام زرعی پیداوار سے ویلیو ایڈڈ ایگری پروسیسنگ، روایتی فشریز سے جدید فشریز سسٹمز، روایتی ٹیکسٹائل سے ٹیکنیکل ٹیکسٹائل اور آؤٹ سورسنگ سے جدت پر مبنی صنعتوں کی جانب منتقل ہونا ہوگا۔

کراچی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے شہر کو پاکستان کی معاشی شہ رگ قرار دیا اور کہا کہ کراچی تجارت، مالیات اور لاجسٹکس کے ذریعے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، خلیجی خطے اور افریقہ کو جوڑنے والا اہم مرکز ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید سفارتکاری اب صرف سیاسی مذاکرات تک محدود نہیں رہی بلکہ سفارتکاروں کو تجارت، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک شراکت داری کے فروغ میں بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔

سفیر خلیل ہاشمی نے کہا کہ سی پیک کے اگلے مرحلے میں منڈیوں، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت، ایس ایم ایز، اسٹارٹ اپس اور انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دینی ہوگی، خصوصاً نوجوانوں کو کاروباری، اختراعی اور صنعتی قیادت کے لیے بااختیار بنانا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ابھرتے ہوئے عالمی نظام میں جو ممالک جدت اختیار نہیں کریں گے وہ غیر متعلق ہو جائیں گے، اس لیے اقتصادی سفارتکاری کو پاکستان کا قومی نظریہ بنانا ہوگا۔

سفیر نے پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی کا اعادہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ دوطرفہ تعاون تجارت، مشترکہ منصوبوں، تحقیقی اشتراک، اسمارٹ لاجسٹکس اور مشترکہ خوشحالی کے ذریعے مزید فروغ پائے گا۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ پاکستان کی معاشی تبدیلی کے لیے بڑے خواب دیکھیں، طویل المدتی منصوبہ بندی کریں اور تیز رفتار اقدامات اٹھائیں، جبکہ انہوں نے ’’پاک چین دوستی زندہ باد‘‘ کا نعرہ بھی دہرایا۔

بعد ازاں خلیل ہاشمی نے کاروباری برادری کے اراکین کے تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق سوالات کے جوابات بھی دیے۔اس سے قبل کراچی میں چین کے قونصل جنرل ہانگ ین ڈونگ اور ڈائریکٹر جنرل دفتر خارجہ لائژن آفس کراچی عرفان سومرو نے بھی خطاب کیا۔