پاکستان میں سیاحت کا شعبہ افسر شاہی کی رعونت کا شکار
دنیا بھر میں سستی سیاحت فراہم کرنے والے ملکوں میں سیاحو ں کی تعداد میں اضافہ جبکہ پاکستان میں کمی ہورہی ہے .ایڈیٹراردوپوائنٹ کی سیاحت کے فروغ کے لیے تجاویز پرمبنی خصوصی تحریر
میاں محمد ندیم
جمعرات 14 مئی 2026
16:03
(جاری ہے)
اردوپوائنٹ کے ایڈیٹروکالم نگار میاں محمد ندیم سیاحت کے شعبے کی زبوں حالی پر خصوصی تحریرمیں لکھا ہے کہ پاکستانیوں کی مہمان نوازی‘سیاحوں کے لیے محفوظ اور پرامن سیاحتی مقامات‘دنیا کے بیشترممالک کے مقابلے میں سستی سیاحت سمیت وہ تمام عوامل موجود ہیں جو عالمی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث بنتے ہیں‘دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارت خانوں میں موجود ”بابوﺅں“نے سیاحت کو کبھی اس قابل نہیں سمجھا کہ اس کے فروغ کے لیے کوئی منصوبہ شروع کیا جائے کیونکہ بیوروکریسی کے نزدیک یہ محض”وقت کا ضیاع“اور ان کے شایان شان نہیں. انہوں نے لکھا کہ2000کی دہائی کے ابتدا میں مشرف کابینہ کی وزیرنیلوفربختیار نے لاہور میں دس سالہ سیاحتی پالیسی اور روڈمیپ کا اعلان کیا تھا تاہم دیگر حکومتی منصوبوں کی طرح وہ بھی صرف اعلانات تک ہی محدودرہا‘صوبہ خیبرپختون خواہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے تاہم صوبائی حکومتی کی عدم توجہ کی وجہ سے کے پی کے حکومت کوئی ٹھوس پالیسی نہیں بناسکی‘تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد کے پی کے کی صوبائی حکومت نے سیاحت کے فروغ کے لیے ”انقلابی“اقدامات اور منصوبوں کے اعلانات کیئے مگر ایک دہائی کے قریب وقت گزرنے کے باوجود ”اتھارٹیز“کے قیام کے علاوہ زمین پر کوئی ایک قابل ذکرمنصوبہ نظرنہیں آتا. میاں محمد ندیم نے اپنے مضمون میںلکھا ہے کہ کے پی کے کے سیاحتی علاقوں چترال ‘سوات‘کالام‘مالم جبہ‘کمراٹ‘ناران‘کاغان‘گلیات سمیت دیگر علاقوں کے لوگ ابھی تک سیزن کی کمائی تک محدودہیں ان کی زندگیوں کی کوئی تبدیلی نہیں آئی مقامی لوگ آج بھی سیزن کا انتظار کرتے ہیں جہاں تک اتھارٹیزکے قیام کا معاملہ ہے تو اس سے افسرشاہی کے علاوہ کسی کوئی فائدہ نہیں پہنچا‘نئے دفاتر‘گاڑیاں ‘ملازم اور سرکاری وسائل پر بوجھ کے علاوہ اگر کچھ حاصل ہوا ہو تو براہ کرم قوم کو بھی آگاہ فرمادیں . ان کا کہنا ہے کہ ہر نئی اتھارٹی یا محکمے کے قیام کا مطلب قومی خزانے پر مزید بوجھ ہوتا ہے خیبرپختون خواہ کے گلیات کے علاقے میں مقامی لوگوں میں چیڑکے درخت کے تیل‘گوند اور اس کے بیوٹی پراڈاکٹس سمیت دیگر چیزوں میں استعمال کا علم نہ ہونے کے برابرہے‘اسی طرح پنجاب سمیت دیگر علاقوں میں سردیوں کی سوغات خشک املوک کا بڑا حصہ انہی علاقوں سے آتا ہے جہاں املوک کے خودرو درختوں کے جھنڈ تقریبا ہرجگہ نظرآتے ہیں تاہم اس کی پیدوار اور سپلائی کا طریقہ بھی دہائیوں پرانا چلا آرہا ہے کسی حکومت نے کوشش نہیں کی کہ مقامی لوگوں کو ”املوک“ کی مختلف مصنوعات بنانے کی ترغیب دی جائے‘بھیڑ‘بکریاں پہاڑی علاقوں کی زندگی کا لازم جزہیں ‘دنیا بھر میں بکری کے دودھ سے بنے پنیر goat cheese کی اچھی خاصی مانگ ہے‘اسی طرح بھیڑ‘بکریوں کا محفوظ شدہ دودھ یا اس کے پاوڈرکی بھی مانگ موجود ہے مگر کسی حکومت‘اتھارٹی یا محکمے نے ان وسائل سے استفادہ حاصل کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی. انہوں نے لکھا کہ کے پی کے حکومت کو متعددبار فری تربیتی ورکشاپس کے انعقاد کی پیشکش کی گئی تاہم افسرشاہی سیاحتی علاقوں کے رہنے والے مقامی افراد کی معاشی خودمختاری کے ان منصوبوں میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی اور انہیں سیزنل سیاحت کے مرہون منت رکھنا چاہتے ہیںان کا کہنا ہے کہ بہت سارے قیمتی مصالحے اور جڑی بوٹیاں جو پاکستان دوسرے ملکوں سے درآمد کرتا ہے ان کی کاشت کے لیے سوات‘چترال‘ایبٹ آباد‘گلیات سمیت سینکڑوں علاقے موزوں ہیں ان مصالحوں اور جڑی بوٹیوں سے نہ صرف مقامی لوگ ہر سال اچھے پیسے کماسکتے ہیں بلکہ ان کی برآمد سے ملک کے لیے زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے. ان کا کہنا ہے کہ خیبرپختون خواہ‘گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں بہت سارے پھل مناسب دیکھ بھال اور ٹرانسپوٹیشن کا اچھا نظام نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں جنہیں خشک کرکے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی بیچا جاسکتا ہے‘پھلوں اور سبزیوں کی dehydration کا عمل کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کوئی بھاری سرمایہ کاری درکار ہے صرف نیک نیتی اور بیوروکریٹک سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے ‘ایوب نیشنل پارک ایوبیہ میں سینکڑوں جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں‘اسی طرح اس کے گرد ونواح کے علاقوں نتھیا گلی‘خانس پور‘ڈونگا گلی اور گردونواح میں قیمتی جڑی بوٹیاں قدرتی طورپر پیدا ہوتی ہیں اگر علاقے کے نوجوانوں کو ان کی شناخت کے لیے تربیت فراہم کی جائے اور صوبائی حکومت‘گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ایبٹ آباد کی ضلعی انتظامیہ تھوڑی سے دلچسپی لے اور dehydration کے لیے دو ‘تین مراکزقائم کردے جہاں صرف پھل ہی نہیں بلکہ جڑی بوٹیوں کی بھی صفائی‘خشک کرنے اور پیکنگ کی سہولیات دستیاب ہوں‘اسی طرح اخروٹ اور دیگر تیل دار بیجوں سے تیل حاصل کرنے کے لیے مراکزقائم کردیئے جائیں ان منصوبوں پر ہونے والی مجموعی سرمایہ کاری گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایک ریجنل دفترپر اٹھنے والے ماہانہ اخراجات سے بھی کم ہے مگر مقامی لوگوں کے لیے معاشی فوائد بہت زیادہ ہیں. مضمون میں انہوں نے لکھا کہ افسرشاہی کا متکبرانہ رویہ صرف خیبرپختون خواہ میں ہی عوامی فلاح کے کاموں میں رکاوٹ نہیں بلکہ یہ کلچرپورے پاکستان میں نظرآتا ہے‘گلیات سمیت کے پی کے دیگر علاقوں میں شہد کی مکھیاں پالنے کے لیے بہت سارے مقامات موجود ہیں تاہم اس کی مناسب مارکیٹنگ کے راہنمائی فراہم کرنے والا کوئی نہیں‘جنگلات سے معاشی فوائدحاصل کرنے کے لیے کوئی دلچپسی نظرنہیں آتی‘صوبائی حکومت مناسب مارکیٹنگ سے صرف گلیات کے علاقوں سے سیاحتی شعبوں سے اتنی آمدن حاصل کرسکتی ہے جتنی وہ پورے صوبے کے سیاحتی علاقوں سے حاصل کرتی ہے . انہوں نے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے سوال کیا کہ کروڑوں روپے سالانہ تشہیری بجٹ کے باوجود کتنے غیرملکی سیاحوں کو راغب کیا جاسکا ہے ؟پچھلے دو سالوں کے دوران مجموعی طور پر کتنے غیرملکی سیاح گلیات میں سیاحت کے لیے آئے؟سیکورٹی کے لحاظ سے یہ علاقے پاکستان کے محفوظ ترین مقامات میں سے ہیں تو اسلام آباد سے صرف دو گھنٹے کی مسافت پر واقع گلیات غیرملکی سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام کیوں ہیں؟ . ان کا کہنا ہے کہ گلیات کے علاقوں میں برطانوی کالونیل عہد کی تاریخ کے نشانات ہر وادی اور پہاڑی چوٹی پر ملتے ہیں‘کئی تاریخی چرچ اس علاقے میں واقع ہیںمگر جی ڈی اے کی عدم توجہ کی وجہ سے غیرملکی سیاح اسلام آباد سے شمالی علاقہ جات یا سوات ‘چترال وغیرہ کی طرف تو نکل جاتے ہیں مگر گلیات کے علاقوں کے قدرتی حسن ‘تاریخی مقامات اور ان کی تاریخی اہمیت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے وہ اسلام آباد سے صرف دو گھنٹے کی مسافت پر موجود ایوبیہ‘خانس پور‘نتھیا گلی کے قدرتی مناظر‘ خوبصورت تاریخی چرچ‘برطانوی دوربنگلے اور دیگر عمارات دیکھنے نہیں آتے انہوں نے کہاکہ جی ڈی اے کے پاس وسائل‘ادارے‘افرادی قوت سب کچھ پہلے سے موجود ہے انہیں صرف درست ڈائریکشن دینے کی ضرورت ہے‘ہم نے ماضی میں اپنی خدمات بلامعاوضہ فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی اور آج بھی یہ پیشکش موجود ہے.
مزید اہم خبریں
-
انمول پنکی سکینڈلز کی ابتدا ہے، آگے آگے دیکھیں ہوتا ہے کیا، فیصل واوڈا
-
روس کی یوکرین کے خلاف جنگ آئندہ کیا رخ اختیار کر سکتی ہے؟
-
تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کی ترقی کیلئے بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم
-
انمول پنکی کو جیل سے تھانے منتقل کرنے کیلئے غیرمعمولی انتظامات
-
پاکستان میں سیاحت کا شعبہ افسر شاہی کی رعونت کا شکار
-
افواجِ پاکستان نے بھارت کو وہ سبق سکھایا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا.وزیراعظم شہباز شریف
-
وزیرریلوے کا بارکھان کے علاقے نوشام میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر انہیں زبردست خراجِ تحسین
-
وزیر ریلویکا پشاور عوام کے لیے جدید سہولیات سے آراستہ ’’عوام ایکسپریس‘‘کا تحفہ ،عید سے قبل افتتاح کرنے کا اعلان
-
پاکستان کی اعلیٰ نسل کی بھینسوں کی جینیاتی صلاحیت عالمی توجہ کا مرکز، چین نے تعاون بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کر دی
-
وزیر تجارت سے چمڑے کی صنعت کے نمائندوں کے وفد کی ملاقات ،مارکیٹ تک رسائی کے مسائل آگاہ کیا
-
پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان برادرانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں، چیئرمین سینیٹ
-
سپیکر قومی اسمبلی کا بارکھان میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.