Live Updates

روس کی یوکرین کے خلاف جنگ آئندہ کیا رخ اختیار کر سکتی ہے؟

DW ڈی ڈبلیو جمعرات 14 مئی 2026 16:20

روس کی یوکرین کے خلاف جنگ آئندہ کیا رخ اختیار کر سکتی ہے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 مئی 2026ء) فروری کے آخر میں شروع ہونے والی ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اس حد تک عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے کہ روسی یوکرینی جنگ سمیت بہت سے دیگر بحران کافی حد تک پس منظر میں جا چکے ہیں۔

یوکرین جنگ: پوٹن کی سابق جرمن چانسلر کو ثالث بنانے کی تجویز، برلن محتاط

اب کییف حکومت کو خدشہ ہے کہ اسے ملنے والے امریکی ہتھیاروں کی مقدار آئندہ کم ہو جائے گی۔

دوسری طرف کئی برسوں سے جاری روسی یوکرینی جنگ میں ماسکو زمین پر اپنی فوجی ہیش قدمی کی کوشش میں بھی ہے اور ساتھ ہی ایران جنگ کی وجہ سے بہت زیادہ ہو چکی تیل اور گیس کی قیمتوں سے فائدہ بھی اٹھا رہا ہے۔

روسی یوکرینی جنگ کی موجودہ صورت حال

روس نے یوکرین میں فوجی مداخلت کے ساتھ جس جنگ کا آغاز کیا تھا، اس میں اس وقت عملاﹰ ایک جمود کی سی صورت حال پائی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

دونوں میں سے کسی بھی جنگی فریق کو کوئی قابل ذکر عسکری کامیابی نہیں مل رہی اور یوکرین روس کے کافی اندر تک کے علاقوں میں تیل کی برآمدی تنصیبات پر اپنے راکٹ اور ڈرون حملوں میں تیزی لاچکا ہے۔

ان حالات میں روس میں موبائل انٹربیٹ بلیک آؤٹ کے واقعات بھی زیادہ ہو چکے ہیں جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی عوامی مقبولیت کا گراف بھی گرتا جا رہا ہے۔

لیکن یہ صورت حال اس جنگ میں کسی ممکنہ نتیجے کی طرف پیش رفت کا اشارہ بالکل نہیں، بلکہ ایک ایسے جمود کی عکاس ہے، جس میں سب کچھ زیادہ تر جوں کا توں ہے۔

روس وکٹری ڈے پریڈ پر ممکنہ یوکرینی حملے سے خوف زدہ، زیلنسکی

اب جب کہ یوکرین کی جنگ کا پانچواں سال شروع ہوئے بھی چند مہینے ہو چکے ہیں، کئی مغربی مبصرین اور عسکری ماہرین کی سوچ یہ ہے کہ یہ جنگ جلد ہی ختم ہو سکتی ہے۔

یوکرینی دارالحکومت کییف میں منعقدہ حالیہ سکیورٹی فورم میں ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کئی ماہرین نے کہا کہ امریکہ میں ہونے والے آئندہ مڈٹرم یا وسط مدتی انتخابات یورپ میں اس جنگی تنازعے کے ممکنہ خاتمے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پوٹن ایک نئی اور بڑی فوجی نقل و حرکت یا بھرتی کا حکم دے سکتے ہیں؟

اس حقیقت کے پیش نظر کہ یوکرینی جنگ کے بڑے محاذوں میں کافی عرصے سے کوئی بڑی فوجی نقل و حرکت نہیں ہو رہی، کئی بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن ملکی مسلح افواج کو ایک نئی اور بڑی موبلائزیشن یا ان میں بھرتیوں کا نیا حکم بھی دے سکتے ہیں۔

ویسی ہی بڑی ملٹری موبلائزیشن جیسے 2022ء کے موسم بہار میں اس جنگ کے آغاز کے بعد اسی سال کے اواخر میں صدر پوٹن کے حکم پر پہلے بھی دیکھنے میں آئی تھی۔

روس تیل فروخت کرتا رہے گا، امریکی پابندیوں میں ایک بار پھر چھوٹ

اسی طرح کئی یوکرینی فوجی ماہرین اور خود یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی بھی حال ہی میں کہہ چکے ہیں کہ وہ بھی ایسی کسی نئی اور بڑی روسی ملٹری موومنٹ کو خارج از امکان نہیں سمجھتے۔

جرمن چانسلر کا زیلنسکی سے اصلاحات کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ

امریکہ کی ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے میکین انسٹیٹیوٹ میں ماضی میں امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون کی طرف سے نامزد کردہ خارجہ پالیسی امور کی معروف ماہر ایویلین فارکاس کہتی ہیں کہ یوکرین کے خلاف جنگ میں روس اب ایک بار پھر بہت بڑے پیمانے پر کوئی نئی فوجی نقل و حرکت یا بھرتیاں شروع نہیں کرے گا۔

ان کے بقول روس کو درپیش شدید نوعیت کی موجودہ اقتصادی مشکلات صدر پوٹن کے لیے ان کے ایسے کسی بھی فیصلے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوں گی۔

یوکرین کا غیر ملکی ہتھیاروں کی خریداری پر آئندہ انحصار ماضی سے کم؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں 2019ء تک یوکرین کے لیے خصوصی امریکی مندوب کے فرائض انجام دینے والے کرٹ فولکر کے بقول ایران جنگ کی وجہ سے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود یوکرین کی موجودہ عسکری حالت ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر اور زیادہ مضبوط ہے۔

کرٹ فولکر کی رائے میں یوکرین نے مغربی ممالک کی طرف سے خود کو ملنے والے ہتھیاروں پر اپنا انحصار واضح طور پر کم کیا ہے اور روس کے خلاف جنگ میں وہ اس وقت اپنی عسکری ضروریات کا ''60 فیصد سے لے کر 70 فیصد تک حصہ‘‘ خود پورا کر رہا ہے۔

بحیرہ بالٹک میں روسی تیل کی برآمدی بندرگاہ پر ایک بار پھر یوکرینی حملہ

اس امریکی ماہر کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکہ نے یورپی ممالک کے ‌ذریعے یوکرین کو اسلحے کی ترسیل روک بھی دی، تو بھی خود اپنے وسائل کے بل بوتے پر یوکرین یہ جنگ کافی عرصے تک جاری رکھ سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی پہلی ترجیح ایران جنگ

صرف ایک سال قبل یوکرینی صدر زیلنسکی نے اپنے ایک دورہ امریکہ کے دوران اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے کییف کے لیے اپنی فوجی حمایت روک دی، تو یوکرین روس کے خلاف یہ جنگ ہار جائے گا۔ لیکن کرٹ فولکر کے مطابق اب نہ تو حالات ایسے ہیں اور نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے۔

نیٹو فضائی دفاع مزید مضبوط کرے، بالٹک ریاستوں کا مطالبہ

یوکرین کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے اس سابقہ خصوصی مندوب کے مطابق اب امریکہ خود بھی اس حالت میں نہیں کہ یوکرین کو یہ ضمانت دے سکے کہ کییف کو اس کے فضائی دفاعی نظام کے لیے پہلے کی طرح اور اتنے ہی تعداد میں پیٹریات میزائل آئندہ بھی فراہم کیے جاتے رہیں گے۔

کرٹ فولکر اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کا سبب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ سیاسی اور عسکری ترجیحات ہیں، جن میں ایران کے خلاف جنگ باقی تمام معاملات سے کہیں زیادہ اہم اور سب سے اوپر ہے۔

زیلنسکی امریکی دباؤ برداشت کر سکیں گے؟

یوکرینی صدر زیلنسکی حال ہی میں یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ اپنے ملک میں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر زیلنسکی پر اپنا دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔

یہ امریکی انتخابات اس سال موسم خزاں میں ہونا ہیں اور صدر زیلنسکی کو خدشہ ہے کہ ان انتخابات سے قبل ٹرمپ یوکرین پر یہ دباؤ اور زیادہ کر سکتے ہیں کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے روس کی طرف سے رکھی گئی شرائط قبول کر لے۔

یوکرینی جنگ: برطانیہ نے روس کے خلاف پابندیوں کا ’سب سے بڑا‘ پیکج نافذ کر دیا

ان شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ کییف حکومت روس کے زیر قبضہ ڈونباس کے یوکرینی علاقے سے اپنے فوجی دستے واپس بلا لے۔

ایویلین فارکاس کے خیال میں یوکرینی صدر زیلنسکی اب اس پوزیشن میں ہیں کہ اس سلسلے میں امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے دباؤ کا سامنا کر سکیں۔

امریکی مڈ ٹرم الیکشن کے بعد سنجیدہ نوعیت کے جنگ بندی مذاکرات

امریکہ کے قومی سلامتی کے شعبے کے متعدد ماہرین کی رائے میں صدر ٹرمپ کی خواہش ہو گی کہ ایران کے خلاف جنگ اس سال موسم گرما تک ختم ہو جائے اور آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر معمول کی محفوظ تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولا جا سکے۔

اس کے بعد اور امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہو گی کہ روسی یوکرینی جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ امن کوششوں میں تیزی لائی جائے۔

جرمنی اور برطانیہ کا روسی عسکری تیاریوں پر مشترکہ انتباہ

ایویلین فارکاس اور کرٹ فولکر دونوں کی رائے میں نومبر میں امریکہ میں ہونے والے کانگریس کے مڈ ٹرم الیکشن روسی یوکرینی جنگ کے لیے فیصلہ کن موڑ کی وجہ بن سکتے ہیں۔

اس کا سبب یہ امکان ہے کہ ریپبلکن پارٹی میں صدر ٹرمپ کی موجودہ پوزیشن آئندہ کمزور ہو سکتی ہے۔

فارکاس اور فولکر دونوں کی رائے میں، ''یہ تبدیلی موجودہ امریکی انتظامیہ کے لیے اس امر کی کافی بڑی وجہ بن سکتی ہے کہ واشنگٹن یوکرین اور نیٹو میں اپنے اتحادیوں کی معمول کی تائید و حمایت جاری رکھے۔‘‘

نیٹو کا آرکٹک میں فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان

اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی ملٹری کمیٹی کے سربراہ کے مطابق روس کو اس وقت جس نوعیت کی اقتصادی صورت حال کا سامنا ہے، اس کے باعث آئندہ مہینوں میں ماسکو کے لیے یہ عین ممکن ہے کہ وہ کسی امن ڈیل کو قبول کرنے پر رضا مند ہو جائے۔

ایویلین فارکاس کے خیال میں، ''2027ء میں تو ہم یہ بھی دیکھنے جا رہے ہیں کہ یوکرین یہ جنگ جیتنے لگے گا۔‘‘

ادارت: جاوید اختر

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات