ماجد ستی قتل کیس ،امتیاز علی عرف تاجی کھوکھر کے بیٹے و جے یو آئی کے رہنما فرخ امتیاز کھوکھر سمیت 3 ملزمان کو عمر قید کی سزا

منگل 14 جولائی 2026 19:32

ماجد ستی قتل کیس ،امتیاز علی عرف تاجی کھوکھر کے بیٹے و جے یو آئی کے ..
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 جولائی2026ء) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی افشاں اعجاز صوفی نے تھانہ صادق آباد کے مشہور ماجد ستی قتل کیس میں نامزد امتیاز علی عرف تاجی کھوکھر کے بیٹے و جمعیت علمائے اسلام کے رہنما فرخ امتیاز کھوکھر سمیت 3 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنادی ہے جس پر پولیس نے فرخ کھوکھر کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا ہے عدالت نے تینوں ملزمان کو مقتول کے ورثاء کو 10 لاکھ روپے فی کس ہرجانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے گزشتہ روز سنائے گئے عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق عدالت نے فرخ کھوکھر کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 109 اور 114 کے تحت جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنادی عدالت نے مقتول کے قانونی ورثاء کو 10 لاکھ روپے بطور ہرجانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے اسی طرح عدالت نے امیر حمزہ اور حیدر علی نواز عرف جوگی پر مشتمل دیگر دو ملزمان کو بھی عمر قید کی سزا سنانے کے ساتھ مقتول کے ورثاء کو 10 لاکھ روپے بطور ہرجانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے عدالت نے حکم دیا ہے کہ ہرجانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں ملزمان کی جائیداد فروخت کر کے ہرجانے کی رقم وصول کی جائے یاد رہے کہ نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے بعد پولیس نے امیر حمزہ اور حیدر علی نواز نامی دونوں ملزمان کو گرفتار کیا تھا جبکہ گرفتار ملزمان کے بیان پر فرخ کھوکھر کو ملزم نامزد کیا گیا تھا تھانہ صادق آباد پولیس نے 23 اگست 2022 کو مقتول ماجد ستی کے چچا حاجی ارشد محمود کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 109، 148، 149 اور 114 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ وقوعہ کے روز اپنے بھائی ناصر محمود، بھتیجے ماجد ذوالفقار اور ملازم عالم زیب کے ہمراہ سکستھ روڈ پر واقع اپنی موبائل شاپ بند کر رہے تھے کہ ماجد ستی کو اس کے دوست قاسم شاہ نے فون کر کے باہر بلایا بعد ازاں جب ہم بھی باہر نکلے تو ماجد ستی قاسم شاہ کی گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا اسی اثنا میں موٹر سائیکل پر سوار 2 نوجوانوں نے قاسم شاہ کی گاڑی کو ٹکر ماری اور موٹر سائیکل پر پچھلی سیٹ پر سوار نوجوان نے پستول نکال کر 3 فائر کئے جو ماجد ستی کو پیٹھ میں لگے جبکہ موٹر سائیکل سوار فرار ہو گئے ماجد ستی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا مقدمہ کے متن کے مطابق مقتول نے کچھ روز قبل مدعی کو بتایا تھا کہ کچھ مشکوک افراد اس کا پیچھا کرتے ہیں جبکہ اس قتل میں قاسم شاہ کا کردار بھی مشکوک ہے وجہ قتل یہ ہے کہ غوری ٹاؤن اسلام آباد کے مالکان والے کیس میں مقتول نے عبدالرحمن نامی شخص کو گرفتاری سے بچایا تھا اور ہائی کورٹ سے اس کی سزا معطل کرانے میں مدد کی تھی جس کا مخالف پارٹی کو رنج تھا لہٰذا انہی کی ایما پر ماجد ستی کو قتل کیا گیا گزشتہ روز فیصلے کے وقت پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر راولپنڈی عمران رحیم، ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر طارق شہزاد اور اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر میر مراد رضا کے علاوہ ملزمان کے وکلا بھی موجود تھے اس موقع ملزمان کے حامیوں اور مقتول کے ورثا کی بڑی تعداد عدالت کے باہر موجود تھی پولیس کی جانب سے جوڈیشل کمپلیکس اور ضلع کچہری میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے اس مقصد کے لئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔