کشمیری مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کی کوششیں کشمیر کاز کو نقصان پہنچائیں گی، دانیال عزیز

اختلاف رائے ہر شہری کا حق ہے تاہم کسی طبقے کی شناخت اور ان کی قربانیوں کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں،دانیال عزیز کی پریس کانفرنس

منگل 2 جون 2026 20:55

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) اور کشمیری مہاجرین کے تحفظ کے لیے قائم تنظیم "حکم" کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں جاری سیاسی کشیدگی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی بعض تجاویز نہ صرف کشمیری مہاجرین کے حقوق پر حملہ ہیں بلکہ یہ کشمیر کاز کو بھی نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کے خلاف چلائی جانے والی مہم حقائق کے منافی ہے جبکہ مہاجرین کے خلاف نفرت انگیز زبان اور توہین آمیز القابات کا استعمال کسی بھی مہذب سیاسی روایت کے خلاف ہے۔تفصیلات کے مطابق دانیال عزیز نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے ہر شہری کا حق ہے تاہم کسی طبقے کی شناخت اور ان کی قربانیوں کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کشمیر کاز کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ مہاجرین اور مقامی ا?بادی کے درمیان اتحاد برقرار رکھا جائے، جبکہ تقسیم، نفرت اور محاذ ا?رائی کی سیاست صرف دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 1947ء میں لاکھوں کشمیریوں نے پاکستان کے حق میں قربانیاں دیں، ہزاروں افراد شہید ہوئے اور لاکھوں لوگ ہجرت پر مجبور ہوئے۔ انہی تاریخی حقائق کی بنیاد پر کشمیری مہاجرین کو ا?زاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی دی گئی، جسے ختم کرنے کی کوشش کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ا?زاد کشمیر اسمبلی میں 25 نشستیں تھیں جن میں 12 نشستیں مہاجرین کے لیے مختص تھیں، جبکہ اب اسمبلی کی مجموعی نشستیں 53 تک پہنچ چکی ہیں۔ ان کے مطابق اگر مقصد اخراجات میں کمی ہے تو اس کا حل مہاجرین کی نمائندگی ختم کرنا نہیں بلکہ وسیع تر اصلاحات ہیں۔دانیال عزیز نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری مہاجرین کی سرپرستی کی ہے اور ان کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبے، سڑکیں، ڈیم، ہسپتال اور تعلیمی ادارے بھی پاکستان کے تعاون سے ہی ممکن ہو رہے ہیں۔انہوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی بعض قیادتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے سے نہ تو کرپشن ختم ہوگی اور نہ ہی ا?زاد کشمیر کے مالی مسائل حل ہوں گے۔ ان کے مطابق اگر احتساب مطلوب ہے تو بلاامتیاز احتساب ہونا چاہیے، صرف ایک طبقے کو نشانہ بنانا درست نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں نے ماضی میں مذاکرات کے دوران مہاجرین کی نشستوں کی معطلی یا خاتمے پر آمادگی ظاہر کی، جس سے موجودہ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کاز کی مضبوطی کے لیے مہاجرین اور مقامی آبادی کے درمیان اتحاد ناگزیر ہے، جبکہ تقسیم اور محاذ آرائی کی سیاست صرف دشمن کے مفاد میں ہے۔دانیال عزیز نے حکومت پاکستان، آزاد کشمیر حکومت اور تمام سیاسی و سماجی قوتوں سے اپیل کی کہ مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، کشمیری مہاجرین کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو قومی یکجہتی اور کشمیر کاز کو نقصان پہنچا سکیں۔