ں*شہدائے مانگی سے اظہارِ یکجہتی، بلوچستان بھر میں تاجروں کی کامیاب شٹر ڈاؤن ہڑتال
ٓتاجر برادری کا امن و امان کی خراب صورتحال پر شدید احتجاج، حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ ں*مرکزی انجمن تاجران کی وارننگ، مطالبات نہ مانے گئے تو مزید سخت احتجاج کیا جائے گا
جمعہ 17 جولائی 2026 22:05
(جاری ہے)
اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اپنے ہی شہید اہلکاروں کی لاشیں بروقت واپس لانے میں ناکام رہے، جس کے بعد لواحقین نے خود اپنے پیاروں کی میتیں وصول کرکے کوئٹہ منتقل کیں اور انصاف کے حصول کے لیے دھرنا دینے پر مجبور ہوئے۔
یہ صورتحال حکومتی نااہلی، کمزور حکمت عملی اور امن و امان کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔بیان میں کہا گیا کہ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کی اپیل پر صوبے کے طول و عرض میں تاجروں نے مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ کچلاک، پشین، سرانان، خانوزئی، مسلم باغ، قلعہ سیف اللہ، ژوب، شیرانی، لورالائی، موسی خیل، میختر، رکھنی، بارکھان، دکی، سنجاوی، زیارت، ہرنائی، شاہرگ، سبی، چمن سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع اور تحصیلوں میں تجارتی مراکز میں شٹر ڈان ہڑتال مکمل طور پر کامیاب رہی اور تمام چھوٹے بڑے بازار بند رکھ کر شہدائے مانگی کے لواحقین سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے اپنے تمام ضلعی یونٹس، بازاروں کے یونٹوں، مارکیٹوں کے یونٹوں کے تمام عہدیداروں اور تاجروں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پہلے احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کی اور بعد ازاں شٹر ڈان ہڑتال کو کامیاب بنا کر یہ ثابت کردیا کہ بلوچستان کی تاجر برادری دہشت گردی، بدامنی اور بے گناہ شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔بیان میں کہا گیا کہ آج بلوچستان کا ہر شہری عدم تحفظ کا شکار ہے۔ تاجر، ٹرانسپورٹر، زمیندار، مزدور، سرکاری ملازمین اور عام شہری سب دہشت گردی اور بدامنی سے شدید متاثر ہیں۔ آئے روز ہمارے پولیس اور لیویز کے جوان دہشت گردی کی نذر ہو رہے ہیں، جبکہ قومی شاہراہیں عملا غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ مال بردار گاڑیوں اور مسافر بسوں کو نذرِ آتش کیا جا رہا ہے، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، ڈکیتی اور بھتہ خوری کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ مسلح گروہ کھلے عام قومی شاہراہوں پر ناکہ بندیاں کرکے گاڑیوں کی چیکنگ کرتے ہیں، جو ریاستی عملداری پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ ایسی صورتحال کے باعث بلوچستان کی تجارت، سرمایہ کاری اور معیشت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان شہدائے زیارت مانگی دھرنا کمیٹی کے تمام مطالبات کو جائز، آئینی اور عوامی مفاد پر مبنی سمجھتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ شہدا کے لواحقین کے مطالبات پر فوری عملدرآمد کیا جائے، واقعے میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مثر اقدامات کیے جائیں اور تاجروں، ٹرانسپورٹروں، سرکاری اہلکاروں اور عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔بیان کے آخر میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر، کابینہ اراکین اور ایگزیکٹو باڈی نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے شہدائے مانگی دھرنا کمیٹی کے مطالبات پر فوری، سنجیدہ اور عملی پیش رفت نہ کی اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور بدامنی پر قابو پانے میں ناکام رہی تو مرکزی انجمن تاجران بلوچستان آئندہ بھی آل پارٹیز اور شہدائے مانگی دھرنا کمیٹی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہے گی اور ان کی جانب سے طے کیے جانے والے ہر آئینی، جمہوری اور پرامن احتجاجی لائحہ عمل کی بھرپور حمایت اور عملی شرکت کرے گی۔ ساتھ ہی حکومت کو خبردار کیا گیا کہ اگر امن و امان کی صورتحال میں بہتری نہ لائی گئی تو بلوچستان کی تاجر برادری مزید سخت احتجاجی فیصلے کرنے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومت پر عائد ہوگیمزید اہم خبریں
-
آبنائے ہرمز: محفوظ راہداری پر محصول خلاف قانون، اقوام متحدہ
-
غزہ: غذائی تحفظ میں بہتری کو وسائل کی کمیابی سے خطرہ، یو این ادارے
-
آزاد کشمیر میں تقریرکرنے والوں کا نام لیں تو ذہن میں ایک چیز ’کرپشن‘ آتی ہے
-
غریب کا بچہ تب لیڈر بنےگا، جب کوئی امیرزادہ پارٹی سیٹ پر قبضہ کرکے نہیں بیٹھا ہوگا
-
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
-
آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب اور شمالی علاقہ جات میں موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی
-
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
-
خطے میں سب سے مہنگا ڈیزل پاکستان میں، افغانستان میں بھی ڈیزل پاکستان سے سستا ہونے کا انکشاف
-
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
-
2 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی سڑک مون سون کی پہلی موسلادھار بارش برداشت نہ کرسکی
-
20 سال پرانی گاڑی مالکان کیلئے بڑی خبر، حکومت کی نئی وہیکل پالیسی سامنے آگئی
-
ڈی سی نے چند فٹ کے پُل کا تخمینہ ایک کروڑ80 لاکھ روپے لگایا جبکہ دوست انجینئر نے صرف6 لاکھ روپے میں بنا دیا
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.