Live Updates

ٹیکسز کی بھرمار کے باعث ملک میں ہائوسنگ اور کنسٹرکشن سے وابستہ 80 سے زائد صنعتیں بند ہو چکی ہیں،ایس ایم تنویر

جمعرات 14 مئی 2026 22:26

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 مئی2026ء) یونائیٹڈ بزنس گروپ(یو بی جی)کے سرپرستِ اعلی ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیکسز کی بھرمار کے باعث ملک میں ہائوسنگ اور کنسٹرکشن سے وابستہ 80 سے زائد صنعتیں بند ہو چکی ہیں۔ فائلر اور نان فائلر کی تفریق سمیت سیکشن 236 سی، 7 ای اور دیگر ٹیکسز نے تعمیراتی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا اور سرمایہ کاری کا ماحول تباہ کر دیا۔

یہ بات انہوں نے یونائیٹڈ بزنس گروپ کے صدر زبیر ایف طفیل کی سربراہی میں آباد ہائوس کے دورے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وفد میں ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدر اور یو بی جی سدرن ریجن کے سیکریٹری جنرل محمد حنیف گوہر سمیت دیگر یو بی جی رہنما بھی شامل تھے۔

(جاری ہے)

ایس ایم تنویر نے کہا کہ بینکوں میں پیسہ رکھنے سے کاروبار نہیں چلتے، معیشت کو فعال بنانے کے لیے سرمایہ کاری اور صنعتوں کا چلنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونائیٹڈ بزنس گروپ نے معاشی بہتری کے لیے ایک اکنامک تھنک ٹینک قائم کیا ہے، جو آئندہ بجٹ کے حوالے سے تجاویز دے رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ تعمیراتی شعبے کی ترقی دراصل معیشت کی ترقی ہے کیونکہ اس سے 70 سے زائد دیگر صنعتیں وابستہ ہوتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں پراپرٹی پر اوسطا 4 فیصد ٹیکس لیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں ایڈوانس ٹیکس کے نام پر قوم کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یوکرین اور روس کی جنگ کے باعث تیل مہنگا ہوا تو اس میں ہاسنگ سیکٹر کا کیا قصور تھا ایس ایم تنویر نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بجٹ میں سیکشن 236 سی، 7 ای اور دیگر متنازع ٹیکسز ختم کر دیے جائیں گے۔ ان کے مطابق فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی)پہلے ہی ختم کی جا چکی ہے جبکہ دبئی منتقل ہونے والا سرمایہ بھی اب رک گیا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ بجٹ کے بعد حالات بہتر ہوں گے۔ میں پاکستان کی معیشت میں شاندار ترقی دیکھ رہا ہوں، خصوصا کراچی میں بے پناہ پوٹینشل موجود ہے۔ایس ایم تنویر نے مزید کہا کہ یونائیٹڈ بزنس گروپ میں نئی سوچ کی ضرورت ہے اور نوجوان نسل کو آگے لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے حالیہ عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رہائشی پلاٹوں کو کمرشل میں تبدیل کرنے پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے اور اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔

انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی معاشی امور میں دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران۔امریکا جنگ بندی کے بعد فیلڈ مارشل کی پوری توجہ پاکستان کی معاشی ترقی پر ہوگی۔اس موقع پر آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عدالتی نظام کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قوانین ایسے بنائے جائیں جن کے تحت عدالتوں میں مقدمات تین ماہ کے اندر نمٹائے جائیں۔

انہوں نے کہاکہ لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں نجی شعبے سے چیئرمین مقرر کیے جانے کے بعد نمایاں بہتری دیکھی گئی، اسی طرز پر کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا سربراہ بھی نجی شعبے سے مقرر کیا جانا چاہیے۔حسن بخشی نے بتایا کہ انہوں نے فیلڈ مارشل کو خط بھی لکھا ہے تاکہ وہ خود دیکھیں کہ کراچی میں کارکردگی بہتر ہوئی ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر بیوروکریسی، سیاستدانوں یا ہم میں کوئی خامی ہے تو ہم احتساب کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے بعض ادارے نجی شعبے کے حوالے کیے جانے چاہئیں کیونکہ پنجاب میں کاروباری حالات سندھ کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں، جبکہ کراچی خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آباد کسی قسم کے فیور کے بغیر عوام اور تعمیراتی شعبے کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔تقریب کے اختتام پر ایس ایم تنویر کی کاروباری خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات