Live Updates

حکومت کا بجٹ میں فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاؤسز، ڈیجیٹل برآمدات کیلئے رعایت کا اعلان

وفاقی حکومت کی جانب سے آئی ٹی، آئی ٹی سے متعلقہ خدمات کا شعبہ اور فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاؤسز اور ڈیجیٹل ایکسپورٹرز کو اثاثہ قرار دے دیا گیا

muhammad ali محمد علی جمعہ 12 جون 2026 19:22

حکومت کا بجٹ میں فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاؤسز، ڈیجیٹل برآمدات کیلئے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2026ء) حکومت کا بجٹ میں فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاؤسز، ڈیجیٹل برآمدات کیلئے رعایت کا اعلان، وفاقی حکومت کی جانب سے آئی ٹی، آئی ٹی سے متعلقہ خدمات کا شعبہ اور فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاؤسز اور ڈیجیٹل ایکسپورٹرز کو اثاثہ قرار دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی بجٹ میں فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاؤسز، ڈیجیٹل برآمدات کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالےسے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئی ٹی کی برآمدات کی آمدنی پر صفر اعشاتیہ دو پانچ (0.25) فیصد ایف ٹی آر کی رعایت 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی ہے تاہم وزیراعظم نے اس رعایتی نظام کو مزید تین سال 30 جون 2029 تک جاری رکھنے کی تجویز دی ہے۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ نے بجٹ مسودے کی منظوری دے دی، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ بھی منظور کرلیا گیا۔

(جاری ہے)

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا، جس میں نئے مالی سال کے لیے بجٹ دستاویزات کے مسودے کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کے بعد ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فی صد اور پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی گئی۔ وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں بجٹ 2026-27ء کی تیاری میں میں بھرپور ساتھ دینے پر اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی معاونت پر بھی اظہار تشکر کیا۔

کابینہ اجلاس میں وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت نے ڈیسک بجاکر وزیراعظم کی تائید کی ۔ بعد ازاں وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی بجٹ پیش کیا گیا۔ ‎قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزراء اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے شرکت کی۔

‎بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں عالمی سطح پر اس کی آواز کو سنا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بینان مرصوص میں کامیابی ایک روشن باب ہے،گزشتہ سال بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا، آج پوری دنیا پاکستان کی دفاعی طاقت کو مانتی ہے، بہت سارے ممالک ہمارے لڑاکا طیارے اپنی افواج میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، ہمارے پاس مقدس اور بھاری ذمہ داری ہے، سعودی عرب کےساتھ بھائی چارے کا رشتہ دفاعی معاہدے سےمضبوط ہوا۔ انہوں نے ملکی معیشت کی بہتری، بین الاقوامی اعتماد اور گزشتہ برس بھارت کے ساتھ کشیدہ صورتحال کے دوران پاکستان کے مؤقف کا بھی ذکر کیا۔ ‎حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ‎اسی طرح مجموعی قومی آمدنی یا گراس ریونیو کا تخمینہ 20 ہزار 600 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس مالی سال میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی، خدمات شعبے میں 4.1 فیصد شرح نمو سامنےآئی، ہماری معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہےجوکہ نیاسنگ میل ہے جبکہ فی کس آمدنی1751 ڈالرسےبڑھ کر1901 ڈالرہوگئی۔

بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18ہزار 771ارب روپے ہوگا،سود کی ادائیگی پر 8ہزار 54ارب روپے مختص کرنے، پینشن پر مجموعی طور پر 1169ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جس میں ملٹری پینشن پر 822ارب روپے خرچ کرنے جبکہ سول پینشن پر 272ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے۔ دفاع کے لیے 3ہزار ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے جبکہ سبسڈی کی مد میں 1091ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق سول حکومت پر اخراجات کا تخمینہ 1071ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جبکہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 430ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے، مجموعی طور پر جاری اخراجات 17ہزار 495ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات