کراچی میں پانی کا بحران منعم ظفر خان کا وزیراعظم شہباز شریف کے نام خط، کے فور منصوبے کی فوری تکمیل کا مطالبہ

صوبائی حکومت K-IVآگمینٹیشن مکمل ،وفاقی حکومت باقی ماندہ تمام فنڈز اسی مالی سال فراہم کرے ،ْ منعم ظفر خان کا خط میں مطالبہ ستم ظریفی ہے کہ ملک کے ریونیو میں 50 فیصد سے زائد حصہ ڈالنے والے شہر کی نصف سے زیادہ آبادی پانی سے محروم ہے

اتوار 19 جولائی 2026 20:00

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 جولائی2026ء) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کراچی میں پانی کے سنگین بحران پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے نام خط ارسال کردیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کے فور منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر فی الفور مکمل کیا جائے ۔منعم ظفر خان نے اپنے خط میں قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی میں پیش کی گئی رپورٹ پرشدید تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت K-IVآگمینٹیشن منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرے، جبکہ وفاقی حکومت منصوبے کی تکمیل کے لیے درکار باقی ماندہ تمام فنڈز اسی مالی سال میں فراہم کرے تاکہ منصوبے کا پہلا مرحلہ جلد از جلد مکمل ہو اور کراچی کے شہریوں کو پانی کے شدید بحران سے نجات دلائی جا سکے۔

منعم ظفر خان نے اپنے خط میں مزید کہا کہ قومی اسمبلی کی کمیٹی کی پیش کی گئی رپورٹ نے کراچی کے شہریوں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے مطابق کے فور منصوبے کا پہلا مرحلہ، جس کے ذریعے کراچی کو روزانہ 260 ملین گیلن پانی فراہم کیا جانا تھا، اب دسمبر 2029 میں مکمل ہوگا۔

(جاری ہے)

آپ کے علم میں ہے کہ ساڑھے تین کروڑ آبادی والے شہر کراچی میں پانی کا بحران انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔

یہ انتہائی افسوسناک اور ستم ظریفی ہے کہ ملک کے ریونیو میں 50 فیصد سے زائد حصہ ڈالنے والے شہر کی نصف سے زیادہ آبادی آج بھی پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت سے محروم ہے۔خط میں مزید بتایا کہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی کراچی کو روزانہ کم از کم 1200 ملین گیلن پانی درکار ہے، لیکن شہر کو اس کی ضرورت کے نصف سے بھی کم، یعنی صرف 550 ملین گیلن پانی روزانہ فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں پانی کی فراہمی کا آخری بڑا منصوبہ K-IIIسابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے دور میں بروقت مکمل ہوا تھا، جبکہ اسی دور میں مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے K-IVمنصوبے کا PC-IIبھی تیار کر لیا گیا تھا، مگر افسوس کہ 21 برس گزر جانے کے باوجود K-IVمنصوبہ مکمل نہیں ہو سکا۔منعم ظفر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت تاخیر کا ذمہ دار وفاق کو قرار دیتی ہے جبکہ وفاقی حکومت میں شامل جماعتیں صوبائی حکومت پر الزام عائد کرتی ہیں، مگر کراچی کے شہری یہ حقیقت واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ اگر ایک طرف صوبائی حکومت K-IVآگمینٹیشن منصوبہ ورلڈ بینک کی معاونت کے باوجود بروقت مکمل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے تو دوسری جانب وفاقی حکومت نے بھی K-IVمنصوبے کے لیے درکار رقم کے مقابلے میں انتہائی کم فنڈز مختص کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ وفاقی بجٹ میں منصوبے کے لیے درکار 40 ارب روپے کے مقابلے میں صرف 3 ارب 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جبکہ رواں بجٹ میں بھی صرف 8 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت دونوں ہیK-IV منصوبے کی بروقت تکمیل میں سنجیدہ دلچسپی نہیں رکھتیں۔کراچی کے شہری، جو پہلے ہی صوبائی اور وفاقی آمدنی میں سب سے زیادہ حصہ ڈالتے ہیں، پانی کی عدم دستیابی کے باعث ہر سال اربوں روپے ٹینکر مافیا کو ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر K-IVمنصوبہ بروقت مکمل کر لیا جاتا تو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران شہریوں کے سیکڑوں ارب روپے، جو ٹینکر مافیا کی نذر ہوئے، اپنے بچوں کی تعلیم، صحت اور خوراک پر خرچ کر سکتے تھے۔