پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 اگست2026ء)
پاکستان، سعودی عرب اور
ترکی کے درمیان تاریخی
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ نے دہائیوں کے فوجی اور اسٹریٹجک تعاون کو اجتماعی سکیورٹی کے ایک زیادہ منظم فریم ورک میں بدل دیا ہے جو خلیج اور بحیرہ احمر سے لے کر بحیرہ عرب اور جنوبی ایشیا تک پھیلے اسٹریٹجک تناظر کو دوبارہ ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گزشتہ جمعہ کو
مکہ میں
وزیراعظم محمد
شہباز شریف، سعودی ولی عہد و وزیراعظم
محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب
طیب اردوان کی جانب سے دستخط شدہ اس تاریخی معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے مقصد سے قریبی دفاعی ہم آہنگی اور اجتماعی سکیورٹی تعاون کےلیے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس کی سب سے اہم شق میں بیان کیا گیا ہے کہ تینوں میں سے کسی بھی ایک ملک پر مسلح
حملہ تمام ممالک پر
حملہ تصور کیا جائے گا۔
(جاری ہے)
پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سابق چیئرمین عدنان
سرور خان نے خطے کو درپیش ارتقائی سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر اس معاہدے کو تینوں ممالک کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اجتماعی دفاعی شق تکنیکی طور پر
نیٹو کے آرٹیکل 5 کے مشابہ ہے اس معنوں میں کہ ایک رکن پر حملے کو تمام پر
حملہ سمجھا جائے گا، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ
مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس موازنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں لیا جانا چاہیے کہ
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے راتوں رات
نیٹو کے طرز کی فوجی تنظیم قائم کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امداد کی نوعیت اور پیمانے کا تعین تینوں ریاستوں کے درمیان مشاورت کے ذریعے کیا جائے گا اور حالات کے لحاظ سے یہ انٹیلی جنس اور لاجسٹک سپورٹ سے لے کر وسیع تر فوجی امداد تک ہو سکتا ہے۔
یہ نیا سہ فریقی فریم ورک
پاکستان اور
سعودی عرب کے درمیان ستمبر 2025 میں
ریاض میں دستخط شدہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر مبنی ہے جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت قرار دیا گیا تھا۔ ترکیہ کی شمولیت سے اس اسٹریٹجک مساوات کو ایک نئی تکنیکی اور جغرافیائی جہت ملی ہے۔
ڈاکٹر عدنان
سرور خان کے مطابق تینوں ممالک مختلف لیکن ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی اسٹریٹجک صلاحیتوں کے حامل ہیں۔
پاکستان ایک بڑی اور تجربہ کار
فوج، دہشت گردی کے خلاف اور روایتی کارروائیوں میں وسیع تجربہ، قابل ذکر فضائی و بحری صلاحیتیں اور ایک قائم شدہ دفاعی پیداواری بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح ترکیہ تیزی سے پھیلتی ہوئی ملکی دفاعی صنعت، بالخصوص بغیر پائلٹ کے سسٹمز (ڈرونز)، الیکٹرانک وارفیئر، بحری پلیٹ فارمز، میزائلوں اور دیگر جدید ترین فوجی ٹیکنالوجیز میں ابھرتا ہوا ملک ہے جبکہ
سعودی عرب مالی وسائل، اسٹریٹجک جغرافیہ اور
دنیا کی اہم ترین توانائیاں اور بحری راہداریوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔
ایک ساتھ مل کر یہ صلاحیتیں ایک زیادہ متنوع علاقائی سکیورٹی شراکت داری قائم کر سکتی ہیں جس میں فوجی افرادی قوت، آپریشنل تجربہ،
ٹیکنالوجی، فنانسنگ اور اسٹریٹجک جغرافیہ ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ سابق سفیر منظور الحق نے اس پیش رفت کو بھائی چارے کے حامل دونوں ممالک کے ساتھ
پاکستان کے اسٹریٹجک تعلقات میں ایک نیا باب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطہ پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جس سے دفاعی ہم آہنگی کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ
پاکستان کےلیے یہ معاہدہ نہ صرف ایک سفارتی کامیابی کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ دفاعی و صنعتی تعاون کو گہرا کرنے، اسٹریٹجک سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور وسیع تر مسلم
دنیا میں ایک سکیورٹی پارٹنر کے طور پر
اسلام آباد کے کردار کو وسعت دینے کا ایک موقع بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ
سعودی عرب کےلیے یہ ترتیب ویژن 2030 کے تحت ملکی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی وسیع تر کوششوں کے عین مطابق ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ لازمی طور پر
امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ
سعودی عرب کے موجودہ تعلقات کا متبادل نہیں ہے۔ بلکہ یہ
ریاض کو ایسے وقت میں اسٹریٹجک تعاون کی ایک اضافی تہہ فراہم کرتا ہے جب علاقائی سیکیورٹی ترتیبات میں نمایاں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ سینئر دفاعی تجزیہ
کار برگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے
مکہ معاہدے کو صرف فوجی مشقوں یا انٹیلی جنس شیئرنگ کی ترتیب سے بڑھ کر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف مشترکہ
فوجی مشقیں کرنے یا انٹیلی جنس شیئرنگ کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ایک طویل المدتی وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت اہم مسلم ممالک علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے اور بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ
پاکستان کےلیے اس معاہدے کی اہمیت خاص طور پر نمایاں ہے کیونکہ
اسلام آباد کے سکیورٹی مفادات ایک ساتھ جنوبی ایشیا، بحیرہ عرب اور خلیج تک پھیلے ہوئے ہیں۔
اس لیے تینوں ممالک کا اسٹریٹجک جغرافیہ اس نئی ترتیب کا ایک اہم جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ
سعودی عرب بحیرہ احمر اور خلیجی سکیورٹی ماحول کے سنگ پر واقع ہے،
پاکستان بحیرہ عرب اور وسیع تر بحر ہند کے ساتھ ایک اسٹریٹجک طور پر اہم موقع پر قائم ہے جبکہ ترکیہ بحیرہ روم تک رسائی فراہم کرتا ہے اور نمایاں بحری و دفاعی۔صنعتی صلاحیتوں کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک زیادہ ہم آہنگ نقطہ نظر بالاخر بحری نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ، ایئر ڈیفنس، اینٹی
ڈرون صلاحیتوں، سائبر سیکیورٹی اور ہنگامی منصوبہ بندی پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ بذات خود خودکار طور پر کوئی مشترکہ بحری فورس قائم نہیں کرتا اور نہ ہی تینوں ممالک کو ہر علاقائی تنازع میں اجتماعی طور پر حصہ لینے کا پابند بناتا ہے۔
حالیہ پیش رفتوں نے علاقائی توانائی کے انفراسٹرکچر کے کمزوری کو اجاگر کیا ہے۔ بحیرہ احمر، باب المندب اور بحیرہ عرب بین الاقوامی تجارت اور توانائی کے نقل و حمل میں اہم کڑیاں ہیں۔کوئی بھی طویل مدتی خلل جہاز رانی کے اخراجات میں اضافہ کر سکتا ہے، سپلائی چینز کو متاثر کر سکتا ہے اور توانائی کی قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔پاکستان۔سعودی۔
ترکیہ کا ایک ہم آہنگ دفاعی طریقہ
کار بالآخر معلومات کے تبادلے، بحری نگرانی اور تجارتی جہاز رانی کے تحفظ میں سہولت فراہم کر سکتا ہے اگرچہ اس طرح کی صلاحیتوں کے لیے الگ آپریشنل ترتیبات اور مسلسل فوجی ہم آہنگی کی ضرورت ہوگی۔
سعودی عرب میں
پاکستان کے سرفہرست سفارت
کار کے طور پر خدمات انجام دینے والے سفیر منظور الحق نے کہا کہ اس معاہدے کے لیے سب سے اہم ٹیسٹ میں سے ایک یہ ہوگا کہ اس کے سیاسی عزائم کو کتنی جلدی مستقل ادارہ جاتی سکیورٹی طریقہ
کار میں ڈھالا جاتا ہے۔
اس فریم ورک میں تینوں ممالک کی خارجہ اور دفاعی قیادت کے درمیان باقاعدہ مشاورت اور ممکنہ طور پر
سعودی عرب میں ایک مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کا تصور کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی حکام کے باقاعدہ اجلاس، مشترکہ مشقیں، عام مواصلاتی طریقہ
کار، انٹیلی جنس شیئرنگ کی ترتیبات اور ہم آہنگ فضائی و بحری نگرانی تدریجی طور پر اس معاہدے کو ایک مضبوط آپریشنل جہت دے سکتی ہیں۔
تینوں ممالک ان شعبوں میں مخصوص تعاون بھی تیار کر سکتے ہیں جہاں ان کی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، جن میں ڈرونز، ایئر ڈیفنس، الیکٹرانک وارفیئر، بحری سیکیورٹی، اسپیشل آپریشنز اور دفاعی پیداوار شامل ہیں۔
پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت روایتی فوجی سفارت کاری سے کہیں آگے ہے۔
پشاور یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے سابق چیئرمین پروفیسر
ڈاکٹر نعیم خان نے کہا کہ یہ معاہدہ دفاعی سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور
ٹیکنالوجی کےلیے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری
پاکستان کے دفاعی شعبے میں اشد ضرورت کی حامل سرمایہ کاری کو راغب کر سکتی ہے جبکہ
سعودی عرب اور ترکیہ کو ان کی ملکی دفاعی صنعتوں کو وسعت دینے کے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ اس بڑھتے ہوئے تعاون سے نوجوانوں کےلیے روزگار پیدا ہو سکتا ہے،
ٹیکنالوجی کی منتقلی میں سہولت مل سکتی ہے اور
پاکستان کو اپنی دفاعی
برآمدات بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ موقع خاص طور پر اس وقت انتہائی اہم ہے جب
پاکستان ملکی دفاعی پیداوار کو مضبوط بنانے اور فوجی سامان کی
برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ترکیہ کے ساتھ تعاون سے بغیر پائلٹ کے ہوائی سسٹمز، بحری پلیٹ فارمز، میزائلوں، الیکٹرانکس اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجیز میں مواقع پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ
سعودی سرمایہ کاری
پاکستان میں مینوفیکچرنگ، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کےلیے سرمایاجات فراہم کر سکتی ہے۔
تاہم
معاشی فوائد صرف دفاعی معاہدے کے بجائے ٹھوس منصوبوں پر منحصر ہوں گے۔ سرمایہ کاری،
ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ پیداوار کے لیے الگ سے تجارتی ترتیبات، فنانسنگ کے طریقہ
کار، خریداری کے عزم اور قابل عمل صنعتی شراکت داریوں کی ضرورت ہوتی ہے۔منظور الحق منظور نے کہا کہ
پاکستان کےلیے یہی وہ جگہ ہے جہاں معاہدے کی اسٹریٹجک قدر وسیع تر
معاشی تعلقات میں پھیل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ
اسلام آباد مینوفیکچرنگ،
ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، زراعت اور دیگر پیداوری شعبوں میں
سعودی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے قریبی دفاعی تعلقات کو استعمال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جبکہ ترکیہ صنعتی شراکت داریوں اور تکنیکی تعاون کے لیے راستے فراہم کر سکتا ہے۔ سابق سفیر منظور الحق نے کہا کہ اس لیے یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان وسیع تر
معاشی مصروفیت کا تلافی کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ
مکہ معاہدہ دہائیوں کے اسٹریٹجک تعاون کو ادارہ جاتی شکل دیتا ہے جبکہ دستخط کنندہ ریاستوں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور
معاشی تعاون کے لیے نئے راستے کھولتا ہے۔
ڈاکٹر نعیم نے کہا کہ
سعودی عرب کے لیے،
پاکستان زرخیز زرعی زمین، ہنر مند افرادی قوت اور طویل مدتی غذائی سیکیورٹی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
پاکستان کےلیے
سعودی عرب اس کے کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کا سب سے بڑا ذریعہ اور ایک اہم سرمایہ کاری پارٹنر بنا ہوا ہے۔
یہ معاہدہ خودکار طور پر جنوبی ایشیا میں فوجی توازن کو تبدیل نہیں کرتا اور نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ
سعودی عرب یا ترکیہ مستقبل میں کسی پاک
-بھارت تنازع میں خودکار طور پر حصہ لیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اجتماعی دفاعی عزم کا عملی دائرہ
کار کسی بھی بحران کے حالات اور معاہدے کی تعبیر و نفاذ پر منحصر ہوگا۔ اس کے باوجود یہ معاہدہ مشاورت اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کا ایک وسیع تر نیٹ ورک قائم کر کے
پاکستان سے جڑے فوجی تنازع کی سفارتی اور اسٹریٹجک قیمت کو بڑھا سکتا ہے۔
اسلام آباد کے لیے اس لیے وسیع تر مقصد کسی مخصوص تنازع کی تیاری کے بجائے ڈیٹرنس ہونے کا امکان ہے۔
پاکستان نے روایتی طور پر
سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے جبکہ دیگر اہم علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی کام کرنے کے تعلقات کو قائم رکھا ہے۔ یہ سہ فریقی ترتیب
پاکستان کی اسٹریٹجک پوزیشن کو مضبوط کر سکتی ہے اگر
اسلام آباد اس توازن کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ معاہدہ کسی مخصوص علاقائی بلاک کے ساتھ منسلک ہونے کے بجائے اجتماعی سیکیورٹی، دفاعی تعاون اور علاقائی استحکام پر مرکوز رہے۔ یہ معاہدہ ترکیہ کے لیے اپنے پڑوس سے آگے ایک آزاد سیکیورٹی اداکار کے طور پر کردار کو مزید مضبوط کرتی ہے۔