بھارت پاکستان کے مختلف دریائوں پر آبی ذخائر تعمیر کرکے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہا ہے، سابق صدر این ڈی یو

منگل 30 جون 2026 17:39

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 جون2026ء) نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سابق صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی قومی سلامتی اور قومی مفاد کا معاملہ ہے، بھارت پاکستان کے مختلف دریائوں پر آبی ذخائر تعمیر کرکے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہا ہے، حکومت کو بھارت کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کیلئے پانچ نکاتی حکمت عملی پر عمل کرنا چاہئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس قدیم تہذیب ہے، سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی قومی سلامتی اور قومی مفاد کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دیگر سنگین تنازعات کو روکنے کا ایک جامع اور پائیدار میکنزم ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ معاہدہ کے 12 آرٹیکلز ہیں، انڈس واٹر کمشنر دونوں ممالک کے درمیان پانی سے متعلق مسائل کو حل کرتا ہے، سندھ طاس معاہدہ پاکستان کیلئے پانی سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، بھارت سندھ طاس معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، بھارت گزشتہ 10 سال سے مختلف حیلے بہانے کرکے اس معاہدہ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا مقصد پاکستان کا تنہا اور کمزور کرنا ہےلیکن بھارت کو اپنے مذموم مقاصد میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے دریائے سندھ پر پانی کے 2 ذخائر تعمیر کئے ہیں جبکہ تیسرے پر کام جاری ہے، اسی طرح دریائے جہلم پر بھارت نے آبی ذخائر کے پانچ منصوبے مکمل کئے ہیں جس میں کشن گنگا ڈیم سب سے اہم ہے، اسی طرح دریائے چناب کا معاملہ سب سے سنگین ہے جہاں بھارت نے متعدد آبی ذخائر تعمیر کئے ہیں، چار منصوبے مکمل کئے جا چکے ہیں ، دیگر پانچ پر کام جاری ہے، چناب ، ستلج لنک کینال سے دریائے ستلج کا پانی موڑا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ آبی ذخائر پاکستان کی قومی سلامتی کیلئے حقیقی خطرہ ہیں، ہمیں اس معاملہ سے نمٹنے کیلئے پانچ نکاتی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے، قانونی اور سفارتی طریقہ کار اپنانا چاہئے، تکنیکی اور آپریشنل تیاری کرنی چاہئے، ڈومیسٹک واٹر مینجمنٹ سسٹم وضع کرنا چاہئے، اپنی ریڈ لائن وضع کرکے مربوط ڈیٹرنس کو بروئے کار لانا چاہئے۔ سیمینار سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی وماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔