Live Updates

نیشنل بینک بارے آڈیٹر جنرل پاکستان کی آڈٹ رپورٹ پر ایکشن لیا جائے،ظفر صادق

صدر نیشنل بینک رحمت علی حسنی کے مئی 2022 سے آج دن تک کے پیریڈ کا فرانزک آڈٹ کیا جائی: پریس کانفرنس سے خطاب

ہفتہ 18 جولائی 2026 23:01

نیشنل بینک بارے آڈیٹر جنرل پاکستان کی آڈٹ رپورٹ پر ایکشن لیا جائے،ظفر ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 جولائی2026ء) نیشنل بینک آف پاکستان پنشنرزایکشن کمیٹی (پاکستان اینڈاوورسیز)کے مرکزی سیکرٹری جنرل ظفر صادق نے وفاقی وزارت خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ نیشنل بینک کے بارے میں آڈیٹر جنرل پاکستان کی آڈٹ رپورٹ 2012 تا 2020 پر فوری طور پر ایکشن لیا جائے ، صدر نیشنل بینک رحمت علی حسنی کا مئی 2022 سے آج دن تک کے پیریڈ کا فرانزک آڈٹ کیا جائے جبکہ رحمت علی حسنی سمیت جن چار سینئر ایگزیکٹوز پر توہین عدالت کا مقدمہ زیر سماعت ہے اس مقدمے کا فیصلہ ہونے تک صدر بینک سمیت چارسینئر ایگزیکٹوز پر بیرون ملک جانے پر پابندی لگائی جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے امجد قریشی ،عشرت محمود بٹ ، انچارج میڈیا سیل محمد زبیر یوسف بٹ، سیکرٹری تعلقات عامہ ذوالفقار سندھو کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

ظفر صادق ،امجد قریشی ،عشرت محمود بٹ نے کہا کہ نیشنل بینک آف پاکستان کے صدررحمت علی حسنی اور ان کی کنٹریکچوئل ٹیم پنشنرزکا معاشی قتل کر رہی ہے، 9 ہزار سے زائد پنشنر جائز مطالبات کی عدم شنوائی کے باعث شدید ذہنی دبائوکا شکارہیںبینک مینجمنٹ پنشنرزکے واجبات کی ادائیگی نہ کر کے پنشنرز کو ذہنی اذیت دے رہی ہے بینک انتظامیہ کی بے حسی کی وجہ سے پنشنرز کا ردعمل ضروری ہو گیا ہے اس کی ابتدا کسی بھی وقت اور کسی بھی بینک کے ریجن میں صدر بینک اور کسی بھی گروپ چیف کا گھیرائوسے شروع ہو گا ،نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے پارلیمنٹ ہائوس تک احتجاجی ریلی ، نیشنل بینک کے ہیڈ آفس کا گھیرائو اور بھوک ہڑتال کی جائے گی ،جس کی وجہ سے حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری رحمت علی حسنی (صدر بینک) ، عبدالواحد سیٹھی (گروپ چیف) ،محترمہ مہناز سالار (لیگل ہیڈ) پر عائد ہوگی۔

نیشنل بینک آف پاکستان پنشنرزایکشن کمیٹی (پاکستان اینڈاوورسیز) کے مرکزی سیکرٹری جنرل ظفر صادق نے کہا کہ آڈیٹر جنرل پاکستان کی آڈٹ رپورٹ 2012 تا 2020 جس میں اربوں روپے کے لیگل چارجز کے بارے میں تفصیل رپورٹ میں لکھی گئی ہے کہ بینک کے فنڈز کا صحیح استعمال نہیں کیا گیا، بینک انتظامیہ سٹاف کے خلاف80 فیصد اورپنشنرزکے خلاف تمام کیسز ہار چکی ہے اور بینک کے اپنے پینل پر ہزاروں وکلاء کے باوجود باہر سے وکلاء کو بھاری فیسوں کی ادائیگی کی گئی اور اس آڈٹ رپورٹ پر کارروائی کرنے کی بجائے اس رپورٹ کو رحمت علی حسنی کی ہدایت پر دبادیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کی جانب سے منظور شدہ بجٹ کے مطابق پنشن میں اضافے پر فوری عمل نہ کر کے بینک انتظامیہ نے پارلیمنٹ کی توہین کی ہے اس لیے قومی اسمبلی کے کسٹوڈین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر پارلیمنٹ کے منظور کردہ فیصلوں پر عمل درآمد میں کوئی غیر قانونی رکاوٹ یا کوتاہی ہوئی ہے تو قانون کے مطابق اس کا جائزہ لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے اور پنشنرزکے حقوق فوری ادا کیے جائیں۔

پنشنرز ایکشن کمیٹی نے وفاقی وزارت خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ رحمت علی حسنی (صدر بینک) کے عارضی پیریڈ مئی 2022 سے جولائی 2023 اور مستقل پیریڈ اگست 2023 سے ابتک اختیارات کے تحت بینک کے فنڈز کا بے دریغ استعمال کیا ہے اس کا اسپیشل آڈٹ کروایا جائے۔ بورڈز آف ڈائریکٹرز کی منظوری سے پنشنرز کے میڈیکل الائونس کیلئے سرکلر کے مطابق ادائیگی نہ کرنے پر بھی رحمت علی حسنی کے خلاف گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کاروائی کریں،پنشنرز کیلئے چالیس سالہ پرانے میڈیکل فکسڈ فارمولہ پر نظر ثانی کرکے اسے موجودہ حالات کے مطابق بنایا جائے،سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق بجٹ انکریز کے تمام واجبات بلا تفریق باقی ماندہ پنشنرز کو بمعہ میڈیکل واجبات فوری ادا کیے جائیں۔

2010سے نیشنل بینک پنشنرزکے خلاف بینک کے اربوں روپے ضائع کرنے والے غاصب پالیسی سازوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ قانون کی بالادستی اور پارلیمنٹ کے فیصلوں کا احترام یقینی بنایا جائے،مملکت خدادا پاکستان کے قومی ادارے نیشنل بینک آف پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے والے کنٹریکچوئل ٹولے رحمت علی حسنی (صدر بینک) عبدالواحد سیٹھی (گروپ چیف ) مہناز سالار کے خلاف کارروائی کی جائے۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات