منشیات کی روک تھام کے لیے حکومت موثر اور عملی اقدامات کرے، رفیع احمد

تعلیمی ادارے بھی منشیات فروشوں کے نشانے پر ہیں، صدر فانوس کا عالمی یومِ انسدادِ منشیات پر پیغام

اتوار 28 جون 2026 18:25

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 جون2026ء) عالمی یومِ انسدادِ منشیات کے موقع پر فرینڈز آف اینٹی نارکوٹکس آف سندھ (فانوس)کے صدر رفیع احمد نے حکومت پر زور دیا ہے کہ منشیات کے پھیلا ئوکی روک تھام کے لیے فوری، موثر اور عملی اقدامات کیے جائیں، کیونکہ منشیات فروشی کا منظم نیٹ ورک نوجوان نسل، خصوصا تعلیمی اداروں تک پہنچ چکا ہے۔

اپنے پیغام میں رفیع احمد نے کہا کہ پاکستان میں ہیروئن، چرس، افیون، کرسٹل آئس، ویڈ، کوکین، شراب، نشہ آور ادویات، الیکٹرانک سگریٹ اور دیگر منشیات کے استعمال میں مسلسل اضافہ تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق منشیات صرف افراد کی صحت ہی نہیں بلکہ معاشرے کے اخلاقی، سماجی اور معاشی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمزور حکمرانی، کرپشن، بے روزگاری، غربت، مہنگائی، تعلیمی سہولتوں کی کمی اور نوجوانوں کے لیے مثبت مواقع کا فقدان منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بڑی وجوہات ہیں۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ ہر سال لاکھوں نوجوان بے روزگار ہو رہے ہیں، جس کے باعث وہ منشیات فروش گروہوں کے لیے آسان ہدف بن جاتے ہیں۔رفیع احمد نے دعوی کیا کہ کراچی دنیا کے ان بڑے شہروں میں شامل ہے جہاں چرس کا استعمال انتہائی زیادہ ہے، جبکہ منشیات فروش اب تعلیمی اداروں کو بھی اپنا ہدف بنا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل کی نوجوان نسل منشیات کی لعنت کا شکار ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انجکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں میں ایڈز سمیت دیگر مہلک بیماریوں کے پھیلا کا خطرہ بڑھ رہا ہے، کیونکہ ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔صدر فانوس نے مطالبہ کیا کہ حکومت سرحدوں اور آبی راستوں سے منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے، اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف)کو جدید ٹیکنالوجی، وسائل اور افرادی قوت فراہم کرے اور منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائے۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں میں انسدادِ منشیات سے متعلق آگاہی پروگرامز کا انعقاد کیا جائے، نوجوانوں کے لیے مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے، جبکہ منشیات فروشوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں تاکہ معاشرے کو اس ناسور سے نجات دلائی جا سکے۔